ہم تیار ہیں

(Ghulam Ullah Kiyani, )
بھارتی جنگی جنون میں کشمیرمیں کرفیو، پابندیاں، ناکہ بندی، قتل عام کے 80دن مکمل ہو رہے ہیں۔ اب بھارتی فورسز گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے اور تشدد کے ساتھ خوراک کے ذخائر کو تلف کر رہے ہیں۔ قیمتی اشیاء اور نقدی و زیورات لوٹنے میں مصروف ہیں۔ کھیتوں اور کھلیانوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ کئی علاقوں میں میوہ باغات کاٹ دیئے گئے ہیں۔ سیب کے باغات خاص طور پر نشانے پر ہیں۔ اس سب کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر مزید تباہ کرنا ہے۔ بھارت حیران ہے کہ اڑھائی ماہ سے بھی زیادہ عرصہ تک یہ کیسے مسلسل کرفیواور پابندیوں کے دوران ہمت اور بہادری سے وقت گزار رہے ہیں۔ بلکہ مزاحمت بھی وقت گزرنے کے ساتھ تیزی آ رہی ہے۔

گزشتہ اڑھائی ماہ میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ چار ہزار سے زیادہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سیکڑوں نوجوانوں پر غداری کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔یہاں تک کہ بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے بعد بھارت کا جنگی جنون تیز ہو اہے۔ سرحدوں اور جنگ بندی لائن پر بھارت کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔ وہ مسلے کو انٹرنیشنلائز کرنے کے حق میں نہیں لیکن اس کا مقصد جنگ بندی کے آر پار کشمیریوں کو جنگ اور جارحیت سے ڈرانا دھمکاناہے۔ مظفر آباد، وادی نیلم، لیپا، جہلم میں جس سے بھی بات کریں وہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نظر آ رہا ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رضا کار فورس تشکیل دی جائے تو یہ کافی کار آمد ثابت ہو گی۔ یہ فورس تربیت یافتہ ہو ، ہنگامی حالات میں بچاؤ کارروائیاں، ریسکیو، بحالی کے اقدامات میں یہی رضا کار ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔ زلزلہ یا کسی دیگر آفت میں ان کا کردار اہم ہوتا ہے۔ اس وقت بھارت نے جنگی ماحول قائم کیا ہے۔ اس کا میڈیا بھی اسی جنون میں مبتلا ہے۔ عوام کو جنگ پر تیار کیا جا رہا ہے۔ جنگی ترانے بجائے جا رہے ہیں۔ گو کہ یہ ان کی بس کی بات نہیں تا ہم پاکستان اور اسلام دشمن طاقتیں ان کی پشت پر ہیں۔ انہیں جنگ کے لئے بڑھکا رہی ہیں۔ تا کہ ان کی اسلحہ فیکٹریاں چالو ہو جائیں۔

بھارت فوجی انخلاء کے بجائے مزید فوج مختلف بہانوں سے کشمیر میں داخل کرتا ہے۔ آج بھی اسے ایک موقع ملا ہے۔ بھارت کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو چار بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے: (۱) مہاراجہ کشمیر کی جانب سے ۲۶؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو دستاویزِ الحاق ہند (۲) ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو گورنر جنرل انڈیا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے دستاویزِ الحاق کو تسلیم کرنا (۳) ۲۶؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو مہاراجہ کشمیر کی جانب سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط جس میں بھارت سے الحاق کے بدلے بھارتی فوجی امداد کا مطالبہ اور شیخ محمد عبداﷲ ریاست کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا (۴) ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا مہاراجہ کشمیر کو خط کہ جس میں مندرجہ بالا امداد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا ریاست میں معاملات کے تصفیہ اور امن و قانون کی بحالی کے بعد ریاست کے الحاق کا سوال عوام کی ریفرنس سے حل کیا جائے گا۔ یعنی بھارت کے کشمیر پر قبضہ کا سارا دارومدا ر مہاراجہ کشمیر کی الحاق ہند کی دستاویز پر ہے جس کے بارے میں بالکل عیاں ہوچکا ہے کہ دو دستاویز یعنی دستاویزِ الحاق اور ماؤنٹ بیٹن کو خط جس پر مہاراجہ نے ۲۶؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو دستخط کئے تھے۔ ۲۶؍اکتوبر کو سرینگر سے جموں کی ۳۰۰ کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑک کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ اتنی طویل شاہراہ پر سفر کے دوران بھارت سے دستاویز الحاق کیسے ہوئی جبکہ مہاراجہ کے وزیر اعظم مُہرچند مہاجن اور کشمیر معاملات سے متعلق بھارتی سینئر افسر وی پی مینن دہلی میں تھے۔ دہلی اور عازمِ سفر مہاراجہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ مہرچند مہاجن اور وی پی مینن ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کی صبح ۱۰ بجے دہلی سے جموں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور مہاراجہ کو اسی دوپہر اُن دونوں کی زبانی اپنے وزیر اعظم کے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ کا پتہ چلا۔ یہاں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ جب بھارتی فوج نے سرینگر ہوائی اڈے پر قبضہ کیا اس کے بعد مہاراجہ کی مہاجن اور مینن سے ملاقات ہوئی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ بالا دستاویز پر مہاراجہ کشمیر کے دستخط نہیں تھے اور اگر کسی نام نہاد ستاویز پر دستخط کئے بھی گئے تو اُن پر ۲۶؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کی جعلی تاریخ رقم کی گئی۔

کشمیریوں کی نسل کشی، قتل عام ، مسلسل کرفیو، پابندیاں، پیلٹ فائرنگ، مہلک اسلحہ اورزہریلی گیسوں کا استعمال جیسے حربے بھارتی ناجائز تسلط کی توسیع کے لئے ہیں۔کشمیری گزشتہ چار صدیوں سے بیرونی قبضے اور جارحیت کی زد میں ہیں۔اب کشمیر پر بھارتی قبضہ ہی نہیں بلکہ انتہا پسند ہندؤں کی یلغار ہے۔ جسے کندھاکبھی نیشنلیوں اور کبھی پی ڈی پی کی روپ میں ایمان فروشوں نے دیا۔ جس کی قیادت مودی دھڑا کر رہا ہے۔ جس کی ہدایت پر لداخ کو کشمیر سے الگ کر کے دہلی کا علاقہ قرار دینے اور جموں کو الگ ریاست بنانے کی مہم تیز کی گئی ہے ۔اس تناظرمیں شیو سینا اور آر ایس ایس کے دہشت گرد مسلح مارچ کر رہے ہیں۔یہی انتہا پسند گائے کشی کی آڑ میں مسلمانوں کو زندہ جلارہے ہیں۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ خنزید کو مار کر مساجد میں پھینک دیتے ہیں۔ بھارت میں انھوں نے قرآنی اوراق پھاڑ کر سڑکوں پر پھیلائے۔ غلامی کا یہ نیا دور ہے۔ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں مسلہ کشمیر کو تنازعہ کشمیر کی طرف لے آنا ، دنیا کو برہان وانی شہید کا تعارف، عالمی تحقیقاتی کمیشن مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا مطالبہ آج کے دور کے اہم اقدامات ہیں۔ان سب کے پیچھے کشمیریوں کی لازوال قربانیاں ہیں۔ بھوکے پیاسے رہ کر سڑکوں پر آنا اور سینوں پر گولیاں کھانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔یہ جدو جہد اور انتفاضہ کاسلسلہ ہے۔ یہ سلسلہ یوسف شاہ چک کے دور سے تھما نہیں۔اقتصادی ناکہ بندیاں، قتل عام، کم سن بچوں کو نابینا بنا کربھارت اپنے قبضے کے حق میں جو دلائل دے رہا ہے وہ سراسر گمراہ کُن ہیں۔اوڑی حملے کی آڑ میں اور کبھی پارلیمنٹ، کبھی پٹھانکوٹ اور کبھی ممبئی حملوں کی آڑ میں آزاد کشمیر پر قبضہ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مگر پاکستان اور کشمیر کا اعلان ہے کہ ہم تیار ہیں۔ کشمیر کی جنگ بندی لائن پر آباد لوگ بھی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ان کے عزائم بلند ہیں۔ پاکستا ن کو رضا کار فورس کی فوری تشکیل کے بارے میں غور کرنا چاہیئے۔ نہتے عوام آج بھارت کو للکار رہے ہیں۔ یہ کمانڈو بن جائیں، ان کے ہاتھ میں اسلحہ آ جائے تو ان کا عزم کیا ہو گا۔ تا ہم ان کا اعلان ہے کہ ہم مکمل تیار ہیں۔ بھارت کو پتہ نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 585 Articles with 229369 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
27 Sep, 2016 Views: 582

Comments

آپ کی رائے