عالمِ اسلام کولاکھوں ڈالرس کے ہتھیاروں کی فراہمی اور ۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
ترکی میں قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹیں۔!
ترکی میں پھر ایک مرتبہ انسانی درندوں نے ایک کم عمر خودکش بمبار لڑکے کے ذریعہ انسانیت کو شرمسار کردیا۔ شادی کی تقریب جہاں پر چند لمحے قبل خوشیوں سے سرشارکھیلتے کودتے معصوم بچے، شادی کے رسم و رواج سے لطف اندوز ہوتی خواتین و مرد اپنے گھروں کوواپس ہونے کی تیاری کررہے تھے کہ اسی اثناء ایک کم عمر لڑکے نے بم دھماکہ کرکے خوف وہراس اور غمزدہ ماحول بنادیا۔ شام ، عراق، افغانستان ، پاکستان، مصر، یمن، لیبیا وغیرہ کے بعد اب ترکی میں بھی بم دھماکے، خودکش حملوں کا آغاز ہوچکا ہے۔15؍ جولائی کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد ابھی ترکی کے حکمراں اپنی صفوں میں موجود دشمنوں کو پہچان کر علحدہ کرنے اور ملک و عالمِ اسلام میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے لائحہ عمل وضع کررہے ہیں کہ اسی دوران پھر ایک مرتبہ ترکی کے جنوب میں واقع شہر غازی انتیپ میں ایک شادی کی تقریب میں یہ خودکش بم دھماکہ کرکے ترکی کی حکومت کو دہلاکر رکھ دیا۔ عالمی سطح پر شادی کی تقریب پر کئے جانے والے حملے کے خلاف شدید مذمتی بیانات اوررنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے اور درندہ صفت دہشت گردوں کو عبرتناک سزا دینے کی بات کی جارہی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے استنبول کے سٹی ہال کے سامنے قومی ٹیلی ویژن پر راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ گروپ (داعش )کے ایک حملہ آور جس کی عمر 12سے 14سال کے درمیان ہوگی اپنے آپ کو بم دھماکے سے اڑالیا۔صدر ترکی کے مطابق داعش اس علاقہ کو جو شام کے سرحدی علاقہ سے متصل ہے جہاں کرد وں کی اکثریت آبادہے اپنا قبضہ جمانا چاہتی ہے ۔ ترکی کے جنوب میں واقع غازی انتیپ شہر میں ایک شادی کی تقریب کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 51 افراد ہلاک اور تقریباً 70افراد زخمی ہوگئے ۔ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد کم عمر بچوں کی بتائی جارہی ہے۔غازی انتیپ شام کی سرحد سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ ـغازی انتیپ کے گورنر علی یرلی کایا نے اس دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ دھماکہ کے بعد حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رکن اسمبلی محمد اردغان کا کہنا تھاکہ یہ واضح نہیں کہ حملہ کس نے کیا تاہم یہ ممکنہ طور پر خود کش حملہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ حملے کی نوعیت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ شدت پسند تنظیم داعش یا کردستان ورکرز پارٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے کہ دھماکا ممکنہ طور پر داعش کی جانب سے کیا گیا کیوں کہ جس علاقے میں دھماکا ہوا ہے وہاں کردوں کی اکثریت ہے اور شادی میں بھی بڑی تعداد میں کرد کمیونٹی کے افراد شریک تھے۔ترکی کے نائب وزیر اعظم محمد سمسیک نے کہا کہ حملے کا مقصد ہمیں خوفزدہ کرنا ہے لیکن ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔واضح رہے کہ ترکی میں گزشتہ مہینوں کے دوران دو بڑے شہروں میں بھی بم دھماکے ہوچکے ہیں، کرد جنگجوؤں کی جانب سے انقرہ میں دو بار دھماکے کیے جاچکے ہیں جبکہ داعش استنبول میں دو بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔ترکی میں15 جولائی کو فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے ایمرجنسی نافذ ہے۔واضح رہے کہ غازی انتیپ میں دھماکا ایک ایسے وقت کیا گیا جب ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اعلان کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں شام میں ترکی کا کردار مزید فعال ہوگا،ترکی کی جانب سے داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خاتمہ کے لئے مؤثر کارروائیاں کیں جائیں گی ۔ شام میں گذشتہ چند کے دوران شدت پسند تنظیموں کی جانب سے بشارالاسد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں تو دوسری جانب روس، شام کی فوجیں شدت پسند تنظیموں کے خاتمہ کے نام پر لاکھوں سنی مسلمانوں کا قتل عام کرچکی ہے ، کئی معصوم و بے گناہ بچوں کو تک نشانہ بنایا گیا۔ شام اور روسی حملے ہاسپٹلوں پر بھی کئے گئے ۔ یمن میں سعودی قیادت میں اتحادی فورسس کی جانب سے کئے جانے والے حملوں کے خلاف آوازیں اٹھتی ہیں لیکن شام اور عراق میں جس طرح بے قصور و معصوم انسانوں کا خون بہایا جارہا ہے اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ کیونکہ امریکہ اور مغربی و یوروپی و اسلامی ممالک شام میں دہشت گردوں کے خاتمہ کے نام پر عام شہریوں پر حملے کررہے ہیں تو دوسری جانب بشارالاسد کی فوج اور روسی فوج بھی دہشت گردوں کے خاتمہ کے نام پر فضائی حملے کررہی ہیں جس میں سنی مسلمانوں کی بے دریغ شہادت ہورہی ہے۔ حالیہ دنوں معصوم عمران کی تصویر عالمی سطح پر بشار الاسد کی ظالمانہ کارروائیوں کی عکاسی کررہی تھی۔شام میں ایسے ہزاروں بچے ہیں جو زخمی اور ہلاک ہوچکے ہیں ، لاکھوں بچے اپنے والدین وسرپرستوں سے محروم ہوچکے ہیں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ شام اور عراق میں دہشت گردی کا آغاز جس طرح ہوا آج پھر ایک مرتبہ سعودی عرب، ترکی وغیرہ میں ہونے والی کارروائیوں سے لگایا جاسکتا ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی وقت ہیکہ ترکی اور سعودی عرب اپنے اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ دیں اور پڑوسی ممالک کے حکمرانوں کا ساتھ دینے کے نام پر خود اپنے ملک میں دہشت گردی کو ہوا نہ دیں۔ کیونکہ ماضی میں عراق، شام ، لیبیا، مصرافغانستان، پاکستان وغیرہ میں الزامات عائد کرکے مغربی و یوروپی ممالک نے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا اور بُری طرح مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا اگر پھر ایک مرتبہ مغربی و یوروپی طاقتیں اسی گھناؤنے جرم کو سرانجام دیتی ہے تو مستقبل میں انکی یہ ظالمانہ کارروائیاں خود ان کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔ آج عالم اسلام میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ان ممالک کو اپنی حفاظت اور سلامتی کے نام پر کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار سپلائی کئے جارہے ہیں۔ اور پھر ان ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش کا اظہار بھی کیا جارہا ہے ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسے میں ان ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی بھائیوں کو مارنے کے بجائے ان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کا آغاز کرکے ملک میں امن وآمان کی فضاء قائم کرنے کی سعی کریں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں اسلامی و عرب ممالک کی جو صورتحال ہے اس پر عالمِ اسلام سنجیدہ طور پر مل بیٹھ کر بات چیت کریں اور دہشت گرد تنظیموں کے ارادوں سے واقفیت حاصل کرکے مثبت لائحہ عمل ترتیب دیں۔ سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے شام، عراق ، یمن وغیرہ میں فوجی کارروائیوں میں شرکت کا نتیجہ ہے کہ ان ممالک میں بھی دہشت گردانہ حملوں کا آغاز ہوچکا ہے۔
 
عالمِ اسلام کو ہتھیار فراہم کرنا مغربی و یوروپی ممالک کے لئے نفع بخش بازار کی حیثیت رکھتا ہے۔ عراق، شام، افغانستان، مصر، پاکستان ، یمن اور اب ترکی میں باغیوں کو ختم کرنے کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ لاکھوں ، کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار خریدے جارہے ہیں اور ان ہتھیاروں سے بے قصور افراد کا قتل عام ہورہا ہے۔ کہیں پر دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے قتل عام اور غارت گیری کا بازار گرم ہے تو کہیں پر ان دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے نام پر عام بے قصور مسلمانوں کی ہلاکت ہورہی ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں کی تعداد میں اسلامی ممالک میں مسلمانوں کی ہلاکت ہوچکی ہے اور لاکھوں زخمی و بے گھر ہوچکے ہیں۔ ایک طرف مغربی ویوروپی ممالک عالمِ اسلام کو ہتھیار سپلائی کرتے ہیں تو دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر کڑی تنقید بھی کی جاتی ہے۔امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کو جنیوا میں ہونے والے آرمز ٹریڈ ٹریٹی کے رکن ممالک کے اجلاس میں سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ برس برطانوی حکومت نے سعودی عرب کو چار ارب ڈالر، امریکہ نے چھ ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کیا تھا جبکہ فرانس نے سعودی عرب کو18ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔دنیا بھر میں اسلحہ کے کاروبار کی کل مالیت تقریباً17کھرب ڈالر سالانہ بتائی جارہی ہے۔ اسلحے کے خلاف مہم چلانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ آرمز ٹریڈ ٹریٹی کے دستخط کنندگان کو جنگ زدہ علاقوں کو اسلحے کی فروخت محدود کردینی چاہیے۔لیکن کیا یہ ممکن ہے ؟ ملک شام ، عراق، مصر، افغانستان، پاکستان وغیرہ میں لاکھوں سنی مسلمانو ں کو ہلاک و زخمی اور بے گھر کردیا گیا، ان میں معصوم بے قصور بچے، خواتین اور مرد سب ہی شامل ہیں۔ آج بھی ان ممالک میں فائرنگ، بم دھماکے، خودکش حملے جاری ہے اور ہر روز کہیں نہ کہیں بے قصور مسلمانوں کی ہلاکت ہورہی ہے۔ یمن میں گذشتہ برس ماہ مارچ میں حوثی باغیوں کی جانب سے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف بغاوت اور اسکے بعد یمنی حکومت کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ممالک نے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیااور آج بھی حوثی باغیوں کی دہشت گردی کو کچلنے کیلئے سعودی قیادت میں اتحادی فورسس کی کارروائیاں جاری ہیں جس میں ہزاروں افراد کی ہلاکت بتائی جارہی ہے۔ جبکہ حوثی باغیوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں بم دھماکے ، خودکش حملوں کے علاوہ یمن سے ملنے والی سعودی سرحدی علاقوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یمن میں ہونے والی ہزاروں ہلاکتیں اور ہاسپٹلوں پر فضائی حملوں کے بعد ایسے ممالک کو اسلحے کی فروخت محدود کردینے کی بات کہی جارہی ہے جبکہ ملک شام میں روس اور شامی فوج کی جانب سے کئی ہاسپٹلوں کو نشانہ بناتے ہوئے شدید فضائی کارروائی کی گئی ۔ مغربی و یوروپی ممالک دہشت گردوں کے خاتمہ کے نام پر شام، عراق پر جو حملے کررہے ہیں اس کے خلاف کوئی آواز عالمی سطح پر اٹھتی دکھائی نہیں دیتی۔ لاکھوں کی تعداد میں عراق، شام، یمن، مصر، افغانستان اور پاکستان میں سنی مسلمانوں کا قتل عام ہوچکا ہے اور یہ قتل عام دہشت گردوں کے خاتمہ کے نام پر عام مسلمانوں کا ہوا ہے ۔ کاش انسانی حقوق کی تنظیمیں ان لاکھوں سنیوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرکے اقوام متحدہ میں مغربی و یوروپی ممالک کو حملوں سے روکنے کی کوشش کرتے اور جو ہتھیار ان ممالک اپنی معیشت کی بہتری کے فروخت کررہے ہیں اسے روکنے کی کوشش کرتے۔آج عراق، شام، مصر، افغانستان، پاکستان، ترکی وغیرہ میں دہشت گردی ان ہی مغربی و یوروپی ممالک کی غلط پالیسیوں اور الزامات کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس دہشت گردی میں ہر روز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ القاعدہ، طالبان، دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) ، النصرہ فرنٹ، ملیشیاء یہ سب مغربی و یوروپی ممالک کی دین ہے جو آج ان کا جینا بھی حرام کررکھی ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100508 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 328

Comments

آپ کی رائے