جمہوریت سے پہلے پاکستان!!

(Shafqat Ullah, )
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا یہاں سے علامہ محمد اقبال ؒ کے کہے اس مصرے میں اس حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا لگتا ہے ۔پا ک سرزمین بے شمار قربانیوں اور انتھک محنتوں کا صلہ ہے جس کے معرض وجود میں آنے میں اﷲ کی اپنی مرضی شامل تھی ۔ستائیس رمضان المبارک کو قرآن پاک کا نزول مکمل ہوا اسی رات ہی پاکستان بھی آزاد ہوا پاک وطن کی آزادی صرف و صرف شریعت خداوندی اور اطاعت رسول مقبول ﷺ پر تھی جسکا نعرہ ’’نہیں ہے کوئی معبود سوائے اﷲ کے ‘‘بلند کیا گیا جس کا پرچم بھی اس ملک کے پاک ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔دو قومی نظریہ ہمارے اﷲ اور رسول ﷺ کے ساتھ اور اس مٹی کے ساتھ مخلص ہونے کا عکاس ہے اس ملک پر جب بھی کوئی مشکل پیش آئی اﷲ نے اپنی نصرت بھیج کر اسے قائم و دائم رکھا قرآنی آیات کا مفہوم ہے کہ اﷲ تعا لیٰ قادر ہے اس بات پر کہ وہ تمہاری ساری نسل مٹا دے اور تمہاری جگہ اور نسل پیدا کر کے اس سے اپنا مقصد پورا کروائے اﷲ تعالیٰ نے روئے زمین پر انسان کو مقصد کی خاطر پیدا فرمایا ہے اور وہ مقصد اس کی پہچان حاصل کرنا اور اسکی عبادت کرنے کا ہے اسی مقصد کو پورا کرنے میں جب کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ سر بلند رکھتے ہیں پاکستان کی آزادی بھی اﷲ تعالیٰ کے مقصد کو پورا کر نے کیلئے ضروری تھی ۔آج الحمد اﷲ پاکستان پوری دنیا میں اسلام کا قلعہ ہے جس کی طرف ہر دشمن نظر اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے ۔مسلم سلطنتوں کو ہمیشہ میر صادق میر جعفر جیسے غداروں نے ہی نقصان پہنچایا اس وقت کے غدار بھی دربار میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اسی طرح پاکستان کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہماری سرزمین بھی غداروں اور کاروباری لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہیں اس ملک پاکستان سے زیادہ اپنا مفاد عزیز ہے ۔ دو روز قبل لندن میں بیٹھ کر پاکستان میں ایک جماعت چلانے والے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے جو غلاظت بکی اسے بیان کرنا میں توہین سمجھتا ہوں لیکن اس کے بعد وہ غدار وطن ضرور ہو گیا ہے۔ یہ بات صرف ایک بار نہیں ہوئی بلکہ پہلے بھی ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے لیکن بعد میں ایم کیو ایم یہ کہ کر معافی مانگ لیتی ہے کہ ان کی طبیعت خراب تھی ادویات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے بے خیالی میں ایسے الفاظ زبان سے نکل گئے وغیرہ وغیرہ !! لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر بار الطاف حسین صاحب کو ادویات کھا کر ہی ویڈیو لنک پر تقریر کرنی ہوتی ہے ؟اگر طبیعت ناسازگار ہے تو پارٹی کی ڈور کسی ذمہ دار اور قابل کارکن کو سونپ دیں ؟ ایسی کون سی دوا وہ استعمال کرتے ہیں جو انکے ذہن میں فتور بھر دیتی ہے اور وہ بغیر سوچے سمجھے بے لگام گھوڑے کی ماننداناپ شناپ بولتے جاتے ہیں ؟ایسا کیا جادو ہے کہ وہ چاہے پاکستان کے بارے میں جو مرضی غلاظت اگلیں کارکنان بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کسی پیر کے جیسے ان کی ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں ؟؟لیکن جو بھی ہو ایک بات تو واضع ہے کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے ویسے ہی ایم کیو ایم پر پہلے بھی بہت سے ثبوت ہیں کہ یہ غدار وطن ہے اور ملک دشمن عناصر کی نہ صرف سہولت کار ہے بلکہ خود بھی ملکی سالمیت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اب ڈاکٹر فاروق ستار کی گرفتاری کے وقت ان کا رویہ اور پھر قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کی ویڈیو لنک کے ذریعے اس تقریر نے سب کچھ واضع کر دیا ہے کہ یہ لوگ کتنے بڑے دشمن ہیں ۔ایم کیو ایم اپنے گرد تنگ ہوتا ہوا گھیرا دیکھ بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔ یوں سمجھئے شکار خود ہی پھنس رہا ہے لیکن یہاں قابل تشویش اور فکر طلب بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف ان بیانات کی کوئی مذمت نہیں کی گئی اگر دیکھا جائے تو وفاقی حکومت میں بیٹھے بہت سے وزراء جب ان کے لیڈر کی ذات پر بات آتی ہے !یہی پاناما لیکس کا معاملہ ہی اٹھا لیں تو یہ اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے اور موقع جیسا بھی ہو اپوزیشن کے خلاف سخت سے سخت ترین بیان دیتے نظر آتے لیکن اس معاملے میں سوائے وزیر اعظم کے کسی کی طرف سے کوئی مذمتی بیان بھی سامنے نہیں آیا !اور پھر حکومت کا تو یہی کام ہے کہ بجائے بیانوں کے حکومتی رٹ قائم کرے اور کوئی عملی کام کرے !اوروزیر اعظم کی جانب سے بھی سوائے مذمت کے اور کوئی لائحہ عمل یا تدبیر نہیں سامنے آئی کہ ان ملک کے غداروں کا انجام کیا کرنا چاہئے یا اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے ؟اگر دیکھا جائے تو الطاف حسین کو ملک میں لا کر اس سے سارے حساب چکتا کرنے کا اس اچھا موقع پھر نہیں آنے والااور پھر ملکی آئین کے تناظر میں اگر اس معمہ کا حل دیکھا جائے تو سوائے غدار کیلئے موت کے اور کوئی سزا نہیں نکلتی جس کیلئے ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے بغاوت کرنے والے ہزاروں سرکاری ملازمین کو نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے بلکہ انہیں قید بھی کر لیا گیا ہے جن کی آئندہ پھانسیاں بھی متوقع ہیں کم سے کم قید تو کرلیا گیا ہے لیکن اتنی بڑی ہرزہ سرائی کے با وجود ایم کیو ایم کے خلاف ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے ۔جمہوریت تو بہت دور کی بات ہے ہمیں اپنی جان مال عزت سے بھی پہلے پاکستان کی سالمیت پیاری ہے کیا وفاقی حکومت بھول گئی ہے کہ تحریک پاکستان کے وقت کتنی جانیں گئیں کتنے عصمت دری کے واقعات ہوئے لوگوں سے ان کا سامان لوٹ لیا گیا کتنی ماؤں سے انکی چھاتی سے لگے گود میں پلتے بچے چھین کر انکی آنکھوں کے سامنے شہید کر دئے گئے لیکن انہیں سب سے پیارا یہ پاک وطن پاکستان تھا ۔ہمیں بھی جمہوریت اور اپنی جان و مال کو ایک طرف رکھ کر لبرل ازم کے پردے سے نکل کر ایک پاکستان کیلئے سوچنا چاہئے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم بھی ہیں اس سرزمین کے بغیر ہمارا وجود بھی نہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 212 Articles with 90896 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
25 Aug, 2016 Views: 450

Comments

آپ کی رائے