یوپی الیکشن: سیکولر پارٹیوں کا اتحاد ناگزیر

(Nayab Hasan, )
آئندہ سال پانچ صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، ان میں سب سے اہم یوپی کا انتخاب ہے، جس کا ہندوستان کے سیاسی داؤ پیچ کو سلجھانے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اہم رول ہوتا ہے، چنانچہ تمام بڑی پارٹیوں کی نظریں اسی صوبے پر ٹکی ہوئی ہیں، حکومت کی باگ ڈور کس پارٹی کے ہاتھ میں جائے گی یہ فیصلہ تو الیکشن کے بعد آنے والے نتائج ہی بتا سکتے ہیں، البتہ موجودہ صورت حال کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہے کہ کوئی پارٹی تن تنہا اکثریت کے ساتھ حکومت کی تشکیل نہیں کرپائے گی، مگر کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔

پچھلے چار پانچ سالوں کی کارکردگی اور اس دوران رونما ہونے والے فسادات کو دیکھ کر سماجوادی پارٹی کو جہاں منھ کی کھانی پڑ سکتی ہے، وہیں جھوٹے وعدوں اور فرقہ پرستی پر مبنی سیاست کی وجہ سے بی جے پی کی حالت بھی کوئی بہت زیادہ مستحکم معلوم نہیں ہوتی، لیکن چوں کہ بی جے پی ہمیشہ سے مسلم و دلت ووٹوں کو منتشر کرنے اور مذہبی issues کو ہوا دے کر اکثریتی طبقہ کا ووٹ حاصل کرتی رہی ہے، اور اس کا اس کو فائدہ بھی حاصل ہوا ہے، جیسا کہ ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن میں ہوا تھا، اگر اس اسمبلی انتخاب میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا اور سیکولر پارٹیوں نے باہم اتحاد نہیں کیا، تو بی جے پی کیلئے آگے نکل جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ لہذا اگر فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینا ہے اور ملک وملت کے لئے امن و شانتی مطلوب ہے تو پھر بی ایس پی اور کانگریس کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ناگزیر ہے، جیسا کہ بہار اسمبلی انتخاب میں آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس نے ایک ساتھ ملکر مہاگٹھ بندھن بنایا تھا، جس کا خاطر خواہ نتیجہ بھی برآمد ہوا، ایسے ہی گٹھ بندھن کی شدید ضرورت یوپی میں بھی ہے۔ عوام بطور خاص مسلم اور دلت رائے دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر ووٹ کریں، اور اپنی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ووٹوں کو انتشار کا شکار نہ ہونے دیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیوں کو بھی چاہئے کہ انانیت کو پس پشت ڈال کر اتحاد کی صورت اختیار کریں، تاکہ صوبے میں امن وامان کی فضا عام ہو، اور مذہب وفرقہ پرستی سے آزاد ایک صاف ستھری حکومت قائم ہوسکے۔
امتیاز شمیم (ندوی)
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، علیگڑھ
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nayab Hasan

Read More Articles by Nayab Hasan: 28 Articles with 12841 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Sep, 2016 Views: 413

Comments

آپ کی رائے