اڑی میں بھارتی ڈرامہ

(Meher Basharat Siddiqui, )
مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے اڑی سیکٹر میں بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والا حملہ گذشتہ 10سالہ تاریخ میں ہندوستانی فوج پر ہونیوالے حملوں میں سب سے بڑا حملہ ہے،فوجی ہیڈ کوارٹر کے اندر کی مکمل خبر حملہ آوروں کو پہلے سے تھی۔بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی‘‘ نے مقبوضہ کشمیر کے اڑی سیکٹر میں علی الصبح ہونیوالے حملہ میں 17بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، گذشتہ دس برسوں میں بھارتی فوج پر ہونیوالے حملوں میں سے سب سے بڑا حملہ قرار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ہیڈ کوارٹر میں اتنی بڑی تعداد میں ہونیوالی ہلاکتوں کی بڑی وجہ ڈیوٹی میں تبدیلی کا وقت تھا جس میں فوجی جوان زیادہ ریلکس ہو جاتے ہیں،حملہ آوروں کو شفٹ کی تبدیلی کا مکمل علم تھااور انہوں نے آرمی بیس میں گھستے ساتھ ہی دستی بم پھینک کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کی وجہ سے فوجی جوانوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ گذشتہ دس برسوں میں کسی ایک حملے میں فوج کایہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ اس سے پہلے 2002 ء میں تین خود کش حملہ آوروں نے سرینگر سے 300 کلومیٹر دور کالوچک کے بھارتی فوجی کوارٹر پر حملہ کیا تھاجس میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اڑی سیکٹر کے فوجی اڈے پر حملہ ہوتے ہی بھارتی میڈیا نے روایتی الزام تراشی شروع کردی اور حملے کی مکمل تفصیلات سے پہلے ہی بعض چینلز نے اسے پاکستان کا گیم پلان تک قرار دے ڈالا۔بھارتی چینلز کی روایتی ہٹ دھرمی سے لگتا ہے کہ کہیں حملہ مودی سرکار کا رچایا ہوا بھارتی ڈرامہ تو نہیں؟بھارتی میڈیا کے مطابق فوجی اڈے پرحملے میں 17فوجی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جبکہ حملہ آوروں کی تعداد 4تھی۔ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل برائے ملٹری آپریشنز نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کیمپ پر حملے میں پاکستان کو ملوث کئے جانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی ہم منصب سے کہا ہے کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے دونوں اطراف سخت ترین اقدامات کی وجہ سے دراندازی ممکن ہیں نہیں۔ اگر بھارت اس حملہ کی تحقیقات چاہتا ہے تو اسے قابل عمل اور ٹھوس معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ بھارت کی درخواست پر پاکستان کے ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحر شمشاد اور بھارتی ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ کے درمیان ہاٹ لائن پر گفتگو ہوئی۔ دونوں عسکری قائدین نے کنٹرول لائن پر تازہ صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا۔ پاکستان کے ڈی جی ایم اور نے بھارت کے بے بنیاد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت انٹیلی جنس معلومات فراہم کرے جو قابل عمل ہوں۔ پاکستان کی سرزمین سے کسی دراندازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ویسے بھی کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سخت ترین بندوبست کی وجہ سے دراندازی ممکن ہی نہیں۔ پاکستان نے بھارت کے بے بنیاد الزامات مسترد کر دیئے۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے بھارتی ہم منصب سے قابل اعتبار معلومات دینے کے لیے کہا۔ ڈی جی ایم او نے کہا کہ بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں۔ بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو فراہم کرے۔ پاکستان کی جانب سے کوئی دراندازی نہیں ہو رہی۔ بھارتی ڈی جی ایم او رنبیر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ حملے کی ابتدائی تحقیقات مکمل ہو گئی، چاروں حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے تھا، وہ انتہائی تربیت یافتہ تھے، ان کے قبضے سے 4۔اے کے رائفل اور گرینیڈ لانچر برآمد ہوئے۔ انہوں نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ برآمد ہونے والے سامان پر پاکستان کی مہر ہے۔ بارہمولہ ڈرامے کا پردہ اختتام سے پہلے ہی چاک ہوگیا، اصل واقعات اور میڈیا کو دی گئی معلومات میں کھلا تضاد سامنے آگیا۔ اصل حقائق سامنے رکھیں تو کئی ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں جن کا جواب صرف وہی دے سکتاہے جس نے یہ ڈرامہ رچایا ہے۔ بارہمولہ حملے کا بھارتی ڈرامہ اختتام سے پہلے ہی بے نقاب، اصل واقعات اور میڈیا کو دی گئی معلومات میں کھلا تضاد سامنے آگیا۔ بھارتی حکام کادعویٰ، حملہ 12 بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر کیا گیا۔ حقیقت اس کے برعکس، حملہ 10 ڈوگرہ بٹالین کے ہیڈ کوارٹر پر ہوا جہاں سکھ فوجیوں کی اکثریت ہے اور وہ پٹرول کا بڑا ڈپو ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ حادثاتی آگ لگنے سے ہوسکتا ہے، اکثر ہلاکتیں بھی خیمے میں آگ لگنے سے ہوئیں تو کہیں خفت سے بچنے کے لیے حادثے کو حملہ بنا کر پیش تو نہیں کیا جا رہا؟ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے پہاڑ توڑنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اس قدر دباؤ میں ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران بھارتی بربریت کا جواب دینے سے گریز کرگئے۔ انہوں نے اپنی جگہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو آگے کر دیا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی 17 ستمبر کو روس کے دورہ پر جانا تھا مگراسے منسوخ کردیا۔ یہ کارروائی ان کے سکرپٹ کا حصہ اور منصوبہ بندی بھی ہوسکتی ہے۔ ایسے میں اس طرح کے حملے کسے مدد دے سکتے ہیں۔ اوڑی کا علاقہ ہندو اکثریت کے جموں میں شامل ہے حملہ آوروں نے وادی کشمیر میں کسی آسان ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کے بجائے سخت سیکورٹی والے علاقے کا انتخاب کیوں کیا، بھارت کی جانب سے ایل او سی میں لیزر باڑ نصب کی گئی ہے جبکہ دن رات بھارتی فوجی سراغ رساں کتوں کے ساتھ گشت کرتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے حملہ آور لیزر باڑ اور سراغ رساں کتوں کو چکمہ دے کر ایل او سی عبور کرلے۔ حساس مقامات سے ہو کر بٹالین ہیڈ کوارٹر کے اندر گھس جائے اور پھر جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس بھارتی فوج کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونا یہ سب ناممکن ہے۔ انڈیا ٹوڈے نے لکھا کہ ہیڈکوارٹرز کے اندر فوجی پٹرول ٹینک میں بھررہے تھے کہ گرنیڈ حملوں سے بیرکس میں آگ بھڑک اٹھی۔ حواس باختہ بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملہ 12 بریگیڈہیڈکوارٹرز پر کیا گیا جبکہ حملہ تو ڈوگرہ ارجمنٹ کے ہیڈکوارٹرز پر ہوا۔ یہ ڈرامہ کشمیر میں مظالم پر بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہوسکتا ہے۔ ڈوگرہ بٹالین کے ہیڈکوارٹرز میں سکھ فوجیوں کی اکثریت ہے اور وہاں پٹرول کا بڑا ڈپو ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ حملہ آور لیزرباڑ اور سراغ رساں کتوں کو چکمہ دے کر ایل او سی عبور کرلے؟بی جے پی کے ترجمان نے حملے کی خبر سن کر چھوٹتے ہی کالعدم لشکر طیبہ کو اس کا ذمہد ار قرار دے دیا جبکہ بھارتی ڈی جی ایم او نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کئے بغیر ہی عدالت لگاکر کالعدم جیش محمد پر فردجرم عائد کردی۔ بھارتی ڈی جی ایم او کے مطابق اسلحے پر پاکستانی نشانات تھے، یہ بات بھی ہضم نہیں ہوتی، اگر بھارتی الزام کو درست مان بھی لیا جائے توکیا کوئی اس قدر سادہ لوح ہوسکتا ہے کہ حملے کیلئے میڈ ان پاکستان والا اسلحہ استعمال کرے۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ بارہمولہ پرحملہ نہیں ہوا بلکہ یہ بھارت کا روائتی ڈرامہ ہے جو اقوام متحدہ میں پاکستان کے بھارتی جارحیت بے نقاب کرنے کیلئے موقف کمزور کرنے کے لیے رچایا گیا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Meher Basharat Siddiqui

Read More Articles by Meher Basharat Siddiqui: 101 Articles with 34450 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2016 Views: 398

Comments

آپ کی رائے