ملک دشمنوں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں……!

(Rana Aijaz Hussain, Multan)
انسان جیسے نظریات ، خیالات اور سوچ رکھتا ہے ، ان ہی کا اظہار وہ اشتعال ، غصے اور جذبات کے عالم میں کرتا ہے ۔ الطاف حسین کے پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے نظریا ت اور خیالات کسی سے ڈھنکے چھپے نہیں ۔ ا نہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان کے خلاف سازشوں اور ملک میں نقص امن کے حالات پیدا کرنے میں ضائع کیا ہے ۔ اب جبکہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک امن کی راہ پر گامزن ہے ،یہ حالات ملک دشمن الطاف حسین کیلئے کیونکر قابل قبول ہوسکتے تھے، وہ روز بروز حواس باختہ ہو کر زہر اگلتے رہے، لیکن جب متحدہ ہیڈکوارٹر نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے اور وہاں سے بھارتی ساختہ اسلحہ سمیت ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ متحدہ کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تو رینجرز حکام کو دھمکیاں د ی گئیں۔ جس پرریاست نے ان کیخلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطاب اور انکے بیانات پر پابندی عائد کردی، جبکہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے الطاف حسین کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کروائے گئے۔ الطاف حسین اگر سیاسی شخصیت ہوتے تو ان حالات کا مقابلہ کرتے اور سیاسی معاملہ فہمی سے کام لیتے، مگر وہ چونکہ ملک دشمنی کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھے لہٰذا اپنا جارحانہ طرز عمل برقرار رکھا اور 23 اگست2016 ء کو تمام حدود پار کرتے ہوئے وہ سب کچھ اگل دیا جو زہر پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف ان کے سینے میں پلتا رہا ۔

ان کی پاکستان مخالف ہر زہ سرائی پر پورے پاکستان کے عوام کی دل آزاری ہوئی ہے، اور جذبہ حب الوطنی کے تحت ہر پاکستانی کے دل میں الطاف حسین کے لئے شدید ترین نفرت اور اشتعال پایا جاتا ہے ۔ متحدہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے جہاں الطاف حسین نے پاکستان کیخلاف انتہائی توہین آمیز الفاظ استعمال کئے اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگوائے وہیں اپنے غنڈہ صفت کارکنوں کو میڈیا ہاؤسز پر حملوں کیلئے اشتعال بھی دلایا چنانچہ ان کارکنوں نے مختلف میڈیا ہاؤسز میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور وہاں موجود میڈیا ورکرز کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کی اس ناپاک حرکت پر پاکستان کے 99 فیصدسے زائد شہریوں میں الطاف حسین کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے ۔ عوام پاکستان کی جانب سے ان کے اس خطاب کی شدیدمذمت اور الطاف حسین کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے اورلندن سے پاکستان لا کر عبرت کا نشان بنانے کا مطالبہ روز بروز زور پکڑتا جارہا ہے ۔ تمام مکاتب فکر ، تمام سیاسی ،دینی قیادتوں نے اس کی مذمت کی اور ان کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ الطاف حسین نے بیرون ملک ہونے کے باجود ایک طویل عرصہ تک ملک میں آگ و خون کا کھیل جاری رکھا۔ الطاف حسین کے عسکری ونگ سے کون واقف نہیں ، جس نے کراچی میں بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ بن بوری لاشوں سے دہشت کا بازار گرم کئے رکھا۔ ایم کیو ایم کے سیکٹر کمانڈروں نے کراچی اور حیدر آباد کے ایک ایک شہری کا ریکارڈ جمع کیا انکے شناختی کارڈوں کی کاپیاں اپنے پاس رکھیں الطاف حسین کے جلسے سجانے کیلئے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کیمطابق حاضرین کو جمع کیا جاتا غیر حاضر ہونیوالے کو لائن حاضر کیا جاتا اور جرمانے کئے جاتے تھے۔الیکشن میں بھی لوگوں کو متحدہ کے امیدوار منتخب کرنے پر مجبور کیا جاتا ۔

اب متحدہ رابطہ کمیٹی اور ڈاکٹر فاروق ستار جن کے نام پر یہ پارٹی رجسٹرڈ ہے، نے الطاف حسین کے خطاب کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان سے متحدہ کے راستے الگ کرنے کا فیصلہ کیاہے، اس سلسلہ میں ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے دوسرے ارکان نے پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کو الطاف حسین سے الگ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اب ہم ایم کیو ایم کے فیصلے پاکستان میں خود کرینگے۔ ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم کے نئے قائد تو بن گئے ہیں لیکن وہ اپنی 30 سالہ محبت کو آسانی سے الوداع نہیں کہہ سکتے۔ 30 سال سے الطاف بھائی الطاف بھائی کہنے والوں کے دل سے ایک دم الطاف بھائی کیسے نکل سکتاہے۔ لیکن اگر حب الوطنی کے تقاضے کے تحت ایم کیو ایم پاکستان کے نئے قائدین حقیقت میں الطاف حسین سے الگ ہوجائیں اور آئندہ ان سے کسی قسم کی کوئی ڈکٹیشن نہ لینے کا عہد، اور اپنی مدعیت میں ان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کردیں توعوام پاکستان کو متحدہ کے الطاف حسین سے الگ ہونے کا یقین ہوسکتا ہے ۔ بہر حال پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے پر عزم ہیں ، اور تہیہ کرچکی ہیں کہ ملک میں اب دہشت گردی کو مذید پروان چڑھنے نہیں دیا جائے گا ۔ ان حالات میں اگر متحدہ کے رہنماء کسی مصلحت کا شکار ہوکر الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بعد دوبارہ متحد ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں تو اس میں قطعاً کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ کیو نکہ سیکورٹی فورسز اور عوام پاکستان تہیہ کر چکے ہیں کہ وہ سیاست کا لبادہ اوڑھے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، ملک و قوم کے خلاف زہر اگلنے والے ملک دشمنوں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 794 Articles with 347736 views »
Journalist and Columnist.. View More
02 Sep, 2016 Views: 349

Comments

آپ کی رائے