سائبر کرائم بل

(Malik Abdul Rehman Jami, Abbotabad)
ایوب خان کے زمانے میں یہ قصہ کسی نے گھڑا اور پھر آج تک یہ کسی نہ کسی حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔بھارت اور پاکستان کے بارڈر پہ دو کتے آپس میں ملے۔ایک پاکستانی تھا تو دوسرا بھارتی۔پاکستانی ملک چھوڑ کے بھارت جا رہا تھا اور بھارتی پاکستان میں بس جانے کا ارادہ کر کے آیا تھا۔ایک دوسرے کا ارادہ جان کے دونوں حیرت زدہ تھے۔پاکستانی کہنے لگا یار یہاں راتب بہت ہے۔صاف پانی بھی ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سہولیات ہیں اگر نہیں ہے تو بھونکنے کی آزادی نہیں ہے اور اسی آزادی کی تلاش میں میں نے اپنا وطن تک چھوڑ دینے کا سوچ لیا ہے۔بھارتی کتے نے یہ بات سنی تو کہنے لگا ہمارے ہاں بھونکنے پہ کوئی قدغن نہیں البتہ پیٹ پوجا کے لئے کچھ مہیا نہیں۔میں تو راشن کی تلاش میں یہاں آیا ہوں۔

پھر حالات بدلے بھارت نے اپنوں کتوں کے راتب کا بندوبست کر لیا اور انکے بھونکنے پہ بھی کوئی پابندی نہ لگائی۔جب کہ پاکستان میں ایک جانب راتب (کتوں کے لئے مخصوص کھانا) میں کمی آ گئی اور پاکستانی کتے جو پہلے بھونکنے کے لئے بھارت جایا کرتے تھے اب راتب کے لئے بھی بھارت کی طرف دیکھنے لگے۔کئی تو ایسے بھی تھے جن کا کھاجا وہاں سے آتا تھا جسے کھا کے وہ پاکستان پہ بھونکا کرتے تھے۔راتب کم ہوا تو بھونکنے پہ لگی پابندی بھی خود ہی دم توڑ گئی۔ یہ علامتی کہانی تھی۔سمجھنے والے شاید اس وقت بھی سمجھ گئے تھے لیکن اب بے زبان بلکہ بد زبان کتوں کے مسموم سے مکالمے پہ مقدمہ کیسے بنتا۔اس طرح کا کوئی مقدمہ اگر قائم بھی کر دیا جاتا تو سرکاری عمال کے لئے عجیب صورِ حال پیدا ہو جاتی تھی۔نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔سب جانتے بوجھتے وہ اپنا مؤقف کہیں خود سے بیان کرتے تو نکو بنتے۔

جب سے الیکٹرانک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کی جگہ لی ہے اورور سماجی رابطے کی ویب سائیٹس نے آزادیِ اظہار کو نئی جہتیں اور رفعتیں عطا کی ہیں،لگتا ہے پوری قوم شاعر ہے ادیب ہے تجزیہ نگار ہے۔ایسے ایسے نکات پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔دوسری طرف جھوٹ کا ایک طوفان ہے جو ان سائیٹس پہ بپا ہے۔پراکسی وارز لڑی جا رہی ہیں۔لوگوں کی تصاویر کو فوٹو شاپ کر کے کیپشن میں وہ وہ کچھ لکھا جا رہا ہے کہ الحفیظ و الاماں۔سیاسی کارکن تو خیر اب عنقا ہوئے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوں کی تربیت کا کوئی پروگرام ہی نہیں رکھتیں۔اب بے سمت جوان ہیں جو دلیل سے نہیں گالی سے بات کرتے ہیں۔پہلے یہ لوگ صرف گالیاں لکھا کرتے تھے اب ا ٓڈیو ریکارڈ کر کے بھجواتے ہیں۔اسمیں کوئی شک نہیں کہ آزادیِ اظہار پاکستان میں اس وقت بلند ترین سطح پہ ہے لیکن یہ آزادی اب نہ صرف ریاست کے لئے بلکہ عوام کے لئے بھی آئے دن کا عذاب بن گئی ہے۔سوشل اور الیکٹرانک میڈیا ہی کی لن ترانیاں کم نہ تھیں کہ موبائل کے ذریعے بھی رہی سہی کسر نکالی جا رہی ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پہلے میرے ہر دوسرے روز بائیس ہزار نکلا کرتے تھے اب مہنگائی الاؤنس کے طور پہ دو سو روپیہ بڑھا دیا گیا ہے۔

آزادی سے بڑھ کے کوئی نعمت نہیں اور پھر لکھنے پڑھنے بولنے سیکھنے کی آزادی۔وہ آزادی جو دوسروں کی زندگی جہنم بنا دے اس کی بھی لیکن کسی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔اﷲ کریم نے بھی انسان کو پیدا کیا تو حدود مقرر کر دیں اور پھر فرمایا ان حدوں کے قریب نہ آنا۔حضرت آدم علیہ السلام کے لئے دانہِ گندم حد تھی۔آج اس حد کو توڑنے کی پاداش میں اولاد ِ آدم جوتم پیزار اور ذلیل وخوار ہے۔

خدا لگتی یہ ہے کہ میں نے یہ مضمون سائبر کرائم بل کی مخالفت میں لکھنا شروع کیا تھا کہ اس سے آزادیِ اظہار پہ قدغن ہو گی۔لوگ جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہہ نہیں پائیں گے۔تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ جائیں گی۔پھر حکمران اس بل کو انتقامی ہتھیار کے طور پہ استعمال کر سکیں گے۔یہ بھی خدا لگتی ہے کہ جوں جوں اس موضوع پہ میں غوروفکر کرتا گیامجھ پہ یہ عقدہ کھلا کہ ابھی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پہ ہو رہا ہے اس کے آگے بند نہ باندھا گیا تو اس ملک میں کسی کی عزت محفوظ نہیں ہو گی۔کسی کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہو گی۔برے لوگوں کو دنیا کے سامنے لانا چاہئیے لیکن یہ نہیں کہ جس کے بارے جو آیا کہہ دیا۔جو ملا چھاپ دیا۔ہمارے یہاں تو ایسے ایسے بدبخت بھی موجود ہیں کہ آقائے دوجہاں سرورِ عالم ﷺ کے نام پہ بھی جعلی مواد اپلوڈ کرنے سے باز نہیں آتے۔دین کی ایسی ایسی تشریحات اور توجیہات بیان کی جاتی ہیں کہ لگتا ہے اب سوشل میڈیا پہ جتنے اکاؤنٹ ہوں گے فرقے بھی اتنے ہی ہوں گے۔میڈیا کے اس طوفان نے ساری روایات کا سارے رواجوں کا ثقافت کا تجارت کاحتیٰ کہ پیار محبت تک کا مفہوم بدل کے رکھ دیا ہے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ قانون سازی سے فقط اس مسئلے کا کوئی حل نکلنے والا نہیں۔کیا ہماریہاں غیرت کے نام پہ قتل کے بارے قانون نہیں؟تیزاب پھینکنے کے کریہہ اور ظالمانہ عمل کے تدارک کے لئے کوئی قانون نہیں؟دہشت گردی کے خلاف کتنے سخت قوانین ہم نے بنائے لیکن کیا اسے ختم کر پائے؟کرپشن بدعنوانی رشوت ستانی پہ بھی ہمارے ہاں قوانین کی بھرمار ہے لیکن کیا ہم نہیں جانتے کہ ماتحت عدلیہ کرپشن اور رشوت ستانی کا گڑھ ہے جہاں عدالت کے مہتر سے لے سب سے اونچی کرسی پہ براجمان شخص تک ہر ایک بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا ہے۔قانون نے ان کا اب تک کیا بگاڑا ہے؟قانون بنانا بجا لیکن اس حوالے سے قوم کی تربیت ضروری ہے۔ایک اتھارٹی بنائی جائے جو عوام کو تنبیہ کرے۔انفرادی اور اجتماعی طور پہ لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔عوام کو بتایا جائے کہ ریاست کی مخالفت اور حکومت کی مخالفت میں کیا فرق ہے۔

یہاں لیکن کوئی قانون اثر پذیر نہیں ہو سکتا کہ حکمران ایک جانب اپنے ہی ساتھیوں سے قومی اداروں کو گالی دلواتے ہیں اور دوسری جانب کسی اور ساتھی کو ان کے دفاع کا اشارہ کر دیتے ہیں۔ایسے میں لوگ کسی کا نام کیوں لیں گے۔دہی بھلے کھانے جائیں گے اور دنیا سب سمجھ لے گی۔پانامہ کی سیر کو جائیں گے لیکس کی پھر کیوں بات ہو گی۔تربیت حضور تربیت اور نہائت خلوص سے ورنہ
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Abdul Rahman jami

Read More Articles by Malik Abdul Rahman jami: 283 Articles with 162975 views »
I am from Abbottabad presently living at Wah.I retired as Lt Col from Pak Army. I have done masters in International Relation and Political Science. F.. View More
16 Aug, 2016 Views: 737

Comments

آپ کی رائے