تجسس

(Shahid Shakeel, Germany)
ماہر نفسیات کا کہنا ہے تجسس انسان کے خیالات ، علم ،سوچ اور تجربے میں اضافہ کرتا اور خوشی کے ساتھ ساتھ طویل عمر تک زندہ رہنے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے،قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دنیا میں اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ اگر انسان تجسس میں مبتلا ہو کر غیر ارادی طور پر دوسرے انسانوں کی زندگی یا عوامل میں تانک جھانک کرے گا ،ٹوہ میں رہے گا ،حرکات و سکنات کا بغور اور گہری نظروں سے مطالعہ کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے جاہلانہ حرکت سمجھ کر تلخ کلامی کے مواقع ہموار کرنا سمجھا جائے گا ،مثلاً کوئی فرد اپنے موبائل پر ٹیکسٹ لکھتا ہے تو اضطراری یا لاشعوری میں یعنی تجسس میں آکر موبائل پر نظر پڑے تو تلخ کلامی کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے کہ کیا دیکھ رہے کیا کبھی موبائل نہیں دیکھا وغیرہ یا کسی نے قیمتی گھڑی یا چشمہ پہن رکھا ہو تجسس پیدا ہوتا ہے کہ کہاں سے خریدی گئی وغیرہ ایسے حالات میں ایک طرف اگر ایک انسان کا سر غرور سے تن جاتا ہے تو دوسری طرف تجسس میں مبتلا ہو کر دوسرا انسان احساس کمتری محسوس کرتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے چونکہ ہر انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اسلئے کچھ لوگ ایسے حالات واقعات کو للچائی نظروں سے دیکھتے اور کچھ سراسر درگزر کرتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ جانکاری حاصل کرنے کا دوسرا نام تجسس ہے،بچوں میں تجسس ایک قدرتی عمل ہے جبکہ بالغ افراد اس عمل کو سیکھتے ہیں اور کئی افراد خوفزدہ بھی رہتے ہیں کہ تجسس پسندی انہیں کہیں نقصان نہ پہنچائے،مثلاً اگر کسی کی تنخواہ میں زیادہ کٹوتی کی گئی تو وہ مالک سے براہ راست بات نہیں کرے گا ،اگر ہمسایہ نے قیمتی کار خریدی ہے تو تجسس قائم رہے گا لیکن بات نہیں ہو گی یا ہمسایہ کے کسی سے بہت قریبی مراسم ہیں تو کوئی سوال نہیں کیا جاتاوغیرہ۔ تجسس کی کئی اقسام ہیں لیکن یہ ایک بنیادی جبلت ہے اور علم کے ساتھ ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے،دنیا بھر میں ہر انسان تجسس پسند ہے کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جس سے انسان غیر ارادی طور پر سیکھتا ہے اور ممکنہ طور پر اپنی غلطیوں کی اصلاح بھی کرتا ہے مثلاً دوسروں کی دیکھا دیکھی دھیمی رفتار سے کار ڈرائیو کرنا،کھانے کے دوران چند گھونٹ پانی پینا،دوران گفتگو مکمل بات سننا اور ختم ہونے پر سوال جواب کرنا ،بچوں پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنے کی بجائے انکی حوصلہ افزائی کرنا وغیرہ۔تجسس کے بغیر دنیا نامکمل ہے تجسس کے بدولت ہی سائنس نے ترقی کی ہے تجسس نہ ہوتا تو نہ کوئی مشین ایجاد ہوتی اور نہ انسان چاند تک جاتا،نہ دیگر ہزاروں زبانوں پر عبور حاصل ہوتاوغیرہ،ایسے بھی کہا جا سکتا ہے کہ تجسس کی بدولت ہی انسان کی سماعت اور بصارت ایکٹوو ہوتی اور رہتی ہے۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے اکثر بچوں کو وارننگ دی جاتی ہے کہ کیا دیکھ رہے ،کبھی کچھ دیکھا نہیں یا اتنے زیادہ سوال مت کرو وغیرہ لیکن بچے ہر نئی اور انجانی شے کو دیکھتے ہی تجسس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور آج کے اس سائنسی دور میں بچوں کے علاوہ تقریباً ہر انسان نئی شے کو دیکھ کر حیران و پریشان ہوجاتا ہے ،یہ ایک نارمل اور ترقی کی راہیں ہموار کرنے کے اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے لیکن انحصار اس بات پر کیا جاتا ہے کہ انسان کس ماحول میں زندگی بسر کر رہا ہے اور ارد گرد کے دیگر افراد تجسس کو کس نگاہ یا سوچ سے دیکھتے ہیں اور کیسا رویہ اپناتے یا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے تجسس میں رہنا کامیابی کی پہلی سیڑھی اور مثبت عنصر ہے کیونکہ تجسس سے انسان سیکھتا ہی نہیں بلکہ کئی تجربات بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں جو زندگی میں زیادہ مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں ،ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ متجسس افراد اکثر زیادہ خوش رہتے ہیں امریکی پروفیسر کا کہنا ہے دوہزار سینئیر افراد جن کی عمریں ساٹھ سے اسی سال کے درمیان تھیں ان پر ریسرچ کی گئی اور مطالعے سے ظاہر ہوا کہ ان میں زیادہ تر تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا،مختلف بیماریوں میں مبتلا اور رسک سے بھرپور زندگی گزارنے کے باوجود اسلئے صحت مند ہیں کہ متجسس رہنے کے عمل سے لائف کوالٹی میں اضافہ ہوا مثلاً ایک ہی قسم کا کھانا کھانے کے بعد کسی نامعلوم غذا کا انتخاب کیا گیا اور تجسس میں رہے کہ کھانا کیسا ہو گا یا ہر سال سپین ،فرانس اور اٹلی میں چھٹیاں گزارنے کی بجائے ترکی یا مراکش کا انتخاب کیا گیا اور تجسس نے انہیں مزید قوت بخشی اور صحت مند رہنے کے ساتھ ساتھ طویل عمر بھی۔ماہرین کا کہنا ہے تجسس کا مطلب لالچ ہر گز نہیں بلکہ انسان کا ذہن ہر لمحے کسی نئی شے کی کھوج میں رہتا ہے اور پالینے کی خواہش رکھتا ہے ،کبھی اس کو چیلنج سمجھتا ہے اور کبھی در گزر کرتا ہے اور ایسے حالات واقعات سے تجربات حاصل کرتا ہے اوریہ بھی چاہتا ہے کہ اسکی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ دماغی خلیات اتنی تیز رفتاری سے سرکولیشن کرتے ہیں جنہیں یکجا کرنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا اور کئی بار سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اٹل فیصلے بھی کئے جاتے ہیں یہ تمام عوامل تجسس پسندی میں شمار ہوتے ہیں، اسلئے انسان اگر تجسس پسند ہے تو وہ نارمل ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Shakil

Read More Articles by Shahid Shakil: 250 Articles with 159572 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2016 Views: 550

Comments

آپ کی رائے