نقل اصل سے بہتر

(Adnan Farid, )

میر ے آج کے کالم کے عنوان سے قارئین ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ میں آج کا کالم فو ٹو کاپی کے حوالے سے لکھ رہا ہوں۔ کیونکہ اکثر فوٹو کاپی شاپس پرلکھا ہوتا ہے کہ نقل اصل سے بھی بہتر ۔یعنی ان کی فوٹو کاپی کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ لیکن میر ا کالم آ ج بہت ہی سنجیدہ موضوع پر ہے جس کا تعلق جعلی ادویا ت سے ہے۔کبھی کبھار مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلوگن (slogan جعلی ادویات کی کمپنیوں کیلیے بنا ہے۔ یا ان کمپنیوں نے فوٹو کاپی شاپس کے سلوگن (slogan) کو بھی چر ا لیا ہے۔ کیونکہ یہ کمپنیاں بھی جعلی ادویا ت کی پیکنگ ایسے کرتی ہیں کہ ان کے سا تھ اگر اصل دوا بھی رکھ دی جائے تو جعلی دوا پیکنگ کے حوالے سے اصل سے بہتر محسوس ہوگی ۔ مزے کی بات ہے کہ بڑے سے بڑے ڈاکٹرکیلیے بھی اس جعلی دوا کی پہچان مشکل ہے۔ تو عا م آدمی جعلی دوا کی پہچان کیسے کر سکتا ہے؟

پاکستان کے عوام پر بھی اﷲ تعالی کا بہت کرم ہے کہ ہمیں تھوڑا سا سخت جان پیدا کیا ہے تاکہ ہم معاشرے میں پائی جانیوالی سختیوں کو جھیل سکیں ورنہ جیسے حالات ہم لوگوں نے اپنے لیے پیدا کردئیے ہیں تو یہا ں لوگوں کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ جو پانی ہم پینے کیلئے استعمال کرتے ہیں و ہ اتناصاف نہیں ہے کہ اسے پینے کیطور پر استعمال کیا جا سکے۔ اسی لیے ہیپاٹایٹس کی بیماری ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے۔ سونے پر سہاگہ کہ ہمیں گدھے سے لیکر نہ جانے کس کس چیز کا گوشت کھلایا جا رہا ہے ۔ جبکہ دودھ میں بہت ہی خطرناک قسم کے کیمیکل ملا کر ملاوٹ کی جا رہی ہے۔ جس کیوجہ ہما رے معاشرے میں بیماریا ں عام ہوتی جا رہی ہیں ۔جب علاج کی باری آتی ہے تو جعلی ادویات آڑے آجا تی ہیں جو انسان کو صحت یاب کرنے کی بجائے مزید بیماریا ں لاحق کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

میں جب بھی میڈیکل سٹور سے ادویات کی خریداری کرتا ہوں تو ادویا ت کی تاریخ ضرور چیک کرتا ہوں کہیں کسی دواکی حتمی تاریخ تو نہیں گزر گئی ۔ کیونکہ ہمارے بس میں اتنا ہی ہے کہ ہم تاریخ ہی چیک کر پاتے ہیں ۔ اس سے زیادہ معلوما ت ہمیں مہیا نہیں کی جا تی ہیں۔ لیکن کیا صر ف ادویا ت کے اوپر لکھی تاریخ چیک کر لینا کافی ہے ؟ یقینا آپ سب لوگوں کا جوا ب نہ میں ہو گا کیونکہ اس سے بالکل پتہ نہیں چلتا کہ یہ دوا اصل ہے یا نقل؟ اسی لیے میں جب بھی کوئی دوا خریدتا ہوں تو میں اسکی تاریخ تو چیک کر لیتا ہوں لیکن میرے ذہن میں یہی سوال گردش کرتا ہے کہ کیا یہ دوا اصل ہے؟ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل پایا ۔ یقینا میر ی طرح ہر عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال ضر ور اٹھتا ہوگا۔ کیا آپ لوگوں کو کبھی اس سوال کا جواب ملا؟

میں نے بہت سوچا کہ ہم جیسے عام لوگوں کو کبھی اس سوال کا جواب مل پائے گا؟ بہت سوچنے کیبعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمیں اس سوال کاجواب ضرور مل سکتا ہے ۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر عام آدمی کو اس سوال کا جواب مل گیا تو جعلی ادویات بنانے والوں کا دھندہ بھی بند ہوجائے گا۔ اب جعلی ادویا ت بنانے والے کوئی عام لوگ تو ہیں نہیں ۔اسی لیے اس سوال کا جواب ہمیں نہیں ملتا۔ اب آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کونسا طریقہ ہے کہ جس سے ہمیں اس سوال کا جواب بھی مل جائے اور جعلی ادویات کا دھندہ بھی بند ہو جائے۔؟

آپ لوگوں نے یہ مقو لہ تو ضرور سنا ہوگا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اگر صحت کی وزارت چاہے تو عوام کو یہ پتہ چل سکتا ہے کہ یہ دوا اصل ہے کہ نقل ۔جس سے عوام کو نقل اور اصل دو ا کا پتہ بھی چل جائے گا اور جعلی ادویات کا دھندہ بھی خود بخود بند ہوجائے گا ۔ جس کا براہ راست فائدہ عوام کو اور اصل ادویہ ساز کمپنیوں کو پہنچے گا۔ کیونکہ عوا م کو اصل ادویات تک رسائی ممکن ہوجائے گی جبکہ جعلی ادویہ ساز کمپنیوں کے بند ہونے کیبعد اصل ادویہ ساز کمپنیوں کی فروختsale)) میں اضافہ ہو گا ۔

آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ وزارت صحت کے چاہنے سے یہ سب کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ تو سنیے وزارت صحت اگر میر ی اس تجویز پر عمل کر لے تو جعلی ادویہ ساز کمپنیوں کے خلا ف کوئی ایکشن لیے بغیر ہی انہیں اپنا دھندہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ وزارت صحت کو صر ف یہ کرنا ہو گا کہ ساری رجسٹرڈ ادویہ ساز کمپنیوں کو پابند کرے کہ ہر دوائی پر اس کا سیریل نمبر اور اسکے نیچے ایک خفیہ کوڈ لکھیں جیسے کہ موبائل فون کے کارڈز پرسکریچ بار کے نیچے درج ہوتا ہے۔ ان ساری ادویات کے ڈیٹا بینک کا لنک وزارت صحت کی ویب سائیٹ پر دے دیا جائے۔ جہاں سے ان ادویات کی تصدیق کی جا سکے ۔ اس طرح ہم جو بھی دوا خریدیں گے تو اسے ہم آسانی کیساتھ وزارت صحت کی ویب سائٹ پر دوا کا سیریل نمبر اور خفیہ کوڈ ڈال کر اس کی تصدیق کر پائیں گے کہ یہ دوا اصل ہے یا نقل۔ جس دن بھی وزارت صحت نے یہ کام کر دیا تو اسی روز جعلی ادویا ت کی کمپنیاں دم توڑ دیں گیں اور ہمیں ہمارے سوال کا جواب بھی مل جائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adnan Farid

Read More Articles by Adnan Farid: 3 Articles with 1227 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Aug, 2016 Views: 660

Comments

آپ کی رائے