نریندر مودی ، اندرا گاندھی کے نقشِ قدم پر۰۰؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
ایسا محسوس ہوتا ہیکہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سابق ہندستانی وزیر اعظم انجہانی اندرا گاندھی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں ۔ نریندر مودی نے 70 ویں جشنِ یوم آزادی ہند کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان، گلگت اور مقبوضہ پاکستانی کشمیر کے مسئلہ کو چھیر کر پاکستان کو حیرت زدہ ہی نہیں بلکہ دھمکانے کی کوشش کی ہے تاکہ پاکستان آئندہ ہندوستانی کشمیر کے مسئلہ پربے جامداخلت نہ کریں۔وزیر اعظم ہند کے خطاب کے بعد سینئر کانگریسی قائد و سابق مرکزی وزیرخارجہ خورشید عالم نے کہاکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ہمارا حق ہے اور ہم اس کی تائید کرتے ہیں لیکن بلوچستان کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ہمارے موقف کو کمزور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعہ پاکستان کو ہندوستان کو نشانہ بنانے کا ایک اور ہتھیار مل جائے گا ۔ انہو ں نے مودی کی جانب سے بلوچستان کے تذکرہ کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اپنے ملک کی سرحدیں اور یہاں کے عوام محفوظ رہیں۔ سلمان خورشید کے اس بیان کے بعد کانگریس نے انکے اس بیان کو لا تعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی شخصی رائے ہے۔ کانگریس کے اس موقف سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بھی اندرونی طور پر وزیر اعظم ہند کے بیان کی تائید کررہی ہے۔

لال قلعہ سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت کے عوام نے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔وزیر اعظم ہند نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے گن گائے جاتے ہیں اور وہاں کی حکومت دہشت گردی کے نظریے سے متاثر ہے۔ یہ خطاب ایک ایسے وقت کیا گیا جبکہ ایک روز قبل ہی پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کے جشن آزادی کے موقع کو ہندوستانی کشمیریوں کی آزادی کے نام معنون کیا تھا ۔ پاکستان کی یوم آزادی پر قوم کے نام اپنے پیغام میں نواز شریف نے کہا کہ ’’اہل کشمیر کی نئی نسل نے نئے جذبے کے ساتھ آزادی کا علم اٹھایا ہے۔ میں اس سال 14؍ اگست کو ان اہل کشمیر کے نام کرتا ہوں جنہوں نے ریاستی جبر کا مقابلہ کیا مگر آزادی کے جذبے کو زندہ رکھے ہوئے ہے‘‘۔

نریندر مودی نے نوجوانوں کو تشدد کی راہ ترک کرنے کا مشورہ تو ضرور دیا ہے لیکن جموں و کشمیر کی تازہ اور کشیدہ صورتحال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ہندوستان اور پاکستان میں کسی بھی دہشت گردانہ اور خودکش حملہ کے بعد دونوں ممالک کی حکومتیں ، اپوزیشن جماعتیں یا میڈیا خصوصاً الکٹرانک میڈیا کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں اور عوام کوحکمراں یہ بھروسا دلاتے ہیں کہ انکا دشمن کوئی اور نہیں بلکہ پڑوسی ملک ہے اس طرح ایک دوسرے پر الزامات عائد کرکے اپنے اقتدار کو بچانے کی کوشش ہوتی ہے۔ پاکستانی حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے بلوچستان میں ہندوستانی حکومت اور ہندوستانی انٹلی جنس سرویس (را) کے خلاف الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں کہ وہاں پر ہندوستانی حکومت اور را کی مداخلت اور اُکسانے پر بلوچ علحدگی پسند تحریکیں سرگرم عمل رہ کر صوبہ بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ادھرہندوستانی حکومت اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہندوستانی کشمیر میں پاکستانی حکومت اور عسکریت پسند تنظیموں کی وجہ سے کشمیری علحدگی پسند تحریکیں کشمیر کی آزادی کیلئے دہشت گرادانہ ماحول بناتے ہیں۔ ہندوستانی حکومت اورہم ہندوستانی عوام کشمیر کو ملک کا اٹوٹ حصہ مانتے ہیں اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یگانگہت کے طور پر انکے حقوق کی پاسداری اور نوجوانوں پر فوجی و سیکیوریٹی ایجنسیوں کی جانب سے بے رحمانہ کاررائیوں اورظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔ کشمیر کا مسئلہ ہویا آسام و پنجاب اور ٹامل کی علحدگی کامسئلہ یہ ملک کا اندرونی معاملہ ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے ہندوستانی حکومت بہتر اور مؤثر کارروائی کرنا جانتی ہے لہذا کسی بھی پڑوسی ملک کو اس کے اندرونی معاملہ میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ۔ عالمِ اسلام کی گذشتہ چند برسوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عراق، افغانستان، شام، یمن وغیرہ میں بیرونی مداخلت کی وجہ سے دہشت گردی کا آغاز ہوا ، دہشت گرد تنظیموں کا وجود عمل میں آیا اور آج یہ دہشت گرد تنظیمیں بین الاقوامی سطح پر عوام اور ان حکمرانوں کا جینا حرام کررکھے ہیں۔ مغربی و یوروپی حکمرانوں نے عالمِ اسلام کے ممالک پر حملے کرکے جو غلطی کی ہیں اس کا احساس ان ممالک کے حکمرانوں اور عوام کو ہوچکا ہے جس کا اظہار سابق امریکی صدر بش، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر و دیگر ظالم حکمرانوں اور سابقہ فوجی افسروں نے خود کیا ہے ان حکمرانوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہیکہ آج مشرقِ وسطی میں القاعدہ، النصرہ فرنٹ، دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) ، طالبان وغیرہ دہشت گردانہ حملے کررہے ہیں۔

گزشتہ کئی روز سے ہندوستانی کشمیر کے حالات انتہائی خراب ہیں ، کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے کئی افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ 12؍ اگسٹ کو کشمیر میں بگڑتے حالات پر قابو پانے اور کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کو معمول پر لانے کے لئے نئی دہلی میں ایک کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان بھول جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں پر جنگی طیاروں سے بمباری کرتا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو بھی بلوچستان اور اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کے لئے جوابدہ بنایا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت دستور ہند کے بنیادی اصولوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی پابند ہے اور وزارتِ خارجہ کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جائے۔ کانگریس کے سینئر قائد غلام نبی آزادی جو کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور کانگریس کے دور میں مرکزی کابینی وزیر رہ چکے ہیں انہوں نے اس موقع پر کہا کہ تمام پارٹیوں نے حکومت کو یقین دلایا ہیکہ حالات کو بہتر بنانے اور قومی سلامتی کے لئے وہ جو بھی مثبت قدم اٹھائی گی اس میں وہ حکومت کا ساتھ دیں گی۔اس سے قبل پارلیمان میں کشمیر پر بحث کے دوران حکومت نے کہا تھا کہ اب پاکستان سے صرف کشمیر کے اس حصے کے بارے میں بات چیت ہوگی جو اس کے قبضے میں ہے۔
کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں وہاں کے عوام کا بہت بڑا عمل و دخل رہتا ہے کیونکہ ملک کی ترقی کا انحصار ہر اعتبار سے عوام کی خوشحالی و رہن سہن کے طریقوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ ملک میں معاشی استحکام لانے میں جہاں تک حکمراں کو گردانہ جاتا ہے اور اس میں حقیقت بھی ہے کہ ایک اچھے حکمراں کی یہ پہچان ہوتی ہیکہ وہ اپنے عوام کی تعلیم و تربیت ، روزگار، بہتر صحت مند زندگی فراہم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات بجالاتاہے اور ایسے ہی حکمراں کامیابی سے اقتدار پر فائز رہ کر عوام کی مزید خدمت کرسکتے ہیں۔ ملک میں بدامنی، لوٹ مار، چوری، ڈکیتی، غنڈہ گردی ،قتل و غارت گیری اوردہشت گردی کا ماحول اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب ملک میں ناخواندگی عام ہوجائے ، معاشی بدحالی میں بے تحاشہ اضافہ اوراسی سے عوام کی مثبت ذہنی و فکری صلاحیتں معدوم ہوجاتی ہیں او رملک ترقی کے بجائے انحطاط پذیری کی جانب رواں دواں ہوجاتا ہے ان حالات میں سیاسی مقاصد کی بجا آوری کے لئے منفی فکر رکھنے والے سیاست داں اور قائدین عوام کا غلط استعمال کرکے ملک میں انتشاری کیفیت کو مزید پروان چڑھاتے ہیں اور بڑے بڑے حکمرانوں کا جینا حرام کردیتے ہیں یہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر عوام کی زندگی میں اجیرن بنائے دیتے ہیں۔ آج بین الاقوامی سطح پر خصوصاً مشرق وسطیٰ ، پاکستان، افغانستان اور ہندوستانی ریاستوں کے بعض حصوں میں تعصب پرست، فرقہ پرست، مسلک کی بنیاد پر شر پھیلانے والوں سے عام زندگی تباہ و برباد ہوتی جارہی ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران مشرقِ وسطی اور دیگر ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں بے قصور عوام ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوچکے ہیں۔ شام، عراق، افغانستان، پاکستان ، یمن، مصر وغیرہ کے حالات سے کون واقف نہیں ہے۔ ہندو پاک کی حکومتیں بھی آزادی ہند اور تقسیم پاکستان کے بعد سے ایک دوسرے پر مختلف الزامات کے تحت عوام کی زندگیوں میں زہر گھولتے رہے ہیں کبھی پاکستانی حکومت ، فوج اور اپوزیشن، ہندوستانی حکومت اور فوج کے خلاف، ہندوستانی کشمیر کے مسئلہ پر آواز اٹھاتے ہوئے علحدگی پسند تحریکوں کا ساتھ دے کر، کشمیر کے حالات کو بگاڑنے کوشش کرتے رہے ہیں اور کشمیری نوجوان جب علحدگی پسند تحریکوں کی آواز پر سڑکوں پر نکلے تو ہندوستانی فوج اور سیکیوریٹی ایجنسیوں کی ظلم و بربریت کا شکار ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ کشمیریوں کے حقوق کے لئے ہندو پاک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ماضی میں بات چیت کے مراحل طے پائے اور کئی دور مذاکرات کے چلے لیکن آخری موقع پر جبکہ بات چیت اختتامی مراحل میں مثبت پیشرفت کی صورتحال اختیار کررہی تھی عین اس موقع پر بعض الکٹرانک میڈیا اور اپوزیشن کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ عمل دخل نے ان مذاکرات کو ناکام بنادیا۔ اور آج بھی بات چیت کے مراحل طے کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کوششیں کبھی کامیاب ہوں پائیں گی؟کیونکہ پاکستانی حکمراں ہندوستانی کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے ہیں تو ہندوستانی حکمراں بلوچستان، گلگت، پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو چھیڑ کر اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔دونوں ملکوں کے حکمراں ہوں یا علحدگی پسند تحریکوں کے قائدین وہ تو خوشحال زندگی گزارتے ہیں ۔ ان تحریکیوں کے قائدین کو نظر بند یا جیل بھیجا جاتاہے اور وہ شائد وہاں آرام سے رہتے ہونگے لیکن جو پولیس، فوج اور دیگر سیکیوریٹی ایجنسیوں کی فائرنگ اور ظلم و بربریت کا شکار ہوتے ہیں وہ بے قصور نوجوان ہوتے ہیں جو ان نظر بند قائدین کے کہنے پر سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔آج کشمیر میں بھی ان تحریکوں کے قائدین نظر بند ہیں اور ہلاک ہونے والے نوجوان ہیں۔

اسی طرح پاکستانی صوبہ بلوچستان، ماضی میں کئی مرتبہ تنازعات کا شکار رہا ہے۔ 1948,1958-59,1962-63,1973-77کے علاوہ سب سے شدت والا تنازعہ 2003میں شروع ہوا۔ اس تنازعہ میں شدت یوں بتائی جاتی ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان میں قانون و نفاذ کا مسئلہ رہا جس کے پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔افغانستان جنگ نے نہ صرف پاکستانی بلوچستان بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں خاص کر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔بتایا جاتا ہے کہ شدت کی ایک وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے عدم توجہ بھی ہے ۔ یہاں کے عوام کا خیال ہے کہ پاکستانی وفاقی حکومت چھوٹے صوبوں کی طرف توجہ نہیں دیتی۔ جبکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ قدرتی وسائل فراہم کرنے والا خطہ ہے لیکن پھر بھی سب سے زیادہ پسماندگی اور غربت بلوچستان میں بتائی جاتی ہے۔یہی وجہ بتائی جاتی ہے کہ بلوچستان میں علحدگی پسندوں اور تحریک کالعدم طالبان کی جانب سے دہشت گردانہ حملے کئے جاتے ہیں ، بلوچ ری پبلکن آرمی کو پاکستان اور برطانیہ دونوں نے ایک دہشت گرد کالعدم تنظیم قرار دیا ہے، بلوچ ری پبلکن آرمی نے گذشتہ دہوں کے دوران دہشت گردانہ حملے کئے ہیں جن میں بہت بڑی تعداد میں معصوم بچے، نہتے شہری، فوجی اور پولیس کے عہدیدار مارے گئے ۔گذشتہ دنوں کوئٹہ کے ہاسپٹل میں کئے گئے بم دھماکے نے پاکستانی حکومت اور فوج کی ساکھ کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔

ایک طرف پاکستان حکمراں ہندوستانی کشمیریوں کے لئے ملک کی آزادی کو معنون کرتے ہیں تو دوسری جانب ہندوستانی وزیر اعظم بلوچستان، گلگت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کے تعلق سے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے میرا(وزیراعظم نریندر مودی) اور بھارتی قوم کا شکریہ ادا کیا ہے اس پر میں مشکور ہوں وزیر اعظم بلوچستان کا حوالہ دے کر حساب برابر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پاکستانی وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے نریندر مودی کی اس تقریر کے بعد کہا کہ مودی کشمیر کی المناک صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں، مسئلہ کشمیر گولیوں سے حل نہیں ہوسکتا، سنجیدہ مذاکرات ضروری ہے ۔ خیر ہندوستانی کشمیر ہو یا پاکستان صوبہ بلوچستان، گلگت و مقبوضہ پاکستانی کشمیر ان سب کے مسئلہ کا حل بیرونی مداخلت سے نہیں بلکہ اندرونی طور پر مذاکرات کے ذریعہ حل ہوسکتا ہے۔ علحدگی پسند تحریکیں ہوں یا حکومتیں عوام کی جان ومال کی حفاظت سب سے اہم ہے اگر بے قصور عوام پر ظلم و بربریت ڈھایا گیا تو کسی صورت میں کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جس کی مثال عالمی سطح پر ہم دیکھ رہے ہیں لہذا ہندوستانی حکومت ہو یا پاکستانی حکومت ، میڈیا و اپوزیشن ہو یا علحدگی پسند تحریکیں ملک کی سلامتی و خوشحالی کے لئے مثبت سوچ وفکر کے ساتھ قدم بڑھائیں تو ترقی ممکن ہے ورنہ ۰۰۰
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 261 Articles with 102131 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2016 Views: 435

Comments

آپ کی رائے