گزشتہ سے پیوستہ!!

(Shafqat Ullah, )
گزشتہ سے پیوستہ رہتا ہے سب !وقت کی رفتار کے ساتھ جو دوڑے اسی کے ہاتھوں میں ہے تقدیر کی ساری باگ ڈور ۔برصغیر پا ک و ہند بلکہ ایشیائی خطے میں ہمیشہ سے دو چیزیں یکساں نظر آئیں ہیں وہ یہ کہ یہاں حق و باطل کی کڑیوں اور انسانیت و اخلاقیات کے مضامین سے پاک لوگ چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں ۔جب برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت اور مغلیہ دور تھا تو ہندوؤں کے راجہ مہاراجہ اور انگریز سبھی مسلمانوں کے سامنے سر جھکاتے تھے اور انکی تعریفوں کے بند باندھتے نہ تھکتے تھے ۔اس کے بعد جب انگریزوں کا دور حکومت آیا تو یہ بھارتی سورما ء انگریزوں کے سامنے جھک گئے اور آج تک جھکے ہوئے ہیں جن مادریت سے بغاوت کرنے والے لوگوں نے انگریزوں کے سامنے جھکنا پسند کیا اور انکا حکم ہر حال میں تسلیم کیا انہیں انگریزوں نے بہت سی دولت سے نوازا لیکن ان عقل کے اندھوں کو یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ انہیں کی دولت ہے جو انہیں غلامی کے عوض حاصل ہو رہی ہے ۔یہ بات سچ ہے کہ کئی ممالک آج بھی آزاد ہونے کے باوجود غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہیں اور اس غلامی کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں ان میں افغانستان ،ایران اور بھارت جیسے ممالک سر فہرست ہیں ۔حالیہ دنوں میں پاکستان میں معاشی استحکام اور امن قائم ہوتا دیکھ کر ان غلام ذہن عناصر اور عقل کے دشمنوں میں ایک تشویش کی لہر دوڑ کر رہ گئی ہے اور وہ صرف بھارت کی غلامی کی وجہ سے ہے پاکستان میں بننے والی اقتصادی راہ داری اور گوادر پورٹ منصوبے کو لے کر نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ ،افغانستان اور ایران بھی تشویش میں مبتلا ہے کہ آخر پاکستان کرنے کیا جا رہا ہے ؟پاکستان میں ہوتے اس معاشی استحکام کی وجہ سے دشمن ممالک تلملا اٹھے ہیں جو کہ حالیہ واقعات میں واضح نظر آ رہا ہے کبھی بلوچستان میں ایران کے راستے بھارتی مداخلت پکڑی جاتی ہے تو کبھی افغانستان سے پاکستان داخل ہوتے طالبان کمانڈر ملا منصور ایک ڈرون حملے میں مارا جاتا ہے مطلب یہ کہ امریکی پینٹا گون جو کبھی تھا! یا یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ اب بھی امریکہ ،بھارت ،ایران ،افغانستان اور اسرائیل کی صورت میں موجود ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ خطے کی بقا ء اور دنیا میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کی جنگ لڑی ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ پاکستان کا استحکام اس پینٹا گون کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے ۔امریکہ اور بھارت اول دن سے ہی پاکستان کے وجود کے خلاف ہیں جبکہ منافقین کی موجودگی بھی ہمارے ساتھ ہے اس وقت ایران اور افغانستان میر جعفر اور میر صادق کا کردار نبھا رہے ہیں وہ اس طرح کہ سب سے پہلے ایران وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو آزاد ریاست کی حیثیت سے سب سے پہلے اسلامی ریاست تسلیم کیا تھا اور افغانستان شاید بھول گیا ہے کہ جب سوویت جنگ ہوئی تھی تو کس طرح نے پاکستان نے افغانستان کی مدد کی تھی اور سوویتی فوجیوں کو شکست دے کر بھگایا تھا لیکن احسان فراموش اس قوم نے پاکستان کو اچھائی کا یہ صلہ دیا کہ الٹا پاکستان کے خلاف ہی زہر اگلنے لگا ہے ۔اگر دیکھاجائے تو دہشتگردی کا آغاز بھی اسی سوویت جنگوں کے بعد ہوا کیونکہ یہی افغان اور ایرانی بغاوت کرنے والی ایمان فروش جماعتوں نے ہی ایران اور افغانستان کو جنگ کی آگ میں جھونکا ۔ پھر جن ممالک نے افغانستان اور ایران کا ساتھ دیا انہی کے در پے ہو گئے جس کا خمیازہ آج تک پاکستان بھگت رہا ہے اور ضرب عضب کی صورت میں پوری دنیا کی جنگ اکیلے لڑ رہا ہے اسکے با وجود بھارتی ہٹ دھرمی اور ہرزہ سرائی تھمنے کا نام نہیں لیتی ۔کبھی ممبئی حملے میں پاکستان کو ملوث کر نے کی ناکام کوشش کرتا ہے تو کبھی پٹھان کوٹ حملے میں حالیہ دنوں میں ایک خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ بھارت کا جو آفیسر پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کر رہا تھا اور ان تحقیقات میں اس نے پاکستان کے ملوث نہ ہونے کی تصدیق کی تھی نے ’’ را‘‘ کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا جس کی وجہ سے اسے قتل کروا دیا گیا ہے ۔افغان صدر نے بھارت میں جا کر پاکستان کے خلاف زہر اگلی ہے وہ بھی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اول دن سے ہی ایران ،بھارت ، افغانستان اور دیگر پینٹا گون کے اہم رکن پاکستان کے مخالف رہے ہیں اور پاکستان پر مسلط کی گئی یہ دہشتگردی کی جنگ صرف و صرف معاشی استحکام نہ ہونے دینے کی وجہ سے تھی کیونکہ پینٹا گون کو واضح ہو چکا تھا کہ پاکستان نے ایٹمی بم بنا کر اپنا دفاعی نظام نا قابل تسخیر بنا لیاہے اور آئندہ دنوں میں اگر پاکستان میں معاشی استحکام آگیا تو ان دشمن عناصر کا جو کاروبار ہے وہ بند ہو جائے گا۔کیونکہ واضح طور پر سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت کس ملک کی معیشت کا دارومدار کس کاروبار پر منحصر ہے اور بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ سب سے زیادہ سود مند کاروبار اسلحہ کا ہے یہی ایک وجہ ہے کہ امریکہ کے سپر پاور بننے کے بعد سے اب تک پوری دنیا خاص طور پر مسلم ممالک حالت جنگ میں ہیں ۔ایسٹ انڈیا کمپنی جیسا لولی پاپ اب امریکہ کی جانب سے بھارت ،ایران اور افغانستان کو دے دیا گیا ہے جس کو لے کر یہ تینوں ممالک بہت خوش ہیں لیکن انہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کرنے تو کاروبار آئی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ برصغیر پاک و ہند کی مالک بن گئی۔چاہ بہار پورٹ کے اس معاہدے کے بعد نہ تو ایران اور افغانستان میں امریکہ اور بھارت کو دہشتگردی نظر آرہی ہے بلکہ یہ ممالک اب دودھ کے دھلے بھی ثابت ہو گئے ہیں کہیں نہ کہیں ایسا لگتا ہے کہ امریکہ ان ممالک پر پراکسی کی بدولت اپنی بادشاہت قائم کر چکا ہے لیکن کم سے کم مسلم ممالک کو تو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہمیشہ عظیم جنگیں صلیبی جنگوں کے نام پر ہوئیں ہیں جس میں یہودی لابی نے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈے کئے۔ افغانی صدر کی جانب سے پاکستان مخالف زہر اگلنا ایسا ہے جیسے کوئی کٹھ پتلی کسی شیطان کے ہاتھوں پر ناچ رہی ہوافغانستان کو جو ترقیاتی فنڈ بھارت کی جانب سے دئیے جائیں گے وہ اصل میں افغانی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کئے جانے کیلئے دئیے جا رہے ہیں جسکا فائدہ بھارت اور امریکہ خوب اٹھائیں گے جو کہ مستقبل میں افغانی ،ایرانی اور خطے میں موجود تمام مسلمانوں کیلئے خوش آئند بات نہیں ہے۔عصر حاضر میں بھلائی اسی میں ہے کہ وقت کی کروٹ کو سمجھا جائے اور مستقبل میں ہونے والی مسلم مخالف بدترین چال کو ابھی سے ناکام بنا دیا جائے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 88234 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
28 Sep, 2016 Views: 382

Comments

آپ کی رائے