صحافی ،صحافت اور سید بدر سعید کی کتاب

(Akhtar Sardar, Kasowal)
صحافت کا خاص طور پر اردو صحافت کا علمی ، ادبی ،تعلیمی، ثقافتی اور تہذیبی پہلو بھی ہے۔ہم عام طور پرعلمی پہلو کو دیکھیں تو اخبار ہی واضح دیکھا جاسکتا ہے۔جس میں علم کے حوالے سے بہت ساری معلومات میسر ہوتی ہیں ۔صحافت کی زبان کے بھی تین پہلو ہوتے ہیں پہلا علمی ،دوسرا ادبی اور تیسرا مواصلاتی یعنی عام بول چال ، اس لئے اردو صحافت کی زبان معیاری ،بے مثال ،خوبصورت اور نمایاں ہوتی ہے ۔صحافت کی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں اور اتنی نئی بھی نہیں ہے ۔ جب صحافت کی بات ہو تو اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر یاد آتا ہے۔
کھینچوں نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہوتو اخبار نکالو

آج کی صحافت ہے بھی اسی طرح کی ، جس کو بھی کسی صحافی بھائی سے پریشانی کا سامنا ہو تووہ بھی فوری یا تو کسی اخبار کی نمائندگی لے لیتا ہے اگر استطاعت رکھتا ہو تو وہ اخبار نکال لیتا ہے۔ صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سارے سیاست دان ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے صحافت میں خوب نام کمایا اور بہت سارے صحافیوں نے بھی سیاست میں قدم رکھا عملی کام کر کے اپنا ایک نام بنایا ۔
یہ کیسا قانونِ زباں بندی ہے تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

صحافی کا کام ہے سچ بولنا اور لکھنا ، وقت کے حا کم کے ڈر اور خوف سے خاموش نہیں رہنا چائیے بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا چائیے۔سماجی ، سیاسی معاشرتی ترقی میں کلیدی کرداربھی صحافی ہی ادا کرتے ہیں ۔ اور عوام تک سچائی پہنچانے کے لئے ،اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں ۔ راقم الحروف نہ تو بڑا صحافی ہے اور نہ ہی اتنا بڑا کالم نگار،صرف ادب اور ادیب سے لگاؤ ،صحافی اور صحافت سے وابستہ ضرور ہے ۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ صحافی کو سچ بولنا چائیے ،سچ ہی آزادی صحافت کی نشانی اور پہچان ہے،صحافت مقدس پیشہ ، معاشرے کی تیسری آنکھ ہے اور جمہوریت کا چوتھا ستون بھی صحافت ہی کو مانا جاتا ہے ۔

اردو کے ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض نے شائد صحافتی برادری کیلئے ایک بڑی انقلابی نظم کہی ہے ۔اس کا ہر ایک لفظ دل ودماغ میں اترجاتا ہے اور جسم وجان میں ایک جوش وولولہ کی ایک نئی روح پھونک جاتا ہے ۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول کہ زباں اب تک تیری ہے

کتابوں میں عوام الناس کو ادب ، صحافت ، سیاست ، سماجیات ، نفسیات ، کامرس ، مملکت ، عالمی حالات ، مشرق و مغرب ،سیاست اور معاشرتی ،سماجی مسائل کی عکاسی مل جاتی ہے۔کتابیں سیاسی ، سماجی ، ثقافتی روحانی ، تہذیبی شعور اور ذہن کو بالیدگی عطا کرتی ہیں اور ذہنوں کی آبیاری کرتے ہیں۔

سید بدر سعید کی کتاب صحافت کی ایک مختصر تاریخ ہے ،جس میں پاکستان سمیت برصغیر پاک وہند کی صحافت کے ارتقائی عمل کا مکمل طور پر احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔یہ کتاب 288صفحات پر مشتمل ہے ۔ جس میں صحافت کی مختصر تاریخ،نئی اور سابقہ جمہوریت کا سفر،پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں ، جمہوری دہائی کے دوران صحافت کا سفر،ذرائع ابلاغ اور سیاسی جماعتیں،الیکٹرانک میڈیا،پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے قوانین پاکستان صحافیوں کے لیے ایک غیر محفوظ ملک،معاشرے میں بنیادی پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان اور متوازی ذرائع ابلاغ کا ظہور اور ویج بورڈ کے لیے جدوجہد جیسے اہم موضوعات سمیت بہت کچھ شامل ہے۔

جبکہ کتاب میں 100 برس سے بھی زیادہ پرانے اخبارات کے عکس شامل ہیں، جس سے کتاب کی اہمیت و افادیت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے جس میں برصغیر کے پہلے صحافتی قانون سے لے کر حالیہ سائبر کرائم بل تک معلومات شامل ہیں۔

اس میں مختلف اخبارات کے قیام پاکستان کے بعد پہلے ایڈیشن کی تصاویر بھی شامل ہیں۔مصنف کی تحقیقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب میں محض 1940 ء سے 1947 ء تک کے 7 برسوں میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد کرنے والے 132 اخبارات کے نام، ایڈیٹرز کے نام، مقام اشاعت اور زبان کی فہرست بھی دی گئی ہے۔

اس کتاب کے ہر موضوع پرگفتگوگوکہ مختصرہے مگر بحث سیر حاصل ہے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں صحافت کی تاریخ کے مختلف ادوار اور اسے درپیش مشکلات کو سمجھنامزید آسان ہوگیاہے ۔یہ تمام موضوعات صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی دلچسپی کا باعث ہیں۔خاص طورپر وہ عالمی اور مقامی حلقے جو پاکستان میں آزادیِ اظہار اور صحافتی شعبے کو درپیش مشکلات کے بارے میں آگہی حاصل کرنا چاہتے ہیں،اس کتاب سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کتاب میں گراں قدرعلمی حوالہ جات کے ساتھ مصنف نے اپنے قیمتی مشاہدات کو بھی سپرد قلم کیا ہے ۔گویا انہوں نے صرف اپنے مطالعے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ جو کچھ کھلی آنکھوں دیکھا اور محسوس کیا،اسے بحیثیت صحافت کے ایک طالب علم اور صحافتی شعبے کے فعال رکن کے طور پر اپنے قلم سے کاغذ پر منتقل کردیا۔

صحافت کے عصری منظر نامہ کو اپنا مرکزی خیال بنانے والی یہ کتاب اردوصحافت کی منفرد اندازِمیں سیر کراتی ہے ۔صحافت سے وابستہ حقائق اوربعض کڑوی سچائیوں کو انتہائی برجستگی اور بے باکی سے پیش کیا گیا ہے ۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عصر حاضر کی صحافت کی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو صحافت سے جڑی نئی نسل کو اردو صحافت کی تاریخ سے نکال کر دور جدید میں آنے ولی درپیش مشکلات اور چیلنج سے نکالنے کے لئے مدد اور رہنمائی بھی فراہم کرے گی ۔

پاکستان میں خاص نوعیت کی اس منفرد کتاب کی اشاعت پر صحافتی، ادبی و علمی حلقوں کی جانب سے خوش آئند اضافہ قرار دیا ہے ۔
ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی

سید بدر سعید ایم فل ریسرچ اسکالر ہیں، ایک درد دل رکھنے والا نوجوان ہے ،ہر وقت ہزاروں دوستو ں کی دعاؤں میں رہتا ہے ، اس کی پہلی شہرہ آفاق کتاب خود کش بمبار کے تعاقب میں ، کے بعد نئی آنے والی کتاب صحافت کی مختصر تاریخ ،قوانین و ضابطہ اخلاق کی تقریب رونمائی 3ستمبر کو لاہور پریس کلب میں منعقد ہورہی ہے، دوست احباب کو دعوت عام ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 496 Articles with 329961 views »
Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More
02 Sep, 2016 Views: 478

Comments

آپ کی رائے