کشمیریوں کی جدوجہد میں تیزی اور بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ

(Sohail Aazmi, )
بھارتی فضائیہ کے سربراہ اروپ راہا نے ایک بیان میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں آزاد کشمیر کانٹے کی طرح چبھتاہے۔ 1947ء میں پاک فوج نے قبائلیوں کی مدد سے اس پر قبضہ کیا تھا اس وقت ہم کمزور تھے۔ ہماری فضائیہ اب بہت مضبوط ہے۔ ہم اب کشمیر کے دفاع کیلئے بھرپور کارروائی کی پوزیشن رکھتے ہیں۔ حالانکہ 1965ء کی جنگ میں بھی بھار ت کی فضائیہ کو پاکستان کی نسبتا کمزور فضائیہ سے ہزیمت اٹھانی پڑی تھی اب جبکہ کشمیر میں گذشتہ کئی ماہ سے آزادی کی جدوجہد میں بڑی تیزی آگئی ہے۔ سینکڑوں کی تعدا دمیں کشمیری شہید ہوچکے ہیں ، جن میں بچے، خواتین اور بوڑھے بھی شامل ہیں، کاروبار زندگی مکمل طورپر معطل ہے۔ کئی ماہ سے کرفیونافذ ہے۔ گذشتہ58دنو ں میں 700سے زائد کشمیریوں کی آنکھیں پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے متاثر ہوچکی ہیں۔ بھارتی فورسز کی درندگی پر بھارتی ڈاکٹر بھی چلا اٹھے ہیں ۔ ہر دو گھنٹے کے بعد ایک کشمیرکی آنکھ کو پیلٹ گنوں کا نشانہ بنایاجارہاہے۔ بھارتی فوج کے مظالم میں اقوام عالم، خصوصا انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ، او آئی سی کی جانب سے پراسرار خاموشی کے باعث آئے روز اضافہ ہورہاہے۔ شام ہوتے ہی بھارتی فوج کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر تشدد کرنا روز کا معمول بن گیاہے۔ نوجوانوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی آڑ میں 10ہزار گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ 700خواتین پر تشدد اور 250نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ اب تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بھارتی فورسز اور حکومت ظلم و ستم کا ہر وہ طریقہ استعمال کررہی ہے جس سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبایا جاسکے لیکن اسے کامیابی کی بجائے ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ ایسے میں جب بھارت کو اپنے زیر تسلط کشمیر پر قبضہ رکھنا محال ہورہاہے آزاد کشمیر کی بات کرنا اور 1947ء کی شکست کا رونا رونا ان کی بوکھلاہٹ کا پتہ دیتی ہے۔ جوں جوں بھارتی فوج کی جانب سے ظلم بڑھ رہاہے کشمیریوں کی جدوجہد میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے۔ اب بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کی بجائے مرچوں والے گرنیڈ بم استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ اسکے علاوہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے اہلکار اب پانی کی کین اور کان بند کردینے اور آواز پیدا کرنے والے ہتھیار بھی استعمال کررہے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد میں تیزی اور بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ میں اضافہ ہورہاہے۔ بھارتی مودی سرکار اب کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کو کچلنے اور اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کیلئے جنگ کی فضاء پیدا کررہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک حال ہی میں دئیے گئے بیان میں ہر بھارتی سے اپیل کی کہ ہر بھارتی اوپن بینک اکاؤنٹ میں فوجی اسلحہ خریدنے کیلئے ایک روپیہ جمع کروائے۔ ان کے مطابق فنڈ سے ماہانہ 30ارب روپے اور 3کھرب 60ارب روپے سالانہ جمع ہوجائیں گے۔ مودی سرکار کی ان جارحانہ پالیسیوں کو ان کے اپنے اب شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ BJP کی خاتون سربراہ مایاوتی نے ایک بیان میں کہا کہ جب سے مرکز میں BJPکی سرکار بنی ہے تب سے ملک میں مسلم سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ رویہ انتہائی سخت اور جابرانہ ہے ان کے مطابق غلط پالیسیوں کے باعث فرقہ پرست طاقتیں مضبوط ہورہی ہیں۔ جس کی وجہ سے گائے، رکھشنا اور تبدیلی مذہب کی آڑ میں اقلیتوں کا استحصال ہورہاہے جسکے باعث بھارت کی سلامتی داؤ پر لگادی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سرکار نے اب تک اپنا ایک بھی وعدہ پور انہیں کیا ۔ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ وہ لوگوں کی توجہ اپنی ناقص کارکردگی سے ہٹانے کیلئے پاکستان سے جنگ اور کشمیریوں پر مزید تشدد تک کا قدم اٹھا سکتی ہے۔ بہرحال بھارتی حکومت کچھ بھی کرے اب معلوم ایسا ہوتاہے کہ آزادی کی تحریک اب رکنے کی نہیں ہے۔ حریت قیادت نے بھی بھارتی وفد کو صاف جواب دیدیا اور سب جیل میں ملاقات کیلئے آنے والے وفد سے ملنے سے علی گیلانی میرواعظ اور ملک یاسین نے ملنے سے انکار کردیا ۔ جبکہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے بھارت کو ایشیاء میں دہشت گردی کی سب سے بڑی صنعت قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی دباؤ میں آئے بغیر کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں۔ ان کے مطابق بھارت الٹا امریکہ کو اکسا رہاہے کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے ۔ انہوں نے حالیہ بھارت امریکہ معاہدوں کو بھی اس سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ اور جنوب المجاہدین کے سپریم کمانڈر کے مطابق کشمیر کو آزاد کرانے کا واحد راستہ جہاد ہے۔ ہم مقبوضہ وادی کو بھارتی فوجیوں کا قبرستان بنادیں گے۔ اگر بھارت نے کشمیر کے مسئلے کو نہ سمجھا اور اپنی ہٹ دھرمی اور سابق روش پر قائم رہا تو کشمیریوں کی جدوجہد پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ مودی ہو یا را ہم سب کی چالوں کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چائنہ راہداری کے خلاف پڑوسی دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنایاجائیگا۔ بھارتی کشمیر میں کشمیری راہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی جدوجہد 70دن گزرنے کے باوجود کوئی کمی دیکھنے میں نہی آرہی۔ دنیا بھر میں بھارتی حکومت کے ظلم و بربیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہے ہورہے ہیں۔ عالمی ادارے کی انسانی حقوق کی کونسل کو بھارتی حکومت نے کشمیر تک رسائی کی اجازت نہ دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ وہاں پر جاری جارحیت، بربریت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہاہے۔ وہ جتنے لوگوں کو شہید اور زخمی کرتاہے اتنا ہی کشمیر کی آزادی کی آگ مزید بھڑکتی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان جسکا جھنڈا کشمیری اٹھاکر بھارتی فوج کے سامنے انہیں للکارتے ہیں جگہ جگہ پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں اپنے شہیدوں کو پاکستانی جھنڈوں میں لپیٹ کر دفن کررہے ہیں پاکستان کے نام پر سینے پہ گولیاں کھارہے ہیں اپنے سفارتی ذرائع کو تیز کرے۔ OICکو متحرک کرنے کے علاوہ JUIکے سربراہ کو فوری طورپر کشمیرکمیٹی کی سربراہی سے ہٹاکر کسی ایسے شخص کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنائے جو ہماری اور کشمیریوں کی آواز کو موثر انداز میں پیش کرسکے کیونکہ کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کسی بھی لحاظ سے قابل تعریف اور قابل تحسین نہیں ہے۔ ہماری حکومت کشمیریوں کی حسب سابقہ اخلاقی و سفارتی امداد کو جاری رکھے کیونکہ اب وہ دن دور نہیں جب کشمیریو ں کی اپنی جدوجہد ضرورت رنگ لائے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 73984 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Sep, 2016 Views: 438

Comments

آپ کی رائے