بھارت کی سفارتی تخریب کاری کا توڑ !

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
بھارت اگر بلوچستان کے مسئلے کو عالمی ادارے میں اٹھانے کا خواہشمند ہے تو پاکستان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ انڈیا کی اس کوشش کو بھارت میں آزادی کی جدوجہد کرنے والی ریاستوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اقوام متحدہ میں اٹھائے۔ریاست کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور اقوام عالم کے علاوہ خود بھارت نے مسئلہ کشمیر کا حل رائے شماری کے ذریعے کرائے جانے کا عالمی اور علاقائی عہد کر رکھا ہے۔بھارت ریاستوں تریپورہ،،مانی رام،آسام اور ناگالینڈ میں عشروں سے بھارت سے آزادی کی سیاسی اورمسلح تحریکیںجاری ہیں اور ان ریاستوں میں بھارت نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ نافذ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انڈین پنجاب میں سکھوں کی بھارت سے آزادی کی سیاسی اور مسلح جدوجہد خاص طور پر اسی کی دہائی میں تیز ہوئی،بھارت نے ہزاروں سکھوں کو ظالمانہ طریقے سے ہلاک کرتے ہوئے اور دوسرے بھیانک مظالم سے وقتی طور پر سکھوں کی آزادی کی مسلح جدوجہد پر قابو پایا لیکن دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم سکھ اب بھی اس تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔بھارت نے سکھوں کی طاقت کو تقسیم کرنے کے لئے پنجاب کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا ۔سکھوں کے تحریک آزادی کے خلاف بھارت کی ظالمانہ کاروائیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اگر بھارت کھل کر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی مدد و حمایت کرتا ہے تو پاکستان کے لئے بھی بھارت کی کئی ریاستوں میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت ضروری ہو جاتی ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے عالمی ادارے میں کشمیر کا مسئلہ پیش کرنے کی صورت بھارت پاکستان کے خلاف بلوچستان کا مسئلہ اٹھائے گا۔اس طرح بھارت پاکستان کو'' بلیک میل'' کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر اس نے کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا تو بھارت اس کے جواب میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کرے گا۔عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ کشمیر اور بلوچستان کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں ہے۔ اگر بھارت پاکستان کے ایک صوبے کے مسائل کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر اٹھاتا ہے تو اس صورت پاکستان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں کھلی مداخلت کے جواب میں بھارت کی کئی ریاستوں میں جاری آزادی کی تحریکوں اور وہاں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی عالمی پلیٹ فارم پہ پیش کیا جائے۔

بھارت اگر بلوچستان کے مسئلے کو عالمی ادارے میں اٹھانے کا خواہشمند ہے تو پاکستان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ انڈیا کی اس کوشش کو بھارت میں آزادی کی جدوجہد کرنے والی ریاستوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اقوام متحدہ میں اٹھائے۔ریاست کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور اقوام عالم کے علاوہ خود بھارت نے مسئلہ کشمیر کا حل رائے شماری کے ذریعے کرائے جانے کا عالمی اور علاقائی عہد کر رکھا ہے۔بھارت ریاستوں تریپورہ،،مانی رام،آسام اور ناگالینڈ میں عشروں سے بھارت سے آزادی کی سیاسی اورمسلح تحریکیںجاری ہیں اور ان ریاستوں میں بھارت نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ نافذ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انڈین پنجاب میں سکھوں کی بھارت سے آزادی کی سیاسی اور مسلح جدوجہد خاص طور پر اسی کی دہائی میں تیز ہوئی،بھارت نے ہزاروں سکھوں کو ظالمانہ طریقے سے ہلاک کرتے ہوئے اور دوسرے بھیانک مظالم سے وقتی طور پر سکھوں کی آزادی کی مسلح جدوجہد پر قابو پایا لیکن دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم سکھ اب بھی اس تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔بھارت نے سکھوں کی طاقت کو تقسیم کرنے کے لئے پنجاب کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا ۔سکھوں کے تحریک آزادی کے خلاف بھارت کی ظالمانہ کاروائیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اگر بھارت کھل کر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی مدد و حمایت کرتا ہے تو پاکستان کے لئے بھی بھارت کی کئی ریاستوں میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت ضروری ہو جاتی ہے۔
بھارت کی ہٹ دھرمی کے باوجود مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر حل طلب مسئلے کے طور پر تسلیم شدہ ہے اور اب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے حق اور بھارتی مخالفت میں جاری مسلسل عوامی مزاحمت تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور بھارتی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خود ارادیت کے مطالبے کے لئے پرامن مظاہرہ کرنے والے کشمیری عوام کو اپنی فورسز کے ظالمانہ ،انسانیت سوز طریقوں سے دبانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔دوسری طرف بلوچستان اسی طرح پاکستان کا صوبہ ہے جس طرح باقی تین صوبے ہیں۔ امریکہ نے بھی واضح کیا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا صوبہ ہے اور امریکہ اس کی علیحدگی کی تحریک کی حمایت نہیں کرتا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں اس بات پہ زور دیا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پرامن طور پر حل کرانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرے ۔نواز شریف نے جان کیری کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال بھی بیان کی۔اس کے بعدوزیراعظم محمدنوازشریف نے برطانوی وزیراعظم تھریسامے سے ملاقات میں کہا کہ نہتے کشمیریوں کوظلم وجبرکانشانہ بنایاجارہاہے،مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اوربھارتی جارحیت فوری بند ہونی چاہیے،عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کوریاستی مظالم بند کرنے کیلئے کہے،اگرعالمی برادری بھارتی ریاستی دہشتگردی بندکرانے میں کامیاب نہ ہوئی توبھارت کی حوصلہ افزائی ہوگی اوربھارتی ریاستی دہشتگردی میں مزیداضافہ ہوگا،کشمیرپرسلامتی کونسل کی قراردادوں پرفوری عمل کیاجائے،جموں کشمیرکے عوام کواپنافیصلہ خود کرنے کااختیار دیاجائے،ہم دنیاکوکشمیرکے حوالے سے کئے گئے وعدے سے بھاگنے نہیں دیں گے،کشمیرکاز کیلئے پاکستان کامقف دوٹوک اورواضح ہے،کشمیریوں کوکسی صورت تنہانہیں چھوڑیں گے،برطانوی وزیراعظم مقبوضہ کشمیر کے عوام پرظلم وستم بندکرانے میں کردارادا کریں۔اسی روز امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ماری ہارف نے ایک بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ کشمیر کا تنازعہ دہشت گردی کا ؤمعاملہ نہیں ہے،یہ تنازعہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے معاملے سے قطعی مختلف ہے اور ان دونوں معاملات کا ایک دوسرے سے کنفیوز نہیں کیا جانا چاہئے۔امریکی ترجمان نے کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ کشمیر کو ایک تنازعہ سمجھتا ہے جس انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی مزاکرات سے حل کیا جانا چاہئے۔

بھارت کشمیریوں کو اپنی فوجی طاقت سے کچلنے کی مسلسل کاروائیوں میںانسانیت سوز جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے ۔کشمیرمیں معصوم بچوں،خواتین،بوڑھوں ،جوانوں کو ہلاک، تشدد،گرفتاریوں اور معذور کرنے کے بھیانک جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے،اس صورتحال میں بھارت کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ اوڑی میں فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے میں اپنے سترہ فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ کی آڑ لیتے ہوئے ،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر ہونے والی مسلسل پامالی اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر پردہ ڈال سکے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کر رہا ہے ،اسے صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ،بلکہ یہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے مہذب نہتے عوام کے خلاف قتل و غارت گری اور بھر پور مظالم کی صورتحال درپیش ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 318792 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
20 Sep, 2016 Views: 416

Comments

آپ کی رائے