خود مختارکشمیرکی تجویز اقوام متحدہ میں

(Sardar Ashiq Hussain, Islamabad)
 کون جانتا تھا برہان مظفروانی کو؟ اس سال عید الفطر سے پہلے بہت کم لوگ 21 سا لہ برہان مظفروانی کے نام سے آشنا تھے مگر اب امریکہ ، چین برطانیہ، جاپان، سمیت دنیا بھر کے سربراھان مملکت جانتے ہیں کہ برہان مظفروانی کشمیریوں کی جدوجہد کی علامت ہے ۔بھگت سنگھ جس طرح انگریزوں کی نظر میں دہشت گرد تھا برھان وانی بھی اسی طرح بھارت کے لیے دہشت گرد قرار پایا ہے ، مگر وہ کشمیریوں کی نئی نسل کا ہیرو ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے پہلے اسے مجاہد کشمیر قرار دیا تھا اور اب اس کے نام سے پوری دنیا کو روشناس کرادیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے21 ستمبر کو اپنے موجودہ دور حکومت میں چوتھی بار خطاب کیا اپنی 20 منٹ کی تقریر میں نواز شریف نے 12 منٹ تک وہ وجہ بیان کی جس نے 21 سا لہ برہان مظفروانی کو بھارت کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا۔ برھان کے بڑے بھائی خالد مظفر کو چودہ اپریل2015 کو بھارتی فوج نے قتل کر دیا تھا ایک سال بعد عید کے دوسرے دن 8 جولائی کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے قصبے ترال کے مقامی ہائر سکنڈری سکول کے سابق پرنسل مظفر احمد وانی کا چھوٹا بیٹا برہان مظفروانیبھی بھارتی فوج نے ماورائے عدالت قتل کر دیا،۔برہان مظفروانی کی شہادت نے کشمیریوں کی تحریک کو نیا عنوان دیا، نئی سمت طے کی۔ اب برھان مظفر وانی شہید وہ پہلا کشمیری ہے جس کا نام عالمی ادارے میں سنائی دیا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے آئے توان کی گفتگو مشرق وسطیٰ، افغانستان، فلسطین اور کئی دوسرے تنازعات سے شروع ہوئی ۔ لگتا تھا کہ وہ جنوبی ایشیا کے دیرینہ تنازعہ کشمیر اور کشمیریوںکو نظرانداز کر رہے ہیں اور شاید مشرق وسطیٰ کے حالات تنازعہ کشمیر پر حاوی رہیں گے مگر جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا ذکر آیا تو نوازشریف نے دوٹوک کہہ دیا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت نوازشریف کا خطاب سن رہے تھے۔ نوازشریف نے اپنے خطاب میں کشمیریوں کی نئی تحریک انتفادہ کا ذکر کیا یعنی نوازشریف یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ کشمیر کے اندر جو بے چینی اور انقلاب کی تحریک جاری ہے وہ 100 فیصد مقامی نوعیت کی ہے۔ نوازشریف نے مقبوضہ کشمیر کے گذشتہ 75 دنوں کا احاطہ کیا وہاں بھارتی فورسز کے ظلم و جبر کی کہانی سنائی اور یہی نہیں تنازعہ کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے نقطہ نظر اور مطالبات کو عالمی رہنماوں کے سامنے بیان کیا ۔ نوازشریف کی تقریر میں بنیادی طور پر 8 ایسے نکات تھے جو پاکستان کی طرف سے اجاگر کئے گئے اور جن میں کشمیریوں کی مشاورت بھی شامل تھی۔ ان نکات میںکشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات ، اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو کشمیر بھجوانے کا مطالبہ شامل ہے تاکہ وہ بھارت ا کے بہیمانہ تشدد کی تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے شامل ہے اور یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے، سلامتی کونسل اپنی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے، بے گناہ کشمیریوں کو رہا کیا جائے اور کرفیو اٹھایا جائے۔ پاکستان غیر مشروط طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی تجویز کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کشمیر سے فوجیں نکال کر خود مختار کشمیر بنا دیں۔ وزیراعظم نوازشریف کے ناقدین کا مطالبہ رہا ہے کہ نوازشریف اس بڑے فورم پر مقدمہ کشمیر رکھنے سے پہلے کل جماعتی کانفرنس بلاتے اور کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیتے۔ بلاشبہ یہ اہم تجویز ہے۔ نوازشریف عید کے فوراً بعد مظفرآباد گئے تھے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت اور آزاد کشمیر کی قیادت سے مشاورت کی گئی تھی۔ نوازشریف کی تقریر کے بیشتر نکات وہ تھے جو کشمیری قیادت نے باہمی مشاورت سے نوازشریف کے نوٹس میں لائے تھے۔ آزادکشمیر کے نئے صدر سردار مسعود عبداللہ نے حریت کانفرنس سے مشاورت سے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کروایا تھا۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں نوازشریف نے انہی خطوط پر مقدمہ کشمیر پیش کیا ان نکات مین کشمیر سے فوجی انخلا کا نکتہ بھی شامل تھا۔کشمیر سے فوجی انخلاء کا معاملہ حساس ہے اس لئے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت فوجی انخلاء کا ایک میکانزم موجود ہے۔ یعنی جب فوجی انخلاء کا وقت آئے گا اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت بھارتی فوج کا کچھ حصہ کشمیر میں تعینات رہے گا جبکہ پاکستان کو اپنے ساری فوج نکالنی ہو گی۔ اس تناظر میں فوجی انخلاء کا یہ مطالبہ اس انداز میں کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت بیک وقت کشمیر سے فوج نکالیں۔ نوازشریف نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے ۔ برحال وزیراعظم نوازشریف نے جاندار انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ نوازشریف کے خطاب کی آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں ستائش کی گئی ہے۔ نوازشریف کے خطاب کے بعد ان کے سیاسی حریف حتی کہ تحریک انصاف کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی بھی خطاب کی ستائش کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ دراصل کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہو رہے مظالم کے تناظر میں کشمیری قیادت جو ڈیمانڈ کر رہی ہے اسی ڈیمانڈ کو وزیراعظم نوازشریف نے عالمی ادارے کے فلور پر رکھ دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 8 جولائی کو نوجوان عسکری کمانڈر برھان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریک انتفادہ ایک نئے انداز سے شروع ہوئی۔ اس تحریک کا مرکز و محور یہ ہے کہ کشمیری پرامن طور پر اپنے حق کی آواز بلند کریں ۔ اپنے حق کے لئے احتجاج کر رہے کشمیریوں کے لئے برھان مظفر وانی آزادی کا ایک استعارہ بن چکا ہے۔ اس نوجوان لڑکے نے اپنی جان کی قربانی دے کر کشمیر کی تحریک کو نئی جان دی ہے ۔ اس نوجوان کی سچائی، خلوص کا نتیجہ ہے کہ آج اس کا نام عالمی ادارے میں بھی فخر سے لیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ 8 جولائی کے بعد کشمیری عوام یک جان ہو کر حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کو یک جان کرنے میں برھان مظفر وانی کا نام سب سے اہم ہے۔ برھان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں کو روزمرہ کی تمام سرگرمیاں معطل کر کے آزادی کے لئے جدوجہد کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور اب جدوجہد میں مرد و زن، بچے بوڑھے سبھی شامل ہو چکے ہیں۔ بقول نواز شریف گزشتہ 2 ماہ میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے ایک سو سے زیادہ شہری شہید 6 ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہوئے، کشمیریوں کی نئی نسل ہندوستان سے آزادی چاہتی ہے۔ نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی پیلٹ گن کا بھی زکر کیا یہ ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ اس لئے کہ پیلٹ کے فائر سے نکلنے والے چھرے انسانی جسم کو چھلنی کر دیتے ہیں اور یہ چھرے آنکھوں میں لگیں تو آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنا دیتی ہے۔ استعماری ریاست اسرائیل نے بھی ایک دور میں فلسطینیوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا تھا۔ عالمی برادری کے دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال ترک کر دیا تھا مگر بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف اب بھی پیلٹ گن کا استعمال جاری ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ نوازشریف نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش نہیں کی کہ کشمیری پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں اور پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں بلکہ کشمیریوں کی جائز اور مبنی برحقیقت جدوجہد کو تحریک انتفادہ کے نام سے اجاگر کیا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کشمیریوں کو رائے شماری کا موقع ملتا ہے تو وہ کیا فیصلہ کریں گے۔ تاہم کشمیریوں کے فکری قائد سید علی گیلانی کہتے ہیں کہ ہماری امیدوں کا مرکز پاکستان ہے مگر کشمیریوں کی اجتماعی رائے اگر مختلف آئی تو میں اسے بخوشی قبول کروں گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Ashiq Hussain

Read More Articles by Sardar Ashiq Hussain: 58 Articles with 33468 views »

The writer is a Journalist based in Islamabad. Email : [email protected]
سردار عاشق حسین اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں..
.. View More
23 Sep, 2016 Views: 396

Comments

آپ کی رائے