شکریہ پاکستان

(Tanveer Hussain, )
اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر اس نے ہمیں پاکستان جیسا پیارا ملک عطا کیا وہ بھی 27 رمضان المبارک جیسی عظیم و بابرکت شب میں۔ دراصل ہمیں پاکستان کا مثبت پہلو نہیں دکھایا جاتا نہ ہی ہم دیکھنے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں،ہماری نظر صرف منفی اور مایوس کن پہلو پر زیادہ ہوتی ہے،جبھی تو ہم بات بات پر شکوے شکایات شروع کر دیتے ہیں جو کہ انتہائی نا مناسب بات ہے،اکثر و بیشتر یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ․․․․․․․․․․․․․․․․اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟ اب کس بات کا جشن مناتے ہو؟ آزادی مجھے اور آپ کو کہاں ملی؟ یہ ملک ہمارا نہیں یہ تو حکمرانو ں کا ہے۔ تھر میں لوگ مر رہے ہیں،وزیرستان میں لوگ بے گھر ہیں، تم کس منہ سے آزادی کا جشن مناتے ہو۔ شاہد یہ ناشکری کا نتیجہ ہی ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں بے بہا نعمتیں ہونے کے باوجود ہم لوگ استفادہ حاصل نہیں کر پا رہے۔ ہم اپنے اردگر د نگاہ ڈالیں تو ہمارے بہت سے جاننے والے لوگ جو اسی ملک میں رہتے ہیں انہوں نے معاشی اور علمی اعتبار سے بہت ترقی کی، جن کے خاندان میں ناظرہ قرآن پڑھانے والے اکا دکا ہوتے تھے آج وہاں ماشاء اﷲ حافظ قرآن اور پی ایچ ڈی سکالرز پاے جاتے ہیں،جن کی موٹر سائیکل خریدنے کی استطاعت نہیں تھی آج وہ اور انکی اولاد گاڑیوں پر گھومتی پھرتی ہیں،جو پیاز کے ساتھ روٹی کھایا کرتے تھے آج وہ انکی فیملی مشہور و معروف ہوٹلز میں لنچ و ڈنر کرتی نظر آتی ہیں، الغرض اکثریت نے اسی ملک میں رہ کر ترقی کی،سواے چند نکمے اور کام چور وں کے، لیکن پھر بھی ہر دوسرے شخص کی زبان پر یہی جملہ دھرا رہتا ہے اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے،غربت،تنگی،نا انصافی،بے روزگاری، کساد بازاری کا رونا رونے والوں کو خبر نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں کیسے کیسے ظلم دھائے جا رہے اور لوگ کس حال میں جی رہے ہیں ، الحمداﷲ پاکستان ابھی تک زمبابوے نہیں بنا جہاں بریڈ،دودھ اور انڈے لینے کے لیے کسی گاڑی میں کرنسی لاد کر لے جانا پڑتی ہے،ایک امریکہ ڈالر خریدنے کے لیے تین لاکھ پچاس ہزار مقامی ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں،رابرٹ موگا نامی ایک شخص 36 سال سے اقتدار پر قابض ہے اور کسی کو یہ جرات نہیں کے تحریک احتساب،تحریک قصاص یا تحریک نجات چلا سکے۔ الحمداﷲ تمام رت خامیوں کے باوجود پاکستان مصر نہیں جہاں حسنی مبارک کے بعد جنرل سیسی کی صورت میں ایک اور ڈکٹیٹر بندوق کے زور پر تخت نشین ہو گیااور احتجاج کرنے والوں کو کچل کر رھک دیا۔ تمام تر خامیوں کے باوجود پاکستان مشرقی افریقی ملک روانڈا جیسی بدحالی کا شکار نہیں ہوا جہاں دو مقامی قبائل ہوٹو اور ٹوٹسی کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تو صرف چند ماہ میں 13 لااکھ افراد مارے گئے۔ الحمداﷲ ہمارا وطن عزیز پاکستان عراق نہیں جہاں ہر شہر اور ہر قصبے کا الگ الگ حکمران ہے۔الحمداﷲ ہمارا پاکستان تمام تر حکومتی بد انتظامیوں کے باوجود لیبیا نہیں جہاں خانہ جنگی کی کیفیت پائے جاتی ہے اور اس دلدل سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں، تمام تر شدت پسند ی،شر پسندی،دہشت گردی اور انتہا پسندی کے باوجود مقام شکر ہے پاکستان شام نہیں جہاں حالات انتہائی کشیدہ ہیں نہ مرنے والے کو اپنے جرم کی خبر ہے نہ ہی مارنے والے کو اپنے انجام کا علم۔ اﷲ کا بہت بہے شکر ہے پاکستان الجزائر نہیں،یوگوسلاویہ نہیں، پاکستان صومالیہ نہیں،کمبوڈیا نہیں، مانا کہ پاکستان کا نظام تعلیم،نظام صحت ، نظام معیشت ٹھیک نہیں، لیکن کم از کم دوسرے ممالک جن کا میں نے ذکر کیا ان جیسی تو نہیں یہ حقیقت ہمیں تسلیم کر لینی چاہے۔ شکوے شکایت کیوجہ ہماری وطن عزیز پاکستان کے متعلق معلومات میں بھی ہے، ہم میں سے شاہد اکثر لوگ یہ نہیں جانتے 19 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں پاکستان میں 60% نوجوان شامل ہیں، آبادی لے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، قوت خرید کے لحاظ سے دنیا کی 26 ویں اور جی ڈی پی کے لحاظ سے پاکستان 44ویں بڑی معیشت ہے۔ معاشی پنڈتوں کی پیشن گوئی ہے آئندہ دہائی تک پاکستان دنیا کی 18 ویں بڑی میعشت بن جاے گی اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش ملک ہو گا۔ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی رپوٹ کے مطابق پاکستان میں مڈل کلاس کی گروتھ 36.5% کی رفتار سے بڑھ رہی ہے جبکہ بھارت میں یہ رفتار 12.8% ہے اسی طرح پاکستان میں مجموعی آبادی تقریبا 6.5 کروڑ افراد مڈل کلاس ہیں جنکی قوت خرید بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے بڑے شہروں میں سپر مارکیٹ،شاپنگ سنٹرز،اسٹورز اور فاسٹ فوڈ چین کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اﷲ کے فضل و کرم سے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان نے تین اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں آپریشن ضرب عضب ،دوسرے نمبر پر پاکستان کی معاشی کارکردگی میں بہتری آنا آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورت حال کو مستحکم قرار ہے پاکستان کے ذخائر 23 ارب ڈالر اور ترسیلات 20 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں جس سے روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی تیسری بڑی کامیابی چین کا پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا۔ آخر میں پاکستان سے شکوہ شکایت کرنے والے لوگوں کے لئے پاکستان کی ترقی کا مختصر جائزہ بھی پیش کرتا چلوں۔ اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر پاکستان ایک خودمختار ملک ہے،آزاد ملک ہے کیا یہ بات ہمارے لئے مقام شکر نہیں؟؟؟ْ زیرو سے شروع ہونے والے سفر سے آج پاکستان دنیا کی 46ویں بڑی معیشت ہے۔اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت پاکستان کے پاس ہے، جدید اسلحہ سے لیس فوج پاکستان کے پاس ہے۔ ہمیں پاکستانی ہونے کے ناطے اپنے ملک کی ترقی کے اس سفر فخر کرنا چاہے خوش ہونا چاہے، آیئے آج ہم یہ عہد کریں ہم پاکستان سے دلی محبت کریں گے جس نے دنیا بھر میں آپکو، مجھے ایک نئی پہچان دی،شناخت دی، تو پھر ایک بار دل سے کہ دیں شکریہ پاکستان شکریہ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanveer Hussain

Read More Articles by Tanveer Hussain: 6 Articles with 6191 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2016 Views: 349

Comments

آپ کی رائے