پاکستانی سیاست اورسیاستدان۔۔۔!!

(جاوید صدیقی, کراچی)
سیاست برائے امن، سیاست برائے مصلحت، سیاست برائے فلاح، سیاست برائے حکمت، سیاست برائے دانائی، سیاست برائے انصاف، سیاست برائے حقیقت، سیاست برائے سچائی، سیاست برائے ترقی، سیاست برائے استحکام، سیاست برائے اتحاد،سیاست برائے یقین، سیاست برائے تنظیم ، سیاست برائے صبر،سیاست برائے برداشت، سیاست برائے انکساری، سیاست برائے عاجزی، سیاست برائے جرات، سیاست برائے شجاعت، سیاست برائے مدبرانہ سوچ یہ سب کچھ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہیں!! یہ تمام خواص اعلیٰ ہمیں حقیقت زندگی میں بطور رہنمائی اورمشعل راہ آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ سے ملتا ہے ،آپ ﷺنے عمل کرکے اپنی زندگی میں نہ صرف مسلمان بلکہ بنی نوع انسان کو سیکھایا کہ ریاست میں حاکم کس طرح سیاست کا کردار ادا کرے اور نظام ریاست کو کس طرح چلائے،آپ ﷺ دنیا بھر کے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین رہنما، لیڈر ہیں ،آپ کی رہنمائی میں ہی کامیابی ہےپھر کیوں ہم دین سے دور، شراب و شباب میں مست سیاسی رہنماؤں کو اپنا لیڈر جنون کی حد تک ماننے لگے ہیں ، کیا ہمارے ایمان مرچکے یا ہمیں برین واش کردیا گیا ہے، با تو حال یہ ہے کہ ہر قوم نے اپنے لیڈروں کو خدا سمجھتے ہوئے پوجنا شروع کردیا کہاں کا دین کہاں کا رب۔۔!! استغفراللہ ! استغفراللہ !استغفراللہ !بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستانی قوم جہالت کی انتہا کو پہنچ چکی ہے ، ہندوں، یہودیوں کے بچھائے جالوں میں جوق در جوق پھنستی چلی جارہی ہے ، کسی کو احساس ہی نہیں کہ پاکستان ان سیاسی ڈراموں، سیاسی شطرنج کے کھیل سے کس قدر متاثر ہورہا ہے ،یہاں کی تجارت، ترقی اور سماجی سرگرمیاں کس قدر متاثر ہوگئیں ہیں، حکمرانوں نے سمجھ لیا ہے کہ مینڈیٹ کا رونا رو کرجو چاہیں اس ملک میں کرتے چلے جائیں ، غداروں،منافقوں ، کرپشن اور دہشتگردی کی ہوا کو ختم نہ ہونے دیں کیونکہ پر امن پاکستان میں خوف کی فضا ختم ہوجائے گی اور سیاسی دکانیں بند ہونے کا خطرہ ہے پھر کیونکر سیاسی جماعتیں چاہیں گی کہ پاکستان مستحکم اورمضبوط ہو۔!! افسوس صد افسوس ہماری قوم بہت بھولی اور سادہ ہے انہیں ابھی تک احساس نہیں کہ پاکستانی سیاست کس رخ پر چل رہی ہے اور ہماری قوم ابھی تک شعور سے عاری نظر آرہی ہے ،سیاسی لیڈران کے مگرمچھ آنسو ؤں کو بھانپ نہیں پائی، ہر بار ان کی چالوں میں آجاتی ہے ، اس قوم کا مستقبل کبھی بھی روشن نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے لیڈران کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ اپنے مفادات،خواہشات کو پورا کرنے کیلئے دشمنان پاکستان کے مشن کو پورا کرنا ان کا مقصد اولین ہے جو چاہے پاکستان اور ریاست پاکستان کے خلاف بکواس کرتا پھرتا ہے انہیں خوف اس لیئے نہیں کیونکہ یہ اکثریت میں ایک ہیں اور ایوان ایسے غداروں کی موجودگی میں کوئی قانون پر عمل نہیں ہوتا ،آرٹیکل سکس ان منتخب ممبرانوں پر لگتا ہے جن کے لیڈران و حکمران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے کوئی خوف نہیں رکھتے، کسی بھی کمزور ریاست میں ایسے عوامل سب سے زیادہ نظر آتے ہیں ، وہ قوم جو حب الوطنی سے عاری ہوجائیں انہیں ایسے لیڈروں کی بکواس ،بکواس نہیں لگتی اور قوم ان کے الفاظ اور اعمال پر چپ سادھ لیتی ہے!! یاد رکھیئے ! وقت مقررہ پر اگر سخت اقدامات نہ کیئے گئے تو پھر بعد کے اقدامات کی اہمیت زائل ہوجاتی ہے ، ایسے کتنے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں براہ راست حکمرانوں کی ذمہ داریاں تھیں لیکن ذاتی مفادات کے سبب یہ سب سیاسی جماعتیں اور با اختیار حکمران اقدامات کرنے سے باز رہے!! کراچی میں سانحہ فیکٹری میں مارے گئے تین سو سے زائد انسانی جانیں ہوں یا ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس گردی کے سبب ہلاکتیں!!محمود خان اچکزئی کی ریاست پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ہو یا ایم کیو ایم کے قائد کی پاکستان خلاف بیانات!! ان تمام عوامل پر عوام اور حکمرانوں کی خاموشی ،عوامی شعور اور حکمرانوں کی ذاتی مفادات و ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے یا پھر حکمرانوں کی حب الوطنی پر شک۔!!ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب پاکستان کے بارے میںمعمولی سے بات اگر کسی کے منہ سےغیر دانستہ طور پر نکل جاتی تو عوام اس کی زبان گدی سے نکال لیا کرتے تھے لیکن اب عوام کی بے حسی نظر آتی ہے!! حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم نےپریس کلب کے سامنےاپنے مطالبات کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ، بھوک ہڑتالی کیمپ کے چھٹے روز ایم کیو ایم پاکستان کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کی موجود گی میں قائد تحریک ایم کیو ایم نے لندن سے ٹیلیفونک خطاب کیا اس موقع پر نوجوانوں کیساتھ ساتھ خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک تھی ، اپنے خطاب میں قائد تحریک نے نہ صرف پاکستانی اداروں کے سربراہوں کو برا بھلا کہا بلکہ پاکستان کے خلاف وہ کچھ کہا جورا، موساد چاہتے تھے نازیبا الفاظ استعمال کیئے جو آئین پاکستان کے مطابق غداری کے زمرے میں آتا ہے، قائد تحریک نے اپنے خطاب کے اختتام پر میڈیا ہاؤس پر حملہ کرنے کا عندیہ بھی دے ڈالا، بس پھر کیا تھا کہ ہڑتالی کیمپ میں موجود کارکنان اشتعال میں آگئے کچھ کارکنان نے سما کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ ایک بڑی تعداد نے اے آر وائی نیوزکراچی کے بیورو آفس صدر پر چڑھائی کرکے دفتر کے سامان کو توڑ پھوڑ کرکے برباد کردیا اور ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا، یہ عمل پون گھنٹے تک مسلسل جاری رہا ، اے آر وائی نیوز کے بیورو آفس کے نیچے مین شاہراہ پرجلاؤ گھیراؤ کا عمل بھی کرتے رہے، میڈیا ہاؤس بلخصوص اے آر وائی نیوز بیورو کے حملے کو پاکستان کے تمام چینلز نے براہ راست نشر کیا۔دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پزیر کسی بھی ملک میں آزادی صحافت پر قدغن نہیں لگایاجاتا ہے سوائے بھارت اور پاکستان کے۔۔!! بھارت جو انتہائی جھوٹا، منافق،دھوکے بازہے وہ کسی طور اپنی میڈیا تو درکنار بیرون ملک کی میڈیا کو بھی مقبوضہ کشمیر سمیت صحافتی فرائض کو انجام دینے کی اجازت نہیں دیتا، بھارت کی کسی بھی ریاست میں عوام کیساتھ ظلم و بربریت ہو وہاں کی حکمراں جماعت اور خفیہ ایجنسی را کیجانب سےچھاپے کے احکامات جاری کیئے جاتے ہیں یہی حال اسرائیل کا بھی ہے،بھارت اور اسرائیل کے نقش قدم پر یا یوں کہ لیجئے کہ ان کے آلہ کار کے طور پر پاکستان بھر میں سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور کارکنان نے اپنی کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں کئی جماعتوں کے لیڈران ملک سے باہر رہتے ہیں انہیں کیونکر ریاست پاکستان کی بھلائی کی فکر ہو اور جو ہیں وہ لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں !!
عجب تماشا ہے یہاں پر زندگی کا
ہردوسرا رہنما پھرتا ہے دشمنوں کا
اپنے لیڈر کی ہرزہ سرائی ہونے پر
بضد کرتا ہےدلیل ،رہنماکی سچائی کا
(شاعر:جاوید صدیقی)

ایک طرف توپاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور ان کے رفقائے کار کور کموڈور زچاہتے ہیں کہ پاکستان میں مخلص ،سچے ، ایماندار سیاستدان برسر اقتدار پر فائز رہیں دوسری جانب بد کردار،بے حیا، بے شرم لیڈران پاکستان اور قومی خذانے کو مسلسل نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں اورتو کچھ سہولت و معاون کار ہونے کے سبب دہشتگردوں کا سہارا بھی بننے ہوئے ہیں پھر کیوں ہماری فورسس کی ان کے متعلق آنکھیں کیئے ہوئے ہیں ، ہمارے لیئے سب سے پہلے پاکستان ہے اور پاکستان کی بقا و سلامتی سب سے بالاتر ہے۔۔دنیا کی پہلی صف میں کھڑی ہونے والی ذہین، بہادر، قابل پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور آئی بی ایسے عناصر کی تمام تفصیلات رکھنے کے باوجود کیوں خاموش ہیں۔۔۔؟؟ وہ عناصر جو اقتدار پر فائز ہونے کیساتھ ساتھ بھارت، اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ اینجسیوں کی معاونت کرتے ڈرتے نہیں تو ایسے عناصر کو کیوں آزاد ہیں۔۔؟؟ ہماری افواج کیساتھ میٹنگ کرکے ہمارے راز جان کر غیروں کو بتایا جاتا ہے۔۔!! قوم اپنے کرپٹ سیاستدانوں، حکمرانوں سے تنگ آچکی ہے، قوم چاہتی ہے کہ ایسی حکومت بنائی جائے جس میں تمام مخلص ،سچی اور حب الوطنی جماعتوں کی ترجمانی رکھتے ہوئے ایک ٹیکنو حکومت بنائی جائے اور ہر سیاسی جمعت کو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے عوام الناس کی فلاح و بہبود کیلئے مصروف رکھا جائے، مثبت سیاست کو پروان چڑھایا جائے اور منفی سوچ کا خاتمہ کرکے ملک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے بہتر سے بہتر اقدامات کیئے جائیں اور ہر اقدام میں ملک و قوم کے فوائد کو اولین ترجیح دی جائے دوسرے الفاظ میں پاکستان کی ریاست کو فلاحی ریاست بنادیا جائے۔۔!! آئین میں کسی ایک کی کلی اختیار کا خاتمہ کرکے ایوان کو مضبوط کیا جائے تاکہ بر سر اقتدار آنے والے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل میں اندھے نہ ہوسکیں۔۔!! معزز قائرین۔۔!! پاکستان میںکئی ایسی قومیں ہیں جن کے بنیادی حقوق سلب کیئے گئے ہیں ان میں جنوبی پنجاب کے رہنے والے سرائیکی زبان والے لوگ جنہیں آج تک صوبہ نہیں دیا گیا جبکہ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے انتخابات سے قبل وعدے کیئے تھے کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ سرائیکستان بنایا جائیگا جو آج تک عمل میں نہیں لایا گیا۔اسی طرح ہزارہ کے رہنے والوں کا کئی دھائیوں سے مطالبہ رہا ہے کہ ہزارہ کو صوبہ بنایا جائے اور انتظامی امور میں اختیارات دیا جائے ان کے ساتھ بھی وعدے کیئے گئے میں عمل نہیں کیا۔۔۔ بلوچستان میں بھی پشتو اور بلوچوں کے مابین حقوق کی جنگ چلی آرہی ہے جسے انتظامی سطح پر علیحدہ کرکے اس مسلہ کو بھی حل کیا جانا چاہیئے جو آج تک نہیں ہوا۔۔سندھ میں دو بڑی قومیں آباد ہیں ایک سندھی دوسرا اردو بولنے والے مہاجر۔مہاجروں کیساتھ بھی استحصال کیا جاتا رہا ہے اسی سبب سندھ کی سیاسی صورتحال ابتر رہی ہے، اگر سندھ میں اردو بولنے والے مہاجرکیساتھ بھی انصاف و عدل کیساتھ حقوق کا احترام کیا جاتا تو ممکن ہے سندھ میں آئے روز سیاسی صورتحال اس قدر خراب ہوتی نہیں۔سندھ میں ایم کیو ایم کیساتھ ساتھ ایم کیو ایم حقیقی اور اب پی ایس پی بھی مہاجروں کے حقوق کیلئے اپنی اپنی کوششیں پیش کررہی ہیں لیکن آج تلگ کچھ نہ ہوا۔۔!! معزز قائرین! ہماری قوموں کو با اختیارسیاستدانوں، حکمرانوں نے از خود جان بوجھ کر مسائل اور الجھنوں میں گھیر رکھا ہے، یہ با اثر شخصیات چاہتی تو کوئی دقعت نہیں تھی کہ ان مسائل کو حل نہ کیا جاتا لیکن افسوس اور حیرت اس بات کی ہے کہ ہر قوم کے لیڈروں نے صرف اپنی قوم کو بے وقوف ہی بنایا ہے لیکن اب وہ نہیں رہا زمانہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے اس بابت اگر حکمرانوں اور اسٹبلشمنٹ نے پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے بہتر مثبت قدم نہیں اٹھایا تو ممکن ہے ہمارا دشمن مزید ہمارے خلاف کمر بستہ ہوجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی ان قوموں کو بھی ان کا جائز حق دلانے کیلئے قانون اور آئین میں فی الفور تبدیلی کی جائے۔ !! انشا اللہ ہم سب ایک قوم ہیں ، یکجا ہیں اسی لیئے ہمیں ایک دوسرے قوم کیلئے ایثار و قربانی کے جذبات کو قائم رکھنا ہوگا ہمارے اس عمل سے روشن اور تابناک پاکستان ابھرے گا انشا اللہ ضرور بلضرور۔۔۔!!!اللہ ہم سب کا حامی و ناظر رہے آمین ثما آمین!!! پاکستان
زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 160397 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Aug, 2016 Views: 776

Comments

آپ کی رائے