امت مسلہ کے خلاف امریکہ کا ’’حقانی نیٹ ورک‘‘

(Dr Sajid Khakwani, Islamabad)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی تاسیس کے ساتھ ہی منافقت کابھی آغاز ہوگیااور مسلمانوں کے اندر غداروں کاوجود پیداہوگیا۔یہ وہ لوگ تھے جن کی شہریت،روزگاراور انکی پہچان مدینۃ النبیﷺتھالیکن ان کی ہمدردیاں اور ان کی وفاداریاں ہمیشہ دشمنوں کے ساتھ رہیں۔قرآن مجید نے سورہ بقرہ کی ابتدامیں ان منافقین و غداران ملک و ملت کا تفصیلی نقشہ کھینچاہے۔اﷲتعالی نے ان منافقین کی تفصیلی نفسیات،ان کے حربے اور ان کی مفادپرستی اور بزدلی کوجہاں کھول کھول کر بیان کیاہے وہاں آج سے ڈیڑھ ہزارسال قبل اس حقیقت پر سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ’’ وَ اِذَا لَقُوْا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآاٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْآ اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِءُ وْنَ﴿۲:۱۴﴾ اَللّٰہُ یَسْتَہْزِیُٔ بِہِمْ وَ یَمُدُّہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ﴿۲:۱۵﴾‘‘ترجمہ:’’جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان والے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان (مسلمانوں)سے تو ہم محض مذاق کررہے ہیں۔۔۔اﷲتعالی ان سے مذاق کررہاہے اور وہ ان کی رسی دراز کیے جاتاہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جارہے ہیں‘‘۔تاریخ گواہ ہے کہ قیام مدینہ منوہ سے فتح مکہ تک ،سقوط بغدادسے سقوط غرناطہ تک اور سقوط میسور سے سقوط ڈھاکہ تک اور گزشتہ صدی کے آخرمیں تجدید جہادسے عصری صلیبی جنگوں تک ،امت مسلمہ کو غداروں کامسلسل سامنارہاہے جنہوں نے آستین کا سانپ بن کر مسلمانوں کی کمر میں چھرے گھونپے ہیں۔مذکورہ آیت کی تفسیر میں آج بھی وہ منافقانہ و غدارانہ کردار موجود ہیں جو مسلمانوں کے سامنے آئیں توان سے بڑا امت کا خیرخواہ کوئی نہ ہواور جب یہ امریکہ بہادر کے پاس جاتے ہیں توان سے کہتے کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں ان مسلمانوں کے ساتھ تو ہم مذاق کرتے ہیں۔اس طرح کے کردارماضی میں ہوں یا زمانہ حال میں یا آئندہ بھی آتے رہیں تب بھی امت مسلمہ کی اجتماعی ترقی و ارتقاء اپنی تاریخی رفتار سے چلتارہاہے،چل رہاہے اور چلتا رہے گا۔

امریکہ کی اسلام دشمنی اور مسلمان کشی آج نوشتہ دیوار ہے ،جولوگ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر امت مسلمہ کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے برعکس اپنی خدمات کو سامراج کی خدمت میں پیش کرتے ہیں محض اس لیے کہ انہیں شہرت اور دولت کی فراوانیاں میسر ہوں ،کیایہ لوگ امت مسلمہ کی شاندارتاریخ کے مذکورہ شرمناک باب کا زندہ کردار نہیں ہیں؟؟؟میموگیٹ اسکینڈل کے نام پر ملک و ملت کی ناموس سے کھیلنے والوں کو آج بھی دشمن کی آشیرباد حاصل ہے ۔اس پر مستزاد یہ کہ حالیہ تازہ اطلاعات کے مطابق ان کرداروں کو ماضی میں خطیر رقومات بھی پیش کی گئیں تاکہ وہ اسلام اور پاکستان کے خلاف اپنی تحریروں میں زہر اگل سکیں اور پاکستان کا نظریاتی تشخص مجروح کرنے کی ناپاک جسارت بھی کرپائیں۔’’سمتھ رچرڈسن فاؤنڈیشن‘‘جو کہ ایک امریکی تھنک ٹینک ہے،اس ادارے نے ایک زہرآلود کتاب بنام’’Pakistan Between Mosque and Military ‘‘لکھنے کے لیے صاحب کتاب کو ایک لاکھ ڈالرکی خطیررقم بطور ہدیہ پیش کی تھی۔2003میں اس رقم کی ادائگی ہوئی اور 2005میں یہ کتاب منظر عام پر آ گئی۔کتاب کے نام سے ہی یہ تاثر ابھرتاہے کہ پاکستان کی ریاست ملاؤں اور جرنیلوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے۔گویا پاکستان کومسجد سے جداکر کے پیش کرنے کی کامقصدنظریہ پاکستان اور دوقومی نظریے جیسے خالق پاکستان نظریات کووطن عزیز کی پہچان سے محروم کرنے کی ناپاک جسارت اس کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے۔آخریہ لوگ وطن عزیزسے دور بیٹھ کر دشمن کے مقاصد کی نگہبانی کیوں کرتے ہیں؟؟؟۔ پاکستانیوں کو پاکستان کے اسلامی تشخص پر فخرہے اور پاکستان کا آئین اس مملکت خدادادکے نظریاتی اعزازکاتحفظ بھی کرتاہے اوربانی پاکستان کی بصیرت انگیزتقاریراس موقف کی کھل کر حمایت کرتی ہیں۔پاکستان کے نظریاتی غداروں کو یہ بات کون باور کرائے کہ اگر پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا مقصودہوتا بھارت سے علیحدگی چہ معنی دارد؟؟؟ہندوستان اورپاکستان ،دونوں کو سیکولرہی بنانا تھا توعلیحدگی کے لیے صدی کی سب سے بڑی ہجرت اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں کیوں پیش کی گئیں؟؟؟۔حقیقت یہ ہے یہودونصاری کے خریدے ہوئے لوگ انہیں کی زبان بولتے ہیں اور شرمناک حد تک جھوٹ بول کرتاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

امریکی حقانی نیٹ ورک کا یہ بھی ایک شاخصانہ ہے کہ اس کتاب ’’Pakistan Between Mosque and Military ‘‘میں امریکہ کو واشگاف انداز میں مشورے دیے گئے ہیں کہ پاکستانی ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ملک میں تعلیم اور صحت کا صیغہ پسماندگی کا شکار ہے،صاحب کتاب نے امریکہ کو انتباہاََ بتایا ہے کہ پاکستان اور عسکریت پسندوں کے درمیان گہرے روابط ہیں،اور پاکستانی مقتدر قوتیں عسکریت پسندوں کی مدد بھی کرتی ہیں،اور ان حالات میں پاکستان کے اندر جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔یہاں پھر ایک سوال پیداہوتاہے کہ جو سامراجی قوتیں پاکستان کی نظریاتی شناخت کو برداشت نہیں کرتیں،پاکستان کے اہم ترین دفاعی اثاثے ایٹمی تکنالوجی کوختم کرنا چاہتی ہیں،وقتاََ فوقتاََ پاکستان توڑنے کے نقشے بھی وہاں سے جاری ہوتے رہتے ہیں اور پاکستانی عوام کی اسلام پسندی بھی انہیں بری طرح کھٹکتی ہے حتی کہ وہ پاکستان کے نظام تعلیم کے پیچھے بھی ہاتھ دھوکر پڑ چکے ہیں، آخر اس طاغوت کو پاکستان میں صرف جمہوریت کی بقا کیوں چاہیے؟؟؟،پاکستان کے آئین سے لے کر عوام تک کچھ بھی انہیں اچھا نہیں لگتا لیکن جمہوریت ان کو بہت عزیز ہے اوروہ ہر قیمت پرجمہوریت کوجاری رکھنا چاہتے ہیں۔اس سوال کا جواب کچھ مشکل نہیں تھوڑی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخس بھی آسانی سے سمجھ سکتاہے کہ چونکہ جمہوریت میں غداران ملک و ملت آسانی سے اور تھوڑی قیمت پردستیاب ہو جاتے ہیں اس لیے ان دشمن قوتوں کو وطن عزیز میں جمہوریت بہت اچھی لگتی ہے۔اور کیا یہ بھی ایک حقیقت نہیں امریکی حقانی نیٹ ورک بھی اسی جمہوریت کا شاخصانہ ہے۔

’’سمتھ رچرڈسن فاؤنڈیشن‘‘نے بتایا ہے 2004میں ’’کارنیگی انڈوومنٹ فارانٹرنیشنل پیس‘‘کو ایک لاکھ پچھترہزارڈالر کی بھاری بھرکم امدادی رقم اداکی گئی جس کا مقصد امریکی حقانی نیٹ ورک کے ذمے پاکستان کے لیے نئی تجاویز مرتب کرنا تھا۔اس رقم کے ذریعے امریکی حقانی نیٹ ورک کو امریکیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا تھااور ایسی تجاویز مرتب کرنی تھیں جن کے ذریعے پاکستان کو ایک اعتدال پسند اور جمہوری ریاست بنایا جا سکے اور پاکستان کو نظریاتی ملک کی بجائے فعال ممکت کادرجہ دلایا جا سکے۔اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی حقانی نیٹ ورک نے اس رقم کی وصولی کا اعتراف بھی کیاہے اور جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمول کی کاروائی تھی۔امریکہ میں بیٹھ کر دشمنان اسلام کے مقاصد کوپوراکرنا اور ان سے اس مقصد کے لیے وصولیاں کرنا کیا معمول کی کاروائی ہو سکتی ہے؟؟اس سوال کے دو جواب متوقع ہیں،پہلا جواب تو یہ کہ اگر یہ امریکی حقانی نیٹ ورک کی معمول کی کاروائی ہے تو اس سے پہلے بھی امریکی حقانی نیٹ ورک اسلام،مسلمان اور پاکستان کے خلاف اپنی کاروائیوں کے بدلے وصولیاں کرتارہاہے،اور اگر یہ امریکی تھنک ٹینک کی معمول کی کاروائی ہے توامریکی حقانی نیٹ اب اس کاروائی کا حصہ بن چکا ہے۔دونوں صورتوں میں امریکی حقانی نیٹ ورک پر اسلام اور پاکستان دشمنی صادق آتی ہے۔امریکہ میں بیٹھ کر وطن عزیز کے خلاف سازشیں کرنااور دشمنوں کواپنے ملک کے خلاف منصوبے بنابناکر پیش کرنا اور ان سے اپنی ان غدارانہ خدمات کے بھاری معاوضے وصول کرنااور پھر پریس اور میڈیاکے سامنے کہنا کہ مجھے غدار نہ کہاجائے ،کیا قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف نہیں ہے؟؟؟

امام حسین کانام کل امت میں عقیدت واحترام کامرکزہے،اس نام کے ساتھ حقانی کا سابقہ یالاحقہ کسی فرد کو ادب و احترام کے قابل بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔انسان کے نام کی بجائے اس کاکام اس کی پہچان ہوا کرتاہے۔دشمن قوتوں کو آج یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے اسلام سے گہراتعلق ہی پاکستان کی وجہ تخلیق بھی تھا اور وجہ وجود بھی ہے اوروجہ بقا بھی رہے گا۔پوری دنیاکے مسلمان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اپنا روحانی وایمانی الحاق صرف پاکستان سے کرتے ہیں۔کل امت کی امید بھری نظریں بار بار پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں۔پاکستان کی جغرافیائی حدود کے ساتھ ساتھ پاکستان کی نظریاتی حدود کا تحفظ بھی پوری قوم کی ذمہ داری ہے،اور پاکستانی قوم سمیت کل امت مسلمہ کسی اندرونی یا بیرونی طالع آزماکوپاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ریاست مدینہ طیبہ کی طرح پاکستان کی ریاست بھی اپنی تاسیس کے وقت سے ہی ان غداروں کی سازشوں کا مسلسل شکار رہی ہے،لیکن جس طرح اﷲ تعالی کی نصرت سے اہل مدینہ نے منافقین کی ریشہ دوانیوں کے باوجوداپنے دشمنوں پر قابو پالیاتھااسی طرح پاکستان کی قوم بالخصوص اور امت مسلمہ بالعموم بہت جلد اپنے دشمنوں کو زیر کر لیں گے۔اس وقت کل امت مسلمہ عوام کی سطح پر ایک ہی سوچ کی حامل ہے،صرف دورغلامی کی باقیاتی مصنوعی قیادت نے امت کو تقسیم کرنے کی ناپاک سازشوں کاجال بچھارکھاہے ۔اس دنیاکاامن مسلمان کے اٹھنے سے مشروط ہے،مسلمان اٹھیں گے ،دنیاکی قیادت سنبھالیں گے تب ہی امن و سلامتی کے خواب شرمندہ تعبیر ہو ں گے۔امت مسلمہ کی بیداری اور دشمن شناسی بہت جلد پہلے دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ان غداروں کو بنی قریظہ کے انجام تک پہنچائے گی اور پھر انسانیت کے نام انسانوں کاہی خون کرنے والا سیکولرازم اپنے بدترین انجام کو پہنے گا،انشاء اﷲ تعالی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Sajid Khakwani

Read More Articles by Dr Sajid Khakwani: 463 Articles with 288911 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Sep, 2016 Views: 578

Comments

آپ کی رائے