جوان شہداء بیٹوں کی کشمیری مائیں

(Sami Ullah Malik, )

ان دنوں بھارت کی وزارتِ تعلیم کے اخلاقی دیوالیہ پرایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے جب عام آدمی پارٹی کے انکیت لعل نے حکومت کے ایک تصدیق شدہ ٹوئٹرکی طرف دنیابھرکی توجہ دلائی جس میں ایک بھارتی ابھے کمارکی ایک ہندی نظم کو شئیر کیاگیاجس میں انڈین فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ کشمیریوں پر اتنی دیر تک گولیاں برساتے رہیں جب تک وہ شہر کے لال چوک میں وندے ماترم گاتے ہوئے نہ آ جائیں ۔اس میں یہاں تک لکھا گیا کہ یہ عوامی مفاد میں جاری کی گئی ہے ان سب کے لیے جو اپنی زندگی سے پیار کرتے ہیں کہ وہ خاموشی سے شہر کے چوک میں آ جائیں اور قومی ترانے گائیں اور اس پر کوئی چوں چراں نہ کریں۔

مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزکی درندگی انتہاء کوپہنچ چکی ہے لیکن جدوجہدآزادی کے متوالے مسلسل کرفیوکی پابندیوں اوران تمام مظالم کے باوجود اپنے شہداء کے لاشے اور سینکڑوں کی تعدادمیں بصارت سے محروم اپنے عزیزوں اورہزاروں کی تعدادمیں زخمیوں کے صدمے اٹھانے کے ساتھ ساتھ تازہ دم ہوکرسڑکوں گلیوںاوراب توفوجی کیمپوں کے سامنے سینہ کھولے آزادی کے نعرے لگارہے ہیں۔اب توبھارت کے سیاستدان کے علاوہ ہرمکتبہ فکرکے افراد بھی کھلم کھلامودی حکومت پرنکتہ چینی کررہے ہیں اورمعاملہ یہاں تک پہنچ گیاہے کہ بدنام زمانہ''را''کے سابقہ سربراہ نے غیرملکی میڈیاکوانٹرویودیتے ہوئے تسلیم کرلیاہے کہ دن بدن بھارت کی کشمیرپرگرفت انتہائی کمزورہوتی جا رہی ہے اور آنے والے دن بھارت کوکسی بڑے صدمے سے دوچارکرسکتے ہیں۔ بھارتی حکومت نے حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کیلئے اپنے پارلیمانی وفداور اپنے وزیرداخلہ کی معیت میں بات چیت کی سرتوڑکوشش کرنے کیلئے کئی دن کشمیرمیں گزارے لیکن ان سب کوانتہائی شرمناک ناکامی کامنہ دیکھناپڑاجب کسی بھی رہنمانے ان سے ملنے سے انکارکر دیااورکشمیری عوام نے ایک مرتبہ پھراپنے ہردلعزیز سیدعلی گیلانی،میرواعظ ، یٰسین ملک اوردیگررہنماؤں پرمکمل اعتمادکرتے ہوئے جدوجہدآزادی کی تحریک کواپنے لہو سے زندہ رکھاہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب تومقبوضہ کشمیرمیں پولیس کی ملازمت نفرت کی علامت بن گئی ہے۔کشمیرمیں پولیس کے سینکڑوں اہلکاروں پراہل خانہ،رشتے داروں، دوستوں اوراہل محلہ کی جانب سے یہ ملازمت ترک کرنے کانہ صرف دباؤ بڑھ گیاہے بلکہ ہونے والے ظلم وستم کی بناءپرانہیں سخت شرمندگی، خجالت اور بدنامی کاسامنابھی ہے۔درجنوں اہلکاراستعفے دے چکے ہیں جن میں اکثریت نے مجاہدین تنظیموں میں بھی شمولیت اختیارکرلی ہے جبکہ مزید کئی درجن پولیس اہلکاروں نے پولیس کی نوکری کوخیربادکہنے کافیصلہ بھی کرلیاہے۔ادہرایک الگ رپورٹ میں بھارت کے ایک مشہوراخبار'' ہندوستان ٹائمز''نے بتایاہے کہ کشمیرمیں جاری تحریک حریت کشمیرکے سبب کشمیریوں میں پولیس اورفوج کے خلاف نفرت دوچند ہوچکی ہے ۔بھارتی میڈیاکے مطابق کشمیری قوم کے بچے بھی احتجاجی ریلیوں میں شریک ہیں اورپولیس اورفوجی اہلکاروں سے مرعوب ہونے کی بجائے ان پرلاٹھیاں تانتے ہیں اوراسی پراکتفانہیں بلکہ کشمیری عورتیں بھی میدان عمل میں کودچکی ہیں اورایسے کئی مناظردیکھنے کومل رہے ہیں کہ نہتی کشمیری خواتین باقاعدہ پتھروں اورلاٹھیوں سے جوابی حملے کرتی ہیں۔

کشمیرپولیس کے ذرائع کاکہناہے کہ پولیس کاامیج بربادکرنے میں وادی سے باہر سے بلوائے جانے والے''سی آرپی ایف ''اور''راشٹریہ رائفلز''کےاہلکاروں کااہم کردارہےجو کشمیر ی بچوں اورخواتین پرمظالم اورتشدداوران کی بے حرمتی میں ملوث ہیں۔حیدرپورہ پولیس اسٹیشن کے مقامی ایس ایچ اونے بتایاہے کہ سی آرپی ایف اورراشٹریہ رائفلزکے غیر مقامی اہلکاروں نے ہمارے لئے بھی بڑے مسائل کھڑے کردیئے ہیں جن کے بارے میں ہم نے مکمل شواہداورثبوتوں کے ساتھ ہائی کمان کورپورٹس بھجوادی گئی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ادہرایک اہم رپورٹ میں ''ٹریبون انڈیا''نے آئی جی مقبوضہ کشمیرپولیس کے حوالے سے انکشاف کیاہے کہ ۹جولائی۲۰۱۶ء سے ۹اگست ۲۰۱۶ء تک ایک ماہ میں۳۲۰۰ کشمیری نوجوانوں کواحتجاجی تحریک کے دوران گرفتارکیاگیاجس سے صرف کولگام ،پلوامہ اور شوپیاں میں گرفتارکئے جانے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد۱۳۰۰ہوچکی ہے۔ان نوجوانوں کومختلف حراستی مراکز میں رکھاگیاہے اوران کے اہل خانہ کے مطابق ان کے بچوں کوبغیرعدالتی کاروائی کے حراستی مرکزمیں بدترین تشددکا نشانہ بنایا جا رہاہے ۔یہ ایک ماہ پرانی رپورٹ ہے جس کے بعدتوشہداء ،زخمیوں اورگرفتاریوں کی تعدادمیں کئی گنا اضافہ ہو چکاہے۔

کشمیری میڈیاکے مطابق کشمیرمیں بھارتی افواج اورپولیس کے مظالم پرچھ اگست کوکشمیری آئی اے ایس آفیسررفیدہ اسلام نے بھی پولیس کوکڑی تنقیدکا نشانہ بنایاتھااور بھارت بھرمیں آئی اے ایس امتحان میں ٹاپ کرکے اعلیٰ انتظامی ملازمت کی حقداراس ایماندارکشمیری بیٹی نے کشمیرپولیس اورسیکورٹی فورسز کی کاروائیوں کوحدسے تجاوزقراردیکران کورکوانے کامطالبہ کیاتھا۔اس مطالبے پررفیدہ اسلام کوسوپورکے متعصب ہندوایس پی پولیس ہرمیت سنگھ مہتانے تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاتھاکہ اعلیٰ بھارتی افسررفیدہ اسلام کوکشمیرپولیس پر تنقید کے بعدچاہئے کہ ملازمت ترک کرکے علیحدگی پسندوں کے ساتھ بندوق تھام لے۔ واضح رہے کہ رفیدہ اسلام ۲۰۱۳ء میں کشمیرپولیس میں اعلیٰ عہدے پر تعینات تھیں،جن کو۲۰۱۵ء میں آئی اے ایس امتحان کامیابی سے پاس کرنے کے بعد وزارتِ خزانہ دہلی میں تعینات کیاگیاتھا۔وہ کشمیرمیں بھارتی پولیس اورسیکورٹی فورسزکی جانب سے پیلٹ گنوں کے استعمال پرشدیدبرہم ہوگئیں تھیں کیونکہ ان کاآبائی تعلق بھی کشمیرسے ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں ایک پانچ سالہ کشمیری بچے کی کشمیرپولیس سے نفرت کی کہانی اجاگرکرتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ بچے کشمیرمیں تعینات بھارتی پولیس اورفوج کے سامنے سینہ تان کرکھڑے ہوتے ہیں،اگران بچوں کو بندوق یا لاٹھیاں دکھاکرڈرانے کی کوشش کی جائے تووہ جواباً پتھربرساتے ہیں۔ معروف کشمیری جریدے کشمیرریڈرنے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کشمیرپولیس میں تعینات مسلمان ملازمین نے تسلیم کیاہے کہ ان پرملازمت ترک کرنے اورکشمیریوں پرتشددمیں ملوث ادارے سے الگ ہوجانے کادباؤ موجودہے اورانہوں نے دوسری ملازمتوں کی تلاش کاکام بھی شروع کردیاہے ۔ کشمیرریڈرسے خصوصی گفتگو میں پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی پولیس اہلکار نذیراحمدنے بتایاکہ کشمیریوں پرجان لیواتشدداوربالخصوص چھروں والی گنوں کے استعمال سے ہزاروں نوجوانوں کے زخمی،معذوراورنابیناہوجانے کے واقعات نے کشمیری نوجوانوں میں پولیس اورپیراملٹری فورسزکیلئے
شدیدنفرت پیداکردی ہے۔

نذیراحمدنے تسلیم کیاکہ ان کیلئے اوران جیسے سینکڑوں کشمیری پولیس اہلکاروں کیلئے موجودہ خطرناک صورتحال میں یہ اب ممکن نہیں رہاکہ وہ ہر روزگھرجائیں اس لئے وہ پولیس اسٹیشن یابیرکس میں رہنے پرمجبورہیں کیونکہ جب وہ گھرجاتے ہیں توسب چھوٹے بڑے ان پریلغارکر دیتے ہیں۔ نذیراحمدکے بقول میری''بوڑھی ماں مجھ سے قسم دیکر پوچھتی ہے کہ بیٹانذیر!تم نے کسی مسلمان پرہاتھ تونہیں اٹھایا؟میری بیوی اوربیٹی کارویہ بھی مجھ سے درشت ہو گیاہے۔ان کاکہناہے کہ کشمیرہندوؤں کانہیں ہے مسلمانوں کاہے اوراس جنت نظیر وادی میں مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والی مودی حکومت کاساتھ دیناگناہ کبیرہ اور کفرکاکام ہے، اس لئے آپ (نذیراحمد)کشمیرپولیس کی ملازمت ترک کردیں''۔ کشمیرریڈرسے گفتگومیں نذیراحمد نے کہاکہ بیس سال سے پولیس میں ہیں اوراب موجودہ حالات میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کیلئے درخواست دے دی ہے اوریہی صورتحال میرے کئی پولیس دوستوں کی ہے جو پولیس فورس کو چھوڑے کافیصلہ کرچکے ہیں۔
بڈگام پولیس اسٹیشن میں تعینات ایک اوراسسٹنٹ سب انسپکٹرنے اپنانام ظاہرنہ کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ وہ جب بھی گھرجاتے ہیں تواہل محلہ انہیں انتہائی نفرت اورحقارت سے دیکھتے ہیں اوربزرگ حضرات اورمسجدمیں ملنے والے نمازی اورامام مسجدان کو سمجھاتے ہیں کہ بیٹا،بھارتی حکومت کے مظالم میں شرکت اختیارکرکے تم گناہ کاارتکاب کر رہے ہو،اگرموقع ملے توپہلی فرصت میں کشمیرپولیس کی ملازمت ترک کرکے فوری توبہ کرو،اسی میں دین اوردنیاکی بھلائی ہے۔اسسٹنٹ سب انسپکٹرکاکہناتھاکہ اس کے گھرمیں گھستے ہی اس کی سات سالہ بیٹی ان کوپکڑ لیتی ہے اورپورے محلہ اوراطراف کے علاقوں میں شہیدوزخمی اورتشددکا شکار بنائے بنائے جانے والے کشمیریوں کی رودادسناتی ہے اوراس کے بعد وہ اپنے ننھے منے ہاتھوں سے میرے ہاتھوں کوتھام کرمجھ سے عہدلیتی ہے کہ پاپاآپ کسی بھی کشمیری پرقطعاًہاتھ نہیں اٹھائیں گے اوریہ کہہ کراس نے مجھ پرلرزہ طاری کردیا بالخصوص کشمیری بچوں پرپیلٹ گن استعمال کرتے ہوئے یااس کا حکم دیتے ہوئے یادرکھیں کہ آپ کی بیٹی گھربیٹھے ہی اگرآنکھوں کی بینائی سے محروم ہوجائے توآپ پرکیا گزرے گی؟

ادہرحریت ذرائع کاکہناہے کہ کشمیرپولیس کے درجنوں اہلکارگزشتہ ماہ میں ملازمت ترک کرچکے ہیں اوران کی دلی ہمدردیاں مجاہدین اورتحریک آزادی ٔ کشمیرکے ساتھ ہیں جبکہ درجن بھرایسے اہلکاربھی ہیں جوپولیس کی ملازمت ترک کرکے جنگجوؤں کے ساتھ جاملے ہیں اوربندوق تھام کر ''جہاد''میں شامل ہوچکے ہیں۔کشمیرکی ''زیوان پولیس لائنز'' سے اولڈ سرینگربھیجے جانے والے پولیس انسپکٹراعجازنے بتایاہے کہ ماضی میں پولیس کی ملازمت بہت عزت والی تھی لیکن حالیہ ایاّم میں کشمیریوں پرتشددکی کاروائیوں سے عام کشمیریوں میں پولیس اہلکاروں کی عزت دوکوڑی کی ہوچکی ہے اورہرکوئی ان کونفرت کی نگاہ سے دیکھتاہے۔

نجانے کیوں مجھے ان دنوں قائدتحریک جناب سیدعلی گیلانی کایہ بیان دن رات تڑپارہاہے جس میں انہوں نے میاں نوازشریف صاحب کوبڑی دلسوزی کے ساتھ یہ پیغام ارسال کیاہے کہ جس طرح آپ مودی کی ماں کااحترام کرتے ہیں، جوان شہداء بیٹوں کی کشمیری مائیں بھی آپ سے اسی احترام کاتقاضہ کرتی ہیں! کیا نوازشریف صاحب اس پیغام کے بعدکشمیریوں کومطمئن کرنے کیلئے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کسی ٹھوس اورمثبت اقدام کے اعلان کرنے کے بعد کشمیری ماؤں کواپنی وفاداری کایقین دلانے کیلئے تیارہیں؟ساری قوم اس کی منتظرہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226445 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2016 Views: 357

Comments

آپ کی رائے