سیاسی باوا کی طوطا فال

(Maqsood Anjum Kamboh, )

وطن عزیز کے معروف سیاسی باوا ایک عرصہ سے سیاسی پیش گوئیاں کرتے چلے آرہے ہیں مگر ان کی ایک بھی پیش گوئی سچ ثا بت نہیں ہوئی باوجود اس کے وہ ٹی وی چینلوں پر اپنا سکہ جمائے بیٹھے ہیں اور اینکروں کے لیے دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں ہر ٹی وی چینل انکی پیش گوئیوں اور سیاسی رپورٹوں سے خوب محفوظ ہوتا ہے گذشتہ دنوں باوا جی کوبڑی دور کی سوجھی وہ گھر سے نکلے ریلوے پل پر آکر طوطا فال کے بابا کو تلاش کرنے لگے دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ کیا ہی اچھا ہو طوطا فال کا مرکز مل جائے اور میں قسمت آزمائی کا یہ طریقہ بھی آزما لو ں شائد اس سے استفادہ کر کے میں کوئی اچھی سی راہ تلاش کرلوں کچھ دیر رکنے کے بعد وہ سولی پر چڑھ گئے پل کراس کرتے ہی ایک طوطا فال کا مرکز مل گیا یہاں لوگوں کا ہجوم تھا اور طوطے مرکز کے بابا سے ہر ایک فال نکالنے کا طالب تھا سیا سی باوا جی نے سیٹی بجائی اور بابا جی کو اپنی طرف متوجہ کیا بابا جی نے سیاسی باوا جی کو پہچان لیا اور وہ خوشی سے اُچھلنے لگا بابا جی نے اُ ٹھ کر سیاسی باوا کو سلام کیا اور حال احوال پوچھنے کے بعد انکی طلب پوچھی سیاسی باوا جی نے کہا کہ بابا جی آج اپنے طوطے سے کہو ہمارے کہنے پر فال نکالے شائد آج ہماری طلب پوری ہوجائے بابا جی سمجھ گئے کہ آج وہ کچھ نہ کچھ لے کر جائے گا بابا جی کو بھی اپنے طوطے پر بہت اعتماد ہے صدیوں سے طوطے کی فالیں نکال نکال کر روٹی کما رہا ہے اور ایک بڑے بھاری بھر کم خاندان کو پال رہا ہے وہ اپنے طوطے کو ایک بڑی انڈسٹری سمجھتاہے جس سے روزانہ سینکڑوں روپے اسکی جیب میں بغیر کسی خرچے کے آرہے ہیں اسطرح اسکی اور اس کے خاندان کی زندگی خوشگوار گذر رہی ہے بابا جی نے طوطے کو حکم دیا کہ آج ایسی فال نکال کہ ملک عزیز میں انقلاب آجائے اور ہمارے عزیز دل سیاسی باوے کو عروج کمال حاصل ہو جائے چینلوں والے اس فال پر فخر کر سکیں طوطے نے مسکراتے ہوئے اپنی کاروائی شروع کر دی وہ پہلے کی نسبت کچھ زیادہ ایکٹو نظر آیا فال کی تلاش کر نے میں بڑی سنجیدگی دکھاتے ہوئے اس نے معمول سے ہٹ کرکچھ زیادہ وقت لگایا ۔فال چونچ میں لے کراپنے باباجی کے پاس جاکرکچھ ٹیں ٹیں کرکے فال با با جی کے حوالے کردی ا ور خود کھڑاہوکربابا جی سے فال کے خدوخال سننے لگا،بابا جی نے فال پڑھنا شروع کردی،تحریرتھا کہ آج کا دن بہت اچھا دن ہے،سیاستدانوں کے لیے مصروف مہینہ ہوگا،اس مہینے وہ دھرنے ،مرنے کا ہر حربہ آزمائیں گے اور حکمرانوں کے چھکے چھڑائیں گے ،حکمرانوں کے لیے چندمہینے بہت برے ہونگے،انہیں صدقات وخیرات کے لیے کافی پہسہ خرچ کرناپڑے گاپیروں ،فقیروں،عاملوں سے رابطے رکھنا ہوں گے،اپوزیشن بڑے تلخ موڈ میں ہے،وہ حکومت کا تختہ الٹنے جا رہی ہے، انکی منشا ہے کہ حکمران خود ہی حکومت چھوڑ دیں لیکن فال کہتی ہے کہ ایساہوجانا بہت مشکل کام ہے،اس فقرے پر سیاسی بابا بہت تلملایا ،اس کے چہرے پر زردی چھا گئی۔ پھر اس نے سگار سلگایااور سوٹا لگا کر اپنے آپ کو قابو کیافال بہت لمبی ہے ،لہذ اس فال کا لب لباب تھاکہاپوزیشن کی تمام کوششیں اور حربے ناکامی سے دوچار ہوں گے۔فال کے آخری الفاظ یہ ہیں کہ سیاستدان ملک میں انقلاب لانے کے لیے آگ اور خون کی ہولی کھیل سکتے ہیں جس پر سیاسی باوا کی باچھیں کھل گئیں،اور وہ وہ اپنی جگہ سے اٹھا،باباجی کوایک سو کا نوٹ دیااور طوطے کو بادام کھلانے کے لیے الگ ایک سو روپیہ دیااور اپنی منزل کو چل دیا۔آج کل سیاسی باوا تذبذب کا شکار ہے اور اپنی ناکام ہوتی ہوئی پہش گوئیوں پر پشیمان ہے مگر اسے یقین ہے کہ حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں’’یقین کامل کہ پیر کامل ‘‘اب دیکھیں ہوتا ہے کیا ۔طوطا فال کے بعددیکھتے ہیں کہ سیاسی باوا کون سا طریقہ،فلسفہ یا عمل اختیار کرتے ہیں،جس سے انکی پیش گوئیوں پر پڑنے والی خاک اڑ کر حکمرانوں کی آنکھوں میں جا پڑے اور سیاسی باوا جی کا وقار خاک میں نہ ملنے پائے۔حکمرانوں کو بھی چاہیئے وہ جن باوا کے ڈیرے پر جا کر سیاسی باواجی کا توڑ ڈھو نڈیں اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں یہ کیا بنا پھرتا ہے۔ملک میں آگ لگا نے والا سیاسی جادوگر۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqsood Anjum Kamboh

Read More Articles by Maqsood Anjum Kamboh: 38 Articles with 19052 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2016 Views: 376

Comments

آپ کی رائے