آرمی چیف کب ایکشن لیں گے؟

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)
سو چ رہاتھا کہ کس موضوع پر کالم لکھا جائے ،موضوعات بہت ہیں۔سندھ میں ایم کیوایم کا مسئلہ ،کراچی میں ایس ایس پی کا ایکشن اور فوری معطلی،باجوڑ میں جمعے کے دن مسجد میں دھماکہ ، پانامالیکس پر حکومت کی خاموشی اور پی ٹی آئی کا احتجاج یا حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کا نیا طوفان لیکن پھر سوچا کہ اس سب کا حل ایک ہی ہے کہ آرمی چیف پر کالم لکھا جائے ۔

اس وقت ہر جگہ ایک ہی بحث ہورہی ہے کہ اس ساری صورت حا ل میں آرمی جنرل راحیل شریف جس کے بارے میں مشہورہے کہ وہ مجرموں ،ملک دشمنوں ،دہشت گردوں میں بلاتفریق کارروائی کرتے ہیں ان کے نزدیک جرم جرم ہوتا ہے وہ کوئی بھی کرے ان کو اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی ایسا کام نہ کرے جنرل شریف کے اسی سوچ کی وجہ سے ان کی مقبولیت پورے ملک سمیت ہرجگہ موجود ہے۔ ملک کے موجود حالات کی وجہ سے ان پر ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہے جہاں ایک طرف ملک دشمن عناصر پاکستان کے مختلف شہروں خصوصاًکراچی اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت بڑھی ہے ،بھارتی حکومت کھل کر پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہاہے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا افغانستان کے خفیہ ایجنسی کے ذریعے پاکستان میں براہ راست کارروئیاں بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ۔اس طرح بھارت کا بلوچستان میں شدت پسندوں اور باغیوں کی مدد کرنا اب کھلا عام ہوگیا ہے ۔ دوسری طرف آپریشن ضرب عضب میں جہاں پاک فوج کو کامیابیاں ملی ہے وہاں پر شدت پسند وقتاً فوقتاً قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں حملے بھی کرتے رہتے ہیں ۔ گزشتہ روز باجوڑ کے مسجد میں خود کش حملے نے ایک دفعہ پھر ان لوگوں پر ظاہر کردیا جو شدت پسندوں یا نام نہاد طالبان کے روپ میں انسان دشمنوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں کہ یہ لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔ انہوں نے ملک دشمن قوتوں کیلئے پیسوں کی خاطر ایک دفعہ پھر معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا یا ، ان کو اب معلوم ہوا کہ پاک فوج کامقابلہ میدان جنگ میں نہیں کیا جاسکتا ،اب سول اداروں اور عام لوگوں کو ٹارگٹ بنایا جائے ۔ ملک دشمن قوتیں پوری قوت کے ساتھ آپریشن ضرب عضب کو ناکام بنانے اور پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کو روکنے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود پوری قوم متحد ہے کہ جو بھی قربانی دینی پڑے گی ہم اس وطن کیلئے دیں گے لیکن دشمن طاقتوں اور ان دہشت گردوں کے سامنے حوصلہ نہیں ہار یں گے جس طرح دہشت گردی کے خلاف پاک فوج قربانیاں دی ہے اسی طرح خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے کے لوگوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن پر قربان ہوئے جن کی شہادت سے ملک میں اجالا ہوا ہے لیکن ان سب کے باوجود حقیقت یہ بھی ہے کہ جس ملک وقوم میں عدل وانصاف ، قانون کی بالادستی ختم ہو جائے وہ قوم اور ملک زوال پذیر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ انصاف اور قانون کا پیمانہ سب کے لئے برابر ہوگا تو ملک میں عد ل قائم رہے گا اور عوام کا اداروں پر اعتماد قائم ہو گا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ جب غریب اور عام لوگ قانونی کی خلاف ورزی کرے تو ان کو سزا ملے اور جب بڑا آدمی یا ادارہ قانون سے بالاتر ہو ،اس طرح ملک میں انتشار پھیلے گا عام لوگوں کا عتبار اپنے اداروں سے اٹھ جائے گا۔ گزشتہ روز خیبر پختونخوامیں اٹک کے قریب موٹروے پولیس کے ساتھ آرمی کے جوانوں نے اپنے ایک آفسر کے حکم پر جو کیا اس سے پر پوری قوم آفسردہ اور غم ذدہ ہے ۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ قانون صرف عام آدمی یا سیاست دانوں کے لئے ہیں ۔ آرمی آفسروں کے لئے اس ملک کا قانون و آئین کوئی حیثیت نہیں رکھتا ،۔ان کا اپنی حکمرانی ہے جس طرح قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں نے اپنا قانون بنایا تھا جس کی تشریح شدت پسند صرف کرتے کہ کون سچ اور جھوٹا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پوری فوج کی سوچ اس طرح ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ فوج میں بعض آفسروں کی سوچ ایسی ہی ہے جس طرح انہوں نے پاکستان کے سب سے اچھے ادارے موٹروے پولیس کے اہلکاروں پرزیادتی کی ، ان پرظلمانہ اور بے راحمانہ تشدد کیا گیاجس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اب پوری قوم کی نظریں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف ہے کہ وہ اس آفسر اور فوجیوں کے خلاف کیا ایکشن لیتے ہیں ، تقریباً چار پانچ روز پہلے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان جس میں تحقیقات کا کہہ گیا تھا اب تک مزید کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ مسئلہ کسی کے ذات یا ادارے کے اہلکاروں پر تشدد کا نہیں ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کا ہے جس طرح عام لوگ طالبان یا شدت پسندوں کی کارروئیوں کو قانون سے بالاترسمجھتے ہیں اس طرح یہ واقعہ بھی قانون سے بالا ہے ۔ آرمی چیف نے اگر ایکشن لیا ہے تو اب تک اس آفسر کو فارغ اور کورٹ مارشل کیوں نہیں کیا گیاہے ۔ آئی ایس پی آر کا تر جمان اس تمام صورت حال پر قوم کو میڈیا کے ذریعے آگاہ کریں تاکہ آئندہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرات نہ ہو یہ معاملہ آرمی چیف جنرل راحیل کیلئے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے آفسروں کو کیا سزا دیتے ہیں ؟جنرل راحیل شریف اگر اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو تاریخ میں نام تو اپنی جگہ آئے گا لیکن ملک کے باقی اداروں اور سیاستد انوں کیلئے بھی ایک سبق ہوگا۔ موٹروے پولیس واحد ادارہ ہے جس نے اپنی ساکھ بہتر بنائی ہے۔ اس ادارے کے آفسروں نے مجھ سمیت کئی صحافیوں اور سیاست دانوں کو بھی ٹر یفگ رول کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا ہے ۔ اگر آج اس ادارے کے اہلکاروں پر تشدد کرنے والے آرمی آفسروں کو سزا نہ ملی تو یہ ادارہ بھی تباہ ہوجائے گا یا ادارہ آئندہ کسی بڑے آدمی کو جرمانہ نہیں کرے گا ۔دیکھنا اب یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے کب میڈیا کو بریفنگ دی جاتی ہے اور یہ خبر دی جاتی ہے کہ ملوث آرمی اہلکاروں کو فوج سے فارغ کر دیا گیا ۔اگر یہ نہیں ہوتا تو اس ملک کا اﷲ ہی محافظ ہواور پھر اس ملک کی تباہی اﷲ ہی روک سکتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 126062 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
19 Sep, 2016 Views: 458

Comments

آپ کی رائے