شرپسند عناصر کی ساز باز یا بلوچستان کی تحریک ِ آزادی

(Maemuna Sadaf, )
بلوچستان ، ارض ِوطن پاکستان کا رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے ۔ یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ انواع و اقسام کے قدرتی خزانے اپنے اندر سموئے ہوئے یہ زمین دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے چاہے وہ افغانسان ہو ، بھارت ہو ، امریکہ ہو یا پھر ایران ۔ بلوچستان میں مختلف قبائل آباد ہیں ۔ ملک کی آزادی کے وقت بلوچ قبائل نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا خصوصا خان آف قلات نے تحریک ِ پاکستان کو کامیاب بنانے کے لیے قائد اعظم کی مالی امداد بھی کی اور نوزائیدہ ملک کے لیے بھی اپنا سرمایہ صرف کیا ۔ اسی دولت کی بدولت پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوگیا۔ صرف یہی نہیں بھارت سے ہونے والی جنگوں میں بلوچوں نے نہ صرف اپنے وفاق کا عملی ساتھ دیا بلکہ انھوں نے حکومت پاکستان کی مالی امداد بھی کی ۔

کچھ نام نہاد محقیقین اور مفکرین کا کہناہے کہ بلوچستان میں مسلح شرپسند نہیں بلکہ بلوچستان میں آزادی کی تحریک چلائی جا رہی ہے تو میں یہاں یہ وضاحت کرتی چلوں کہ آزادی کی تحریکوں میں خودکش دھماکے نہیں کیے جاتے ، کوئی بھی تحریک آزادی مسلح گرہوں کے ذریعے نہیں چلائی جاتی ، نہ ہی تحریک آزادی میں ملکی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے ۔ ان شرپسند عناصرکی گوادر پورٹ پر چینی کارکنوں کے خلاف کاروائی اس بات کی غماز ہے کہ یہ جو لوگ بھی ہیں، ملکی یا غیر ملکی یہ بلوچستان کی ترقی سے خائف ہیں اور نہیں چاہتے کہ اس صوبہ میں بھی بیرونی سرمایہ کاری ہو یا یہاں کے لوگوں کو باعزت روزگار حاصل کرنے کا موقع دیا جائے ۔مقبوضہ کشمیر ، یا فلسطین کی تحریک آزادی ہی کو مثال لیجئے ، اس قسم کی کاروائیاں صرف اور صرف وہاں ہوتی ہیں جہاں ملک دشمن عناصر ، اس ملک کی ترقی کی راہ میں حائل ہونا چاہتے ہوں ۔ اگر یہ کوئی تحریک آزادی ہوتی تواسے عوام کی تائید حاصل ہوتی لیکن ایسانہیں ۔ عوام کی جانب سے کسی قسم کی کو ئی ریلی ، جلوس نہیں نکالا گیا اور نہ ہی کبھی کسی سرکاری دفتر میں کوئی یاداشت پیش کی گئی ۔

بلوچستان میں تحریک آزادی کی آڑ میں کام کرنے والے عناصر کو بھارت کی کھلی تائید حاصل ہے ۔بھارتی میڈیا بلوچستان میں ہونے والے شرپسند عناصر کی کاروائیوں کو پوری دنیا کے سامنے تحریک ِ آزادی بنا کر پیش کر رہا ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف ِ عمل ہے ۔ بھارتی میڈیا بلوچستا ن کو ایک مقبوضہ علاقہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے جو کہ سرا سر غلط ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی میڈیا کا دعوی ہے کہ اگر بھارت بلوچستان کا ساتھ دیتا تو آج بلوچستان بھارت کا حصہ ہوتا ۔اس طرح کی کئی وڈیوز آپ کو یو ٹیوب پر باآسانی مل جائیں گی۔یہ ایک ایسا پراپو گنڈا ہے جس کا مقصد دنیا کی نظروں کو کشمیر سے ہٹا کر بلوچستان کی جانبمبذول کرا دینا ہے ۔پاکستان کے انتظامی اداروں کے خلاف لڑنے والے یہ شرپسند پاکستان کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کر دینا چاہتے ہیں ۔ اس قسم کے انٹرویوز ، خبریں آپ کو صرف اور صرف بھارت میڈیا میں دیکھائے جائیں گے ۔عالمی میڈیا میں نہ تو ایسی کوئی خبر موجود ہے اور نہ ہی تحریک آزادیء بلوچستان کا کوئی وجود ہے ۔ بھارت کی بلوچستان میں دراندازیوں اور بلوچستان میں شرپسندوں کی عملی امداد کا اندازہ براہم داس بگٹی کا وہ انڑویو سے لگایا جا سکتا ہے جس میں اس نے بھارت کے میڈیا ، بھارتی حکومت، بھارت کی فارن پالیسی اور عوام کی امداد کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا ہے۔ اس نے بھارت کے دو بڑے اداکاروں شاہ رخ خان اور امیتاب بچن کو بلوچستان پر فلم بنانے کی دعوت دی ہے ۔یہاں تک کہ براہم داس بگٹی کا کہنا یہ تھا کہ بنگلہ دیش کی طرز پر بلوچستان کی بھی امدادکی جائے اور اسی انٹرویو میں اس نے بھارت کی حالیہ امداد کا شکریہ بھی ادا کیا ۔

بھارت کے وزیر ِ اعظم نریندر مودی کا بیان جس میں انھوں نے کہا ہے کہ بھارت بلوچستان کی آزادی کے لیے لڑنے والوں کا ساتھ دے گا ۔بھارتی وزیر اعظم ہی کے ایک اور بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اب بلوچستان اورآزاد کشمیر میں ہونے والے مظالم کا جواب دینا ہو گا ۔اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے لیے ایک مضموم سازش کی جا رہی ہے جس میں بھارت کا اہم کردار ہے اور بلوچستان کے عوام کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔بھارتی وزیر ِاعظم کے بیانات کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے گئے ، ریلیاں نکالی گئی ۔ خصوصا چمن میں باب ِ دوستی کی جانب مارچ کیا گیا ، ڈیرہ مراد جمالی میں قومی شاہراہ پر دھرنا دیا گیا ، نوشکی ، ڈیرہ بگٹی ، قلات ، پنجگوراور دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی گئی ، ترنگا اور نریندر مودی کے پتلے نذرِآتش کئے گئے ۔ یہ احتجاج نام نہاد تحریک آزادی کے خلاف تھا ۔اس کے علاوہ بلوچستان کے عوام کا جذبہ حب الوطنی چودہ اگست کو نکالی جانے والی ریلیوں ، بنجر پہاڑوں پر سبز ہلالی پرجم کی پینٹنگز سے کیا جا سکتا ہے ۔ملک کی بقاء کے حق میں نکالی جانے والی ریلی بلوچستان کے عوام کے جذبات کی عکاس ہے ۔اگرچہ کچھ بلوچ راہمنا ملک کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں تاہم ان کے بیانات کا عوام کے جذبات سے کوئی تعلق نہیں ۔پاک فوج اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے ان راہنماؤں کو یہ بات یاد رکھنے چاہیے کہ بلوچستان اگر احساس محرومی کا شکار ہے تو اس میں ان کا اپنا کردار اسی فی صد تک ہے کیونکہ انھیں فنڈز ، حکومت ، سب کچھ باقی صوبوں کی طرح حاصل ہے ۔ اگر وہ بلوچستان کے لیے اپنی ذاتیات سے ہٹ کر کام کر یں، یہاں کے خزانوں کو زمین سے نکال کر اس صوبے کی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں ۔صوبے میں ترقیاتی کام شروع کئے جائیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ صوبہ بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے ۔اگر اس صوبے میں بھی روزگار کے مواقع موجود ہو ں تو کوئی سادہ لوح بلوچ روزی روٹی کی خاطر ان شرپسند عناصر اور تنظیموں کا آلہ کا ر نہ بنے اور نہ ہی کوئی خود کش حملے کے لیے تیار ہو۔

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح افواج ِ پاکستان ان شرپسند عناصر کے خلاف جنگ اور ان عناصر کی سرکوبی کے لیے مستعدی سے کوشاں ہے ۔ شرپسند عناصر کی سرکوبی کے لیے کی کئی کوششوں میں ان گنت فوجی جوان شہادت کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں جن میں سے بلوچستان کے کم اور دیگر صوبوں کے فرزند وں کی تعداد زیادہ ہے ۔ بلوچستان میں حالت کو بہتری کی جانب لانے کے لیے ضروری ہے کہ افواج ِپاکستان ، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ سیاسی عناصر بھی اس صوبے کی جانب خصوصی توجہ دیں ۔ امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے ۔ ملک کے خلاف بیانات دینے سے گریز کیا جائے ۔ بلوچستان کے نام پر سیاست نہ کریں بلکہ اس صوبہ کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں ۔سیاست میں حب الوطنی کو نہ بھولا جائے ایسے تمام بیانات سے گریز کیا جائے جن سے شر پسند عناصر کو تقویت ملے۔یاد رکھیے !دشمن کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو اندرونی طور پر اس حد تک کمزور کر دیا جائے کہ وہ اپنی سرحدوں کی جانب سے غافل ہو جائے اور ایسے وقت اگر اپنے ہی ملک کے خلاف بولنے لگیں گے تو فائدہ باہر حال دشمن اٹھائیں گے ۔

یہ امر روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی بھی شرپسند یا دہشت گرد گروہ اس وقت تک اپنی کاروائیوں میں کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ عوام اس کا ساتھ نہ دیں اور بلوچستان کے عوام پاکستان کا حصہ ہیں ۔ بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنے کی سوچ ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maemuna Sadaf

Read More Articles by Maemuna Sadaf: 165 Articles with 92766 views »
i write what i feel .. View More
22 Aug, 2016 Views: 368

Comments

آپ کی رائے