سندھ کا نئی کابینہ

(Riaz Aajiz, Karachi)
سندھ کی 17رکنی نئی کابینہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیاجن میں 9وزراء، 4مشیران اور 4معاون خصوصی شامل ہیں۔مشیروں اور معاون خصوصی کا درجہ بھی صوبائی وزیر کے برابر ہو گا۔سندھ کابینہ کے پہلے مرحلے میں شامل کئے جانے والے 9وزراء میں نثار احمد کھوڑو، مخدوم جمیل الزاماں ، سہیل انور خان سیال، جام خان شورو،ڈاکٹر سکندر میندھرو، جام مہتاب حسین ڈاہر، سید سردار علی شاہ ، مکیش کمار چاؤلہ اور خاتون وزیرشمیم ممتاز شامل ہے۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ان وزراء سے ہفتہ کی شام گورنر ہاؤس میں حلف لیا۔اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، ارکان سندھ اسمبلی بھی موجود تھے۔ حکومت سندھ کے جاری کردی نوٹیفکیشن کے مطابق مولابخش چاندیو، سینیٹر سعید غنی، مرتضیٰ وہاب اور اصغر جونیجو وزیراعلی سندھ کے مشیر ہونگے جبکہ معاونین خصوصی میں ڈاکٹر کھٹومل جیون، ڈاکٹر سکندر شورو، ارم خالد اور سید غلام شاہ جیلانی شامل ہیں۔ کابینہ کے ارکان کو قلمدان بھی دے دئیے گئے ہیں۔ نثار کھوڑو، خوراک وپارلیمانی امور، مخدوم جمیل الزماں ریونیو اورریلف، جام مہتاب حسین ڈ اہر تعلیم، ڈاکٹر سکندر میندھروصحت، سید سردار علی شاہ ثقافت، مکیش کمار چاولہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، سہیل انور سیال زراعت، جام خان شورو بلدیات اور شمیم ممتاز سماجی بہبود کی وزیر مقرر کی گئی ہیں جبکہ مولا بخش چانڈیو بدستور مشیر برائے اطلاعات ہونگے، سینیٹر سعید غنی مشیر برائے محنت، اصغر علی جونیجو مشیر برائے معدنیات و معدنی ترقی اور مرتضیٰ وہاب مشیر برائے قانون و اینٹی کرپشن ہونگے، معاونین خصوصی میں کھٹومل جیون کو اقلیتی امور، ڈاکٹر سکندر شور انفارمیشن ٹیکنالوجی، ارم خالد خواتین کی ترقی اور سیدغلام شاہ جیلانی کو اوقاف زکوۃ کو مذہبی امور کے قلمندان سونپے گئے ہیں۔بہت زیادہ اہمیت کی بات یہ ہے کہ سندھ کی نئی کابینہ میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں ہے اور نا اہل ترین وزیروں اور مشیروں کو بھی ایک مرتبہ پھر کابینہ میں رکھا گیا ہے تاہم وزراء اور مشیروں اور معاونین خصوصی کے قلمدان ضرور تبدیل کئے گئے ہیں جبکہ مشیران کے حوالے سے ایک خوشگوار تبدیلی یہ آئی ہے کہ مشیر برائے محنت اصغر جونیجو ، جو لیبر کے معاملات اور حالات کار سے بالکل نہ واقف تھے، ہٹا کر ان کی جگہ سینیٹر سعید غنی کو مشیر برائے محنت مقرر کیا گیا ہے تاہم اصغر جونیجو کو مشیروں کی فہرست سے نہیں ہٹا یا گیا ہے بلکہ ان سے اب معدنیات اور معدنی ترقی کے حوالے سے سرکاری خرچے پر مشورے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح مغدوم جمیل الزماں بدستور ریونیو کی منسٹری پر براجمان رہیں گے اور جام خان شورو بدستور بلدیات کے امور نمٹاتے رہیں گے یہی معاملہ وزارت قانون کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آیا کہ مرتضی وہاب اپنی سیٹ پر اسی طرح براجمان ہیں جبکہ مکیش کمار چاؤ لہ بھی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی وزیر کی حیثیت سے اسی طرح اپنی کرسی پر موجود ہیں ۔نثار احمد کھوڑو سے تعلیم کی وزارت لے کر انھیں خوراک کا وزیر بنا دیا گیا ہے اور اور ان کی جگہ جام مہتاب ڈاہر کو تعلیم کو وزیر مقرر کیا گیا ہے جبکہ صحت کی وزارت جو اس سے قبل جام مہتاب ڈاہر کے پاس تھی وہ اب ڈاکٹر سکندر میندھرو کی دے دی گئی ہے۔سندھ کی موجودہ کابینہ میں ایک دو چہرے نئے بھی ہیں تاہم اکثریت پرانے وزیروں اور مشیروں یہاں تک کے معاونین خصوصی سے بھر ی ہوئی ہے۔سندھ کے نئے وزیراعلی بڑی بڑی تبدیلیوں کے بہت دعوے کر رہے ہیں لیکن وہ میچ پرانی ٹیم اور پرانے کھلاڑیوں کے ساتھ ہی کھیل رہے ہیں جس سے کسی بڑی تبدیلی یا انقلاب کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یہاں یہ بات بھی بہت زیادہ اہم ہے کہ سندھ کی نئی کابینہ میں ایک مرتبہ پھر بااثر افراد کو ہی جگہ ملی ہے جبکہ وزارت تبدیل کر کے صرف وزراء ، مشیران اور معاونین خصوصی کا ’’گیٹ اپ ‘‘ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے کسی انقلاب کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ نثار کھوڑوجو خود وزارت اعلی کے امیدوار تھے انھیں ایک مرتبہ پھر سندھ کابینہ کے محض ایک وزیرکی حیثیت سے کام کرنا پڑے گا اور دل کے تمام ارمان دل ہی کے اندر دبانے پڑیں گے جبکہ سہیل انور سیال کی خیر ہو کہ جن سے اب وزارت داخلہ کا قلمدان واپس لے کر انھیں زراعت کی وزارت دے دی گئی ہے جبکہ ان کی اپنی وزارت یعنی وزارت داخلہ کے حوالے سے تا حال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا یعنی یہ وزارت وزیراعلی مراد علی شاہ صاحب نے اپنے پاس ہی رکھی ہے۔ یا د رہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان اس سے قبل بھی کافی عرصے تک سابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے اپنے پاس ہی رکھا تھا۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر سوال یہی ہے کہ جب سندھ کی نئی کابینہ میں کچھ تبدیل نہیں ہوا تو صرف وزیر اعلی کے بدلنے سے کیا ہوتا ہے اور وہ بھی بیچارے وزیراعلی بننے کے بعد لاڑکانہ یاترا کے بعد دبئی یاترا کے لئے پہنچ گئے ہیں۔ پارٹی کی اعلی ترین اور فیصلہ کن قیادت سے ہدایات لینے کے بعد مراد علی شاہ پیرسے کراچی میں دوبارہ اپنا کام شروع کریں گے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40380 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے