چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور

(M. Furqan Hanif, Karachi)
پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والا ترقی کا سفر اور اسکی راہ میں رکاوٹیں
پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی شدید قسم کے اندرونی و بیرونی بحرانوں کا سامنا کرتا چلا آرہا ہے، ماضی کی مشکلات اور بحرانوں کی ایک طویل داستان ہے جس سے پاکستان نمرد آزما رہا ہے اور اس حقیقت سے کوئی آنکھیں نہیں چرا سکتا کہ ان بحرانوں سے نمٹنے میں ہماری قومی اور قائدانہ نااہلیاں ہماری مشکلات کو بجائے کم کرنے کے اور تیز تر کرتیں رہیں۔

آج کا پاکستان بھی ہمیشہ کی طرح بحرانوں کا شکار ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی میں وجہ ایک بار پھر وہی ہے یعنی تعلیم کی کمی، قائدانہ صلاحیتوں کا نہ ہونا اور قومی افراتفری و ذاتی و گروہی مفادات۔

گزشتہ کچھ عرصہ قبل پاکستان نے چین کے ساتھ اشتراک عمل سے ترقی و خوشحالی کے لیے ایک منصوبہ جسے دنیا چائنا پاکستان اکنامک کارویڈور کے نام سے جانتی ہے، شروع کیا۔ شروع شروع میں تو اس منصوبے کے خدوخال چونکہ ظاہر نہ ہوئے اسلئے اس کی مخالفت میں وہ شدت نہیں نظر آئی جو اب اس منصوبے کے تقریبا شروع ہوجانے کے بعد سامنے آرہی ہے، پاکستان میں مختلف جماعتیں اور گروہ اس منصوبے کو ایک صوبے کا قرار دیتے ہیں اور کوئی اس منصوبے میں اپنے حصے کی کمی کا رونا رو کا درپردہ اس منصوبے میں زیادہ پرجوش نہیں مگر اس سے خطرناک بات یہ سامنے آرہی ہے کہ پاکستان کے ازلی دشمن اور دوست نما درپردہ دشمن پاکستان اور چین کے درمیان اس منصوبے کے شروع ہونے اور اس کے پایہ تکمیل پاجانے کے خوف میں شدید طریقے سے مبتلا ہوگئے ہیں اور ان کے لئے اس منصوبے کا مکمل ہوجانا ایک خوفناک خواب کی مانند ہے کہ اگر یہ منصوبے پایہ تکمیل تک پاگیا تو پاکستان اقوام عالم میں ایک ترقی یافتہ ملک کی جانب پیش قدمی کرنا شروع کردے گا اور دشمنان پاکستان کے لئے یہ منظر کوئی اتنا دلفریب نہیں ہوگا۔ چنانچہ پاکستان کو اس منصوبے سے محروم رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی سازشیں شروع ہوچکیں ہیں جن کھلم کھلا سامنے آنے والے مخالفین میں امریکہ، انڈیا اور درپردہ مخالفین میں اسرائیل، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان شامل ہیں۔

پاکستان اور چین کے اس منصوبے کی تکمیل کی راہ میں اب کھل کر مخالفت سامنے آرہی ہے اور دشمنان پاکستان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضع ہوگئی ہے کہ اگر یہ منصوبہ کسی طرح پورا ہوگیا تو پاکستان کو دبانے اور اس کو پسماندہ رکھنے کی کوئی صورت نہیں رہے گی چنانچہ منصوبے کی تکمیل کا انتظار کرنے کے بجائے ہر قیمت پر اس کو ختم کرنے کی کوششیں شروع کردیں گئی ہیں۔ حال ہی میں انڈیا کا واویلا اور پاکستان پر جنگ مسلط کرنا اور پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کی کوششیں شروع کردینا اسی عمل کا حصہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستانی اندرونی طور پر متحد رہیں اور دشمنوں کی سازشوں کو سمجھیں اور ان سے محفوظ رہتے ہوئے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں باہم متحد رہ کر ملک دشمنوں کے دانت کھٹے کریں۔

ہمیں اس حقیقت سے باخوبی آگاہ رہنا ہوگا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اس معاہدے کا بھی وہی حشر نہ ہو جو پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے اکثر منصوبوں کا ہوچکا ہے۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہمیں من الحیث القوم دیانت داری اور بردباری سے اپنے حصے کا کام انجام دیتے ہوئے متحد رہ کر دشمنوں کے شرمناک منصوبوں کو ناکام بنانا ہوگا ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ پاکستان قائم رہنے کے لئے اور ترقی کرنے کے لیے بنا ہے۔

پاکستان کو اس بات پر بھی بھروسہ رکھنا ہوگا کہ چین پاکستان کا ایک واحد ایسا دوست ملک ہے کہ جو پاکستان کی ہر اس بحران میں مدد کرتا آیا ہے کہ جس میں پاکستان کا مفاد ہو، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی زمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، پاکستان پر یہ ایک کڑا وقت ہے اور اگر ہم نے اس وقت کو کھودیا تو ہم ترقی و خوشحالی کے خواب ہی دیکھتے رہیں گے۔

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر رہے اور ہمیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔ پاکستان زندہ باد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M. Furqan Hanif

Read More Articles by M. Furqan Hanif: 432 Articles with 326820 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2016 Views: 521

Comments

آپ کی رائے