غدار اور محب وطن ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں

(Sultan Hussain, PESHAWAR CITY)
بات شروع کرنے سے پہلے ہم آپ کو ایک خطاب سناتے ہیں یہ خطاب الطاف حسین نام کے ایک شخص کا ہے اور اس نام کو شاہد ہی کوئی محب وطن فرد بھول سکتا ہوآج کل ایم کیوایم کے امریکہ اور کینیڈا کے کارکنوں سے کانفرنس کال کے ذریعہ کی گئی گفتگو کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے لندن سے نیویارک' شکاگواور کینیڈامیںکال کے ذریعے پاکستان کے خلاف نعرے لگانے اور پاکستان توڑنے کے حوالے سے ان کا کارکنوںکو ''فرمان''تھا کہ اسرائیل ، امریکہ ، بھارت سے رابطے قائم کرو اور انہیں بتائو کہ پاکستان قائم رہنے کے لائق نہیں۔ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائو ۔ اس نعرے کو اپنا سلوگن بنا ئو ۔ اس اجتماع میں موجود را کے ایجنٹوں کا کہنا تھا بھائی میں شکاگو سے آرش بول رہا ہوں ، میں آپ سے وعدہ کر تا ہوں کہ ٹویٹر پر پاکستان مردہ باد کا سلوگن لگائوں گا ،کوئی مائی کا لال مجھے روک نہیں سکتا۔ جواب میں الطاف حسین اسے شباش دیتے ہوئے کہتا ہے شاباش میرے بیٹے ۔ بھائی آپ بے فکر ہو جائیں ۔ پاکستان مردہ باد کے سب سے پہلے نعرے کینیڈا سے لگیں گے۔ہم نے فیصلہ کر لیا ہے بھائی آپ جو پیغام دیں گے ہم اس کو لے کے چلیں گے۔ہم کینیڈا میں آفس کھولنے کو تیار ہیں۔ہم یہاں سے پاکستان کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ نیویارک سے بھی کہا گیا انشا اللہ بھائی آپ کی دعائیں حاصل ہیں ، جیسا کہیں گے ویسا ہو گا۔الطاف حسین کہتا ہے خدا اس ملک کو تباہ و برباد کر دے ۔ پھر سب مل کر کہتے ہیں آمین آمین ۔غدار کہتا ہے اسرائیل امریکہ بھارت سے رابطے کرو، اس ملک کو تبا ہ برباد کر دیا جائے۔ اس ملک میں جو وردی پہن کر عیش کر رہے ہیں ، انہیں تباہ کر دیا جائے۔آمین کے بعد پھر سب نے کہابھائی تقسیم در تقسیم مقدر ہے اس پاکستان کا ۔ بھائی جو نظر آرہاہے ،یہ ملک مزید تقسیم ہو گا۔ بھائی ہم پہلے بھی آپ کے ساتھ تھے،آج بھی آپ کے ساتھ ہیں اور انشا اللہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔ بھائی ہم تو آپ کو اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی ایک آواز سے پورے پاکستان میں اوپر سے نیچے تک ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بھائی یہ ملک نہیں رہے گا بھائی ۔۔۔آج کی دنیا دس بیس سال پہلے کی دنیا سے بہت مختلف ہے دس بیس سال پہلے کوئی بات بہت بعد میں پتہ چلتی آج دنیا اس قدر تیز ہوچکی ہے کہ منٹوں سیکنڈوں میں ہر بات دنیا کے ایک کونے سے دوسر کونے تک اپنی اصل حالت میں پہنچ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ بھائی کے ''فرمان'' سے لوگ جلد باخبر ہوجاتے ہیںاور ان کی معافیوں سے بھی محضوظ ہوتے ہیںلیکن ''بھائی'' نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ ہر معافی کے بعد پھر اپنی اصلیت ضروردظاہر کرنی ہیان کا ہر '' فرمان'' جلتی پر تیل کا نہیں بلکہ پانی میں آگ لگانے کا کام کرتا ہے لیکن افسوس کہ یہ آگ لگتی نہیں اور ہم صرف تماشا دیکھتے رہتے ہیں''بھائی'' نے حالیہ اپنے ''زرین '' خیالات سے بھی ایک بار پھر اپنی کوشش کی ہے جس پر ہر ایک صرف اپنی ماہرانہ رائے دے رہا ہے اور حکومت کہ بڑے'' ٹھنڈے دل و دماغ '' سے کام لے رہی ہے سیاستدان ''بردباری '' کا مظاہرہ کررہے ہیں کیونکہ یہ ملک کا معاملہ ہے ان کی ذات کا نہیں۔عام پاکستانی اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کر رہا ہے جبکہ سیاستدان اور حکمران ''میانہ روی'' کا درس دے رہے ہیں کون صحیح ہے اور کون غلط اس کا فیصلہ ہم کرنے والے کون ہوتے ہیں جنہوں نے کرنا ہے وہی اس کا بھی فیصلہ کریں گے عام آدمی ملک بچانے کی فکر میں ہے انہیں جمہورت کی فکر ہے ظاہر ہے کہ ملک زیادہ اہم نہیں جمہوریت زیادہ اہم ہے چاہے کچھ بھی ہوجائے سوشل میڈیا میں ایک طوفان آیا ہوا ہے لیکن اس کی طرف کون دھیان دے فاروق ستار پارٹی کوبچانے کے لیے لندن سے علیحدگی کا ڈرامہ کررہے ہیںلندن والے کے کراچی والے بھائی نے ایم کیو ایم کا کاروبارِ سیاست تو سنبھال لِیا ہے اور اپنے بھائی کے اڑھائی سو عقیدت مندوں کو پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے سے لا تعلقی کا اعلان توکردِیا لیکن اپنے بھائی کے ''فرمان'' کی مذمت نہیں کیوہ ایسا کر بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ یہ سب کچھ لندن کے مشورے سے ہی کررہے ہیں ان کے بقول ذہنی دبائو اور پریشانی کے باعث الطاف بھائی نے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے اور لگوائے انہوں نے جو کچھ کہا ہمارے ''سادہ لوح '' سیاستدان اور حکمران ان پر یقین کر لیا اور ان کی حامی بن گئے ایک پاک فوج ہی ہے جو تن تنہا لڑ رہی ہے لیکن آخر کب تک کیونکہ اسے بھی حکمران دبانے اور خاموش کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیںلوگ بڑے پر امید ہیں کہ گوروں کے دیس میں کارروائی ہوگی لیکن ایسا بھی نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے مفاد میں نہیں جو گوروں کے مفاد میں ہوگا وہی ہوگانہ یہاں کچھ ہوگا نہ وہا کچھ ہوگا کچھ عرصے بعد یہ معاملہ بھی دیگر معاملات کی طرح ٹھنڈا پڑ جائے گاشاہد پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں غدار اور محب وطن دونوں ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: SULTAN HUSSAIN

Read More Articles by SULTAN HUSSAIN: 52 Articles with 26444 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2016 Views: 273

Comments

آپ کی رائے