عافیہ صدیقی! اس شب کی سحرہوگی کبھی؟

(Faisal Shahzad, Karachi)
۲۳ ستمبر !وہ سیاہ دن جب امریکا کی عدالت نے دختر پاکستان عافیہ صدیقی کو ۸۶ برس قید کی سزا سنائی، وہ دن جب علم وحکمت کو امریکی زنداں کی دیواروں میں چن دیا گیا، وہ دن جب عصمت وناموس کو سولی پر چڑھایا گیا،وہ دن جب امریکا کے فرعون صفت حکمرانوں اوریہودی منصفوں نے انصاف کا گلا اس طرح گھونٹا کہ ساری دنیا میں اس کی سسکیاں سنائی دیں۔

ہاں اس دن شرافت کو وحشت ،علم کو جہل ، خیرخواہی کو دشمنی اورامن پسند ی کو دہشت گردی کا لباس پہنایا گیا ۔کون سا ثبوت تھا امریکی عدالت کے پاس کہ عافیہ صدیقی پر لگائے گئے جھوٹے الزامات ثابت ہوسکتے ۔ایک بھی نہیں۔ ایسی دھاندلی کہ خو دمنصف مزاج امریکی صحافیوں اورقانون دانوں نے بھی کیس کوانتہائی کمزور بلکہ مبنی بر دروغ قراردیا ۔ خودجج کا بیا ن تھا ۔میرے پاس ٹھوس ثبوت کوئی نہیں ۔‘‘

مگر عافیہ کی مجبوری یہ تھی کہ اس کے وکیل ہی اس کی آزادی کے سوداگر تھے۔خود ا س وقت کے حکمرانوں نے اس کی قید وبند کی قیمت وصول کی تھی۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے عافیہ کو بار بار بیچاہے۔امریکی حکام نے کہہ دیا تھا کہ اگر حکومت پاکستان لکھ کر دے کہ عافیہ بے قصور ہے تو ہم اسے آزاد کردیں گے ،مگر خود ہمارے ملت فروش حکمران دختر فروش بن چکے تھے ۔انہوں نے خود عافیہ کے خلاف کیس کو مضبوط کیا اوریوں ابدی بدبختی کاطوق اپنے گلے میں ڈالا۔

عافیہ پر ظلم کرنے والے امریکی ہوں یا پاکستانی ،انہیں اس ظلم سے سوائے آخرت کی تباہی کے کچھ نہیں ملنے والا۔رہی عافیہ تو اس کے لیے چھیاسی سال کیاچھیاسی صدیاں بھی برابر ہیں۔جس نے اپنی زندگی مولاکے لیے وقف کردی ہو ،اس کے لیے امن یا جنگ ،صحرا یا دریا،تحت شاہی یا قید خانہ سب برابر ہیں۔ بنات اسلام ! سوچنے کی بات ہے عافیہ کو اس قید ِ جان کاہ میں بھی اپنی پروانہیں ۔ہم اس کی رہائی کے لیے بے تاب ہیں مگر اسے اپنی رہائی کی اتنی پروانہیں۔اس کا چٹانوں جیسا حوصلہ اورپہاڑوں جیسا بلند عزم دیکھ کر شیطنت دیواروں سے سر ٹکرانے پر مجبورہوتی ہے اورباطل اپنے زخم چاٹنے لگتاہے۔
 
ہمیں یاد ہے یابھول گئے کہ جب عافیہ صدیقی کوشدید زخمی حالت میں عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے کیا کہا تھا۔اس نے اردگرد جمع ہونے والے لوگوں کو پلٹ کر دیکھا اورکہا :
’’کیاہے کوئی مسلمان جو میری بات سنے۔ مجھ پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم اپنی جگہ لیکن کوئی ہے جس کادل اس بات پرتڑپ اٹھے ،جس کی غیرت اس بات پر جاگے کہ میرے راستے میں قرآن مجید کے مقدس اوراق پھینکے جاتے ہیں۔مجھے مجبور کیا جاتا ہے کہ میں ان پر برہنہ چلوں ،مجھے کہا جاتاہے کہ اگر ایسا کروگی تبھی تمہیں تمہارے وکیل اوربھائیوں سے ملنے کاموقع دیا جائے گا۔ میں ایساکرنے سے انکار کرتی ہوں۔مجھے قرآن مجید کی توہین گوارا نہیں، آزادی سے محرومی قبول ہے۔‘‘

آج ڈاکٹر عافیہ کیس کے اصل مجرم پاکستان میں ہیں ۔صد شکر کہ ان کا دورِ اقتدارگزر چکا ہے۔وہ آمر جس کے دورمیں عافیہ کو اغوا کیا گیا ،آج حراست میں ہے۔ کیا عافیہ کا انسانی حق نہیں بنتا کہ اس ملت فروش سے پوچھا جائے کہ اس نے قوم کی بیٹی کو کس جرم کی سزا میں امریکا کے سپرد کیا۔ انصاف کا خون جب بھی ہوا ہے،اس کے داغ ان مٹ بنے ہیں۔ عافیہ کے ساتھ بے انصافی کرنے والے امریکی ہوں یا پاکستانی ،یہ مت بھولیں کہ اﷲ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ہمیں یقین ہے کہ عافیہ کو رہائی ملے گی۔اﷲ اپنی قدرتِ کاملہ وقاہرہ دکھا ئے گا، اعدائے دین کی ناک رگڑواکر دین محمدی کی آبرورکھنے والی ،اسوہ حسینی کو تازہ کرنے والی اس بندی کو،واپس لائے گا۔ اور اس کے ساتھ ظلم وستم کرنے والے کسی ایسے انجام کوپہنچیں گے جو تاریخ کے عبرت ناک ورق کے طور پر پہچاناجائے گا۔ان شاء اﷲ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Faisal shahzad

Read More Articles by Muhammad Faisal shahzad: 115 Articles with 112222 views »
Editor of monthly jahan e sehat (a mag of ICSP), Coloumist of daily Express and daily islam.. View More
22 Sep, 2016 Views: 442

Comments

آپ کی رائے