ہمارا پاکستان کیسا ہو ؟

(Abida Rahmani, Karachi)
پاکستان کے متعلق ایک خواب ایک تمنا کاش کہ شرمندہ تعبیر ہو جائے۔۔
انسانی فطرت ہے وہ جسے چاہتا ہے اسے اپنی تمام برائیوں اور کمزوریوں کے ساتھ قبول کر لیتا ہے ۔ بسا اوقات سدھار کی تمام ترکیبیں بےکار چلی جاتی ہیں اور وہ سوچتا ہے چلو جیسا بھی ہے ، ہے تو میرا اپنا ، جیتا رہے سلامت رہے ۔۔

کچھ یہی حال ہمارے وطن پاکستان کا ہے ۔۔بسا اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس وطن عزیز کا ہر ڈھب نرالا ہے ہر چال بے ڈھنگی ہے ،پر اسمیں بے چارے وطن کا کیا قصور؟ یہ تو زمین کا وہ عزیز ٹکڑا ہے جسے دردمند دلوں اور اہل علم و دانش نے ہمارے لئے حاصل کیا ہے ۔۔

در اصل بے ڈھنگی چال اور بے ڈھب طریقہ کار ہمارے اس مقتدر وطن کے کرتا دھرتاؤں کا،اسکے رہنماؤں کا اور اسکے سیاہ سفید پر قابض گروہ کا ہے ، جنکی خود عرضانہ اور احمقانہ پالیسیوں کی بدولت یہ ملک بجائے ترقی کے تنزل کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔۔ میں نے اس ملک کو ناگفتہ بہ حالات میں چھوڑا لیکن میرا تعلق اسکے ساتھ اتنا ہی مضبوط ہے کہ ہر برس کئی ماہ وہاں پر بسر ہوتے ہیں اور پل پل کی خبروں سے آگا ہی ہوتی ہے ۔ہزاروں میل دور ہوتے ہوئے بھی ہمارا دل اور ذہن اسی میں اٹکا ہوتا ہے ۔اب تو ذرائع ابلاغ کی فراوانی ہوگئی ہے اور ہمیں مختلف ذرائع سے تازہ ترین خبریں مل رہی ہوتی ہیں اور پھر وہی حال ہوتا ہے کہ خوشی اور مسرت کی خبریں جانفزا لیکن سانحے دم کھینچ لیتے ہیں ۔

دوسرے ممالک کی ترقی دیکھ کر خیال ٓأتاہے کہ کاش پاکستان بھی اسی طرح کا ہوتا۔۔عدل و انصاف ، خوشحالی، امن ، سکون ، چین کا راج ہوتا ۔۔بھائی بھائی کا گلا نہ کاٹتا ، مذہبی رواداری ہوتی ، چوری ڈکیتی کا نام و نشان نہ ہوتاہر ایک کی عزت محفوظ ہوتی ،چوری ڈکیتی، بد امنی کا نام و نشان نہ ہوتا۔ خواتین کی قدر و منزلت ہوتی ، محافظ ادارے صاف اور شفاف ہوتے ۔۔
بقول احمد ندیم قاسمی ۔۔
خدا کرے کہ میرے ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔۔

پاکستانی عوام کافی باشعور ہیں سیاسی ، فنی اور اقتصادی شعور سے مالا مال ہیں ، جو ان پڑھ ہیں انکا بھی تجربہ اور ادراک لا جواب ہے ۔ ہر شخص اظہار رائے رکھتا ہے ۔۔ ایک طبقہ جاگیر دارانہ نظام کے تحت اب بھی مجبور اور محکوم ہے لیکن انکا شعور بھی رفتہ رفتہ اجاگر ہو رہا ہے ۔۔
پاکستان کے عظیم مسائل اور انکا حل۔۔
۱۔ قرآن و سنت اور شریعت کی بالا دستی
۲۔ مذہبی رواداری اور تحمل
۳۔ بدعنوانی ، اقربا پروری اور رشوت خوری کا خاتمہ
۴- دہشت گردوں اور مجرموں کا قلع قمع
۵۔قابل اور صالح قیادت
۶۔۔توانائی کے بحران کا حل
۷۔ مضبوط دفاع اور استحکام

۱-- قرآن و سنت کی بالا دستی
یہ قطعہ زمیں مسلمانوں کے لئے جدا گانہ مملکت کے طور پر حاصل کیا ہے اسلئے اسلام یہاں کا اور اکثریت کا دین ہے ۔۔اسلامی شریعت کو صحیح طور پر اجتہاد کے ساتھ رائج کیا جائے تو اسلامی نظام کے عدل و انصاف کے تقاضے بہتر طور پر پورے ہو سکینگے ایک روشن خیال اسلامی مملکت عالم اسلام کی رہنمائی بھی بہتر طریقے سے کر سکتی ہے اور اپنے ملک میں بھی خوشحالی اور امن و امان پوری طرح سے بحال کر سکتی ہے ۔انتہا پسندی کے بجائے پاکستان کو ایک معتدل اسلامی معاشرہ بنایا جائے ۔جو بنیادی طور پر پاکستان کی تہذیب و ثقافت بھی ہے ۔۔

۲-- مذہبی رواداری اور تحمل
تمام اقلیتوں اور دیگر فرقوں کو بھی اپنے مذہبی فرائض پورے کرنیکی آزادی ہونی چاہئے اور وہ بے خوفی سے اس مملکت خداداد کے باشندے بن کر رہیں اور اپنے فرائض انجام دیں ۔۔بات بے بات اس قتل و غارت گری نے پاکستان کی جڑيں کھوکھلی کر دی ہیں ۔ کسی کو بھی زبردستی مسلمان نہ بنایا جائے ، اقلیتوں پر اس خطہ زمین میں زندگی محال نہ کی جائے۔مملکت کے تمام باشندے ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں ۔یہی ہمارے قائد کا اعلان تھا اور خواب تھا۔
بدعنوانی ، اقربا پروری ر رشوت خوری کا خاتمہ

بدعنوانی میں پاکستان کا شمار شروع کے دس ممالک میں ہوتا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل شرم و رحم ہے ۔

بد عنوانی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کئی حکومتی ملازمین نے اسکو ایک طرح سے جائز قرار دیا ہے اور دھڑلے سے رشوت ستانی کا بازار گرم ہے ۔ ایک مسلمان کو دیانتداری کا بہترین نمونہ ہونا چاہئے۔
دہشت گردوں اور مجرموں کا قلع قمع۔

بد ترین دہشت گردی کا قلع قمع ہو جائے اور ملک میں امن و امان اور خوشحالی کا راج ہو ۔ ہر طرح کے جرائم کی سرکوبی ہو تو عام آدمی چین ہی چین لکھے گا ۔ یہ ماحول ہر پاکستانی کا خواب ہے ۔ دہشت گردی اور جرائم کے تدارک کے لئے فوج اور پولیس کے شعبے پوری طرح سر گرم ہیں اور بے پناہ قربانیاں دے چکے ہیں ۔حالات پہلے کی نسبت کافی بہتر ہیں لیکن اچانک قتل و غارت گری کا ایک بڑا واقعہ ہو جاتاہے اور لوگوں کا اطمینان پارہ پارہ ہو جاتاہے ۔۔
قابل اور صالح قیادت و رہنمائی۔۔
یہ شق اوّل نمبر پر آنی چاہئے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ

تیسری دنیا کے اکثر بدعنوان لیڈروں کی طرح پاکستان کی قیادت و رہنماؤں کی دولت سمیٹنے کی بھوک حد سے تجاوز کر چکی ہے ۔خفیہ طور پر بیرون ملک دولت کا اخراج ، سرمایہ کاری اور ناجائز بنک اکاؤنٹ رکھ کر بری طرح بدنام ہو چکے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔

کاش کہ یہ تمام دولت پاکستان واپس آجاتی تو کتنے مسائل حل ہو جاتے۔ ایک صالح ، مدبر اور دیانتدار سیاستدان پاکستان کی ترقی کے لئے اشد ضروری ہے۔انتخابی اور احتسابی عمل کو جاری رہنا چاہئے اسی طرح نااہل حضرات کا احتساب بھی ہو سکتا ہے ۔

توانائی کے بحران کا حل
توانائی کا بحران پاکستان کے بڑے بحرانوں میں ایک ہے اسکی وجوہات میں بھی سیاسی بدعنوانی ،متعلقہ اداروں کی بد انتظامی اور بد معاملگی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،جبکہ پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے اسکے متبادل عوامی سطح پر ڈھونڈے جارہے ہیں جبکہ یہ بھی حکومتی سطح پر ہونے چاہئں۔۔

مضبوط دفاع اور استحکام
پاکستان کا دفاعی نظام بظاہر کافی مضبوط ہے ایٹمی صلاحیت سے مالا مال ہے دفاع پر بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ ہو رہاہے پاک فوج کو ملک میں بالا دستی حاصل ہے ۔لیکن بھارت سے مسلسل بر سر پیکار رہنے کی بنا پر دفاعی نظام ملک کے استحکام کے لئے اشد ضروری ہے۔۔
جہاد افغانستان اور۔ اسکے بعد دہشت گردی نے پاکستان اور اسکی معیشت کو بے حد متاثر کیا ہے ۔
آخر میں یہ دعا ہے احمد ندیم قاسمی کے اشعار میں ۔۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

(احمد ندیم قاسمی )
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abida Rahmani

Read More Articles by Abida Rahmani: 195 Articles with 165336 views »
I am basically a writer and write on various topics in Urdu and English. I have published two urdu books , zindagi aik safar and a auto biography ,"mu.. View More
24 Aug, 2016 Views: 503

Comments

آپ کی رائے