حسنِ خیالــــــ’’تیرا خیال‘‘

(Saleem Sarmad, )
 جہانِ فانی میں بلند پایہ خصوصیات ،خدمات اور منفرد کارناموں سے ابدیت و آفاقیت حاصل کرنے والے نام اشخاص نہیں بلکہ شخصیات کہلاتے ہیں،اور ایسی شخصیات کے نام تاریخ کے اوراق میں زریں حروف سے رقم کیے جاتے ہیں۔علم وحکمت اور دانائی کے منابع ،اولیائے اﷲ،صوفیائے کرام،مفکرین و مفسرین ان کا موازنہ آپس میں کیا جا سکتا ہے نہ ہی عہدِحاضر کے دانشوران اور دیگر مشاہیر کے ساتھ۔ان تمام ہستیوں نے اپنی اپنی منفرد خصوصیات کی بنا ء پرانسانیت کی خدمت کی اور معاشروں کو تمدن بخشا۔گو کہ دنیا ان کے وصال سے پیدا شدہ خلا کو معمور کرنے سے قاصر ہے مگر فطرت اپنی رعنایاں ضرور دکھاتی ہے اور ایسی شخصیات ضرور پیدا ہوتی ہیں جو وسعتِ کائنات میں اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کے دم پراپنا ایک الگ اور منفرد مقام بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں،اور زندگی کے مختلف شعبوں میں معاشرے کی بقاء اور ترقی کے لیے اپنی خدمات پیش کرتی ہیں۔

سیاسیات،سماجیات،معاشیات،اخلاقیات ،علم وادب اور زندگی کے دیگر شعبوں میں ہرجگہ قائدانہ کردار کی ضرورت ضرور ہوتی ہے۔

شعر و ادب کی بہتری اور ترقی کے لیے بھی مقامی اور قومی سطح پرقائدانہ کردار کی حامل شخصیات کارنامہ ہائے نمایاں ضرور سرانجام دیتی ہیں۔

شعروادب میں ڈیرہ غازی خان سے ایک ایسا ہی نامِ حیات جناب محبوب حسین خان المعروف محبوبؔ جھنگوی کا ہے جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

جناب محبوب حسین جھنگوی ایک شہرۂ آفاق شاعر،ادیب،دانشور،ایک شفیق استاد،اخلاق و اقدار کا مثالی پیکر،شعروادب کے افق پر تابندہ ستارہ،عشق وحسن کا خوبصورت استعارہ،وسیع النظر،وسیع القلب،فنی و فکری صلاحیتوں کی حامل ایک پر کشش شخصیت، ادبی تقریبات کے روحِ رواں۔

ڈیرہ غازی خان میں ہونے والی ادبی تقریبات اورآرٹس کونسل میں ہونے والے مشاعروں میں شرکت کی وجہ سے ان کی قربت نصیب ہوئی توان کی مسحور کن شخصیت اور شفقت و محبت نے انکا فریفتہ کر دیا،متعدد ایوارڈ یافتہ شاعرو ادیب،متعدد شعری اور نثری مجموعوں کے مصنف و مؤلف۔

گزشتہ دنوں ہی ان کانیاشعری مجموعہ ’’تیرا خیال‘‘ چھپ کر منظرِ عام پر آیاجس نے قاریئن میں بے پناہ مقبولیت اور ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل کی۔میری خوش بختی کہ ایک عدد نسخہ انھوں نے مجھے بھی بطور ہدیہ پیش کیاجس پر میں تہہ دل سے ان کا مشکور ہوں۔

ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کے باوجودگھر آ کربوجھل ہاتھوں کے ساتھ جب پہلی بار’’تیرا خیال‘‘ کے ابتدائی اوراق الٹے تو مزاج پر ایک پر مسرت اور ہیجان خیز کیفیت طاری ہو گئی،مختلف موضوعات پر مبنی اشعار مسرور کیے جا رہے تھے،ایسا محسوس ہو رہا تھاکہ جیسے محبوبؔ جھنگوی اپنے محسوسات و جذبات کی نہیں بلکہ میرے محسوسات و جذبات اورحالات و واقعات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

جناب محبوب ؔجھنگوی کی شاعری روایتی مگر جاندار اور جاذب ،کلاسیکی اسلوب پر مشتمل ہے ،حالات و واقعات کی عکاس ،سہلِ ممتنع،روایت وجدت کاحسین امتزاج،فصاحت و بلاغت سے مرصع کلام،روانی اور سلاست میں رچا عام فہم، تکلف اور لفاظی سے پاک ۔
شعر دیکھئے محبوبؔ جھنگوی نے کس طرح رعنائی حسن ،رنگ و بو ،خوشبوئے گل اور صبا کا اثبات کیا ہے،
؂رنگ خوشبوئے گل،صبا ہے تو،
تو بھی کچھ بول اور کیا ہے تو۔

انسان جب اپنے مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں مصروف ہوتا ہے وہیں اس کے ساتھ جڑی یادیں،اسکا ماضی کبھی نہ کبھی درِ دستک ضرور ہوتا ہے۔کچھ خوشگوار یادیں،کچھ مغموم گزرے لمحات انسان کو چند قدم پیچھے ضرور لے جاتے ہیں،اسی طرح کی کچھ پرانی یادیں محبوبؔ جھنگوی کی پرانی کتابوں میں بھی چھپی ہیں۔
؂بیتے دنوں کی یاد نگاہوں میں پھر گئی،
نکلے جو خشک پھول پرانی کتاب سے۔

محبوبؔ جھنگوی جہاں عشق و مستی میں سرشار پیار اور محبت کا استعارہ ہیں،وہیں وہ زمانے کی بے حسی،کاہلی،قوموں کی غفلت،جہالت اور فرسودیت کے خلاف ا پنی روشن خیالی،تعمیری اقدامات، اور اپنی غور و فکر کے ساتھ کاربند اور حالت ِ جنگ میں ہیں۔ مدبرانہ سوچ کے مالک محبوبؔ جھنگوی نصیب کا رونا رو نے کے بجائے،محنت اور عمل کے ساتھ حالات کے دھارے کا رخ موڑنے میں کچھ اس طرح مصروفِ عمل ہیں،
؂تاریکیوں میں ہم نے اگائے ہیں آفتاب،
ہم وہ نہیں جو روتے ہیں رونا نصیب کا۔

زندگی جہدِ مسلسل اورجستجو کا نام ہے حالات و واقعات کی تلخیوں میں گھرا انسان اگر حساس اور ذمہ دار ہو تو وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت نہیں برتتا بلکہ وہ اپنے فرائض و حقوق کی ادائیگی احسن سے سر انجام دیتا ہے،محبوبؔ جھنگوی بلا شبہ معاشرے کی ایک حساس شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار اور شفیق باپ بھی ہیں،فرائضِ پدری کے حوالے سے وہ یوں طمانیتِ قلب کا اظہار فرماتے ہیں ،
؂جل رہا ہوں اگرچہ کڑی دھوپ میں ،
پھر بھی خوش ہوں کہ بچوں پہ سایہ تو ہے۔

جہاں حاکمِ وقت کے آگے زبانیں گنگ ہو جاتی ہوں،جہاں سائل پہ رعب اور دہشت سے کپکپاہٹ اورلرزش طاری ہو جاتی ہو،جہاں بے حس معاشرے اور ارباب و اختیار کے سامنے حق گوئی ایک جرم کیا گناہ تصور کیا جائے وہاں محبوب ؔجھنگوی نے ایوانِ عدل پہ پڑی زنجیر کھینچ کرمقتدر حلقہ کے درِاحساس پر دستک دی بھی تو اپنے لیے مراعات نہیں مانگیں بلکہ معاشرے کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کی ترجمانی کی کچھ اس طرح سے۔
؂اس کی ہمت ہے اے عدل انصاف کر،
در کسی نے ترا کھٹکھٹایا تو ہے۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں جہاں اجتماعی معاشرے کا تصور پایا جاتا ہے وہیں پر ہر انسان نظریہء ضرورت کے تحت اپنی زندگی انفرادی طور پر بسر کر رہا ہے،آسائشات و سہولیات کا طلبگار انسان ہر جگہ پر اپنے مفاد کو ترجیح دینے لگا ہے،رشتوں پر ضروریات اوراشیاء کو فوقیت حاصل ہے،انسان کے محسوسات و جذبات کی کوئی قیمت نہیں،اخلاق و اقدار سے عاری معاشرے میں ایک حساس ،با اخلاق،باکردار اور با مروت انسان کی زندگی کسی امتحان سے کم نہیں۔یہی کچھ محبوبؔ جھنگوی کے ساتھ ہوا،ایک عمر تک حقِ دوستی ادا کرنے والے محبوب ؔجھنگوی دوستوں کی بے اعتنائی و بے مروتی اور مطلب پرستی کی وجہ سے بالآخر اس بات پر منتج ہوئے،
؂اپنے مطلب کے محبوب ہیں یار سب،
دیر ہی میں سہی ہوش آیا تو ہے۔

ذرا اس شعر میں محبوب ؔکے محبوب کی سادگی اور شاعر کی تحمل مزاجی دیکھیے،
؂سوچ کر تم فریب دیتے ہو،
جان کر ہم فریب کھاتے ہیں۔

مادہ پرستی کے اس دور میں ہر شخص حصولِ مال و زر اور خواہشوں کی تکمیل میں الجھا ہوا ہے ،صبر و قناعت کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے لوگ برائے نام ملتے ہیں،جناب محبوب ؔجھنگوی کی عاجزی و انکساری اور تقویٰ دیکھیے۔
؂ہم کو جو کچھ دے دیا تقدیر نے،
ہم اسی پر اکتفاء کرتے رہے۔

اسی طرح محبوب ؔجھنگوی کی تصنیف’’تیرا خیال‘‘ سے چند مزید منفرد اشعار دیکھتے ہیں،
؂ شبِ ہجراں جو ہم پہ بیت گئی ،
کاش تجھ کو بھی کچھ پتہ ہوتا۔
آپ کرتے نہ کچھ علاج مگر،
قصہء غم تو سن لیا ہوتا ۔

؂وہ نظر ہم سے کیا پھری اے دل،
اپنی دنیا اجڑ گئی اے دل،
ان کے جانے سے ایسا لگتا ہے،
جیسے رونق انھی سے تھی اے دل۔

؂سوئے دنیا نظر نہ کی ہم نے،
یوں بھی چاہی تری خوشی ہم نے،
تیری یادوں کے سائے میں اے دوست،
عمر اپنی گزار دی ہم نے۔

؂ بے خودی کچھ تجھے بھی ہے معلوم،
جاگتا ہوں کہ سو رہاہوں میں،
تیری راہوں میں بیٹھ کر پہروں،
آتے جاتے کو دیکھتا ہوں میں۔

بلا شبہ محبوب ؔجھنگوی خوبصورت اسلوب کے مالک ایک شائستہ شاعر ہیں،انکا یہ شاعری مجموعہ ’’تیرا خیال‘‘انتہائی عمدہ تخلیق ہے،جس کی اشاعت سے قومی ادب کے اثاثے میں گراں قدر اضافہ ہوا،

محبوب ؔجھنگوی کی ہمہ گیر شخصیت،ان کی ادبی خدمات اور تخلیقات کا مکمل ا حاطہ کرنامیرے قلم کے بس میں نہیں ،مگر میں جناب محبوبؔ جھنگوی کو ایک خوبصورت مجموعے کی اشاعت پر دل سے مبارک پیش کرتا ہوں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Sarmad

Read More Articles by Saleem Sarmad: 14 Articles with 13763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2016 Views: 601

Comments

آپ کی رائے