سارک اجلاس کا التوا، پاکستان تنہانہیں ہو گا

(Ghulam Ullah Kiyani, )
بھارت نے اوڑی حملے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف دنیا میں مہم جاری رکھی ہے۔ 9اور 10نومبر کو اسلام آباد میں 19واں سارک سربراہ اجلاس ہو نے والا تھا۔ بھارت نے پاکستان پر دہشتگردی کا الزام لگا کراس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ نئی دہلی نے بنگلہ دیش، بھوٹان اور افغانستان کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا۔ ان ممالک پر بھارت کا اثر و رسوخ ہے۔ بھارت ان کی امدادا کے نام پر بلیک میلنگ بھی کرتا ہے۔ تا ہم یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کی جانب سے ان ممالک کو بھارتی حمایت سے گریز کرنے کی شاید کوششیں نہیں ہوئیں۔ بنگلہ دیش کی موجودہ شیخ حسینہ واجد حکومت پاکستان کے دوستوں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو یکے بعد دیگرے پھانسیاں دے رہی ہے۔ یا انہیں جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔ لا تعداد کے خلاف ملک سے غداری کے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان پر 1971میں پاکستان کو توڑنے کی مخالفت کا الزام ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت نے کھل کر پاکستان کے خلاف مکتی باہنی کو ٹریننگ دی اور دہشت گردی کے لئے اکسایا۔

سارک کی سربراہی اس وقت نیپال کے پاس ہے۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی ہے کہ اسے چار ممالککی جانب سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے مکتوب موصول ہو گئے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اجلاس اب نہیں ہو سکے گا۔ سارک کے چارٹر کے تحت اگر 8ممالک میں سے کوئی ایک بھی اس کے اجلاس میں شرکت نہیں کرتا تو اجلاس خود بخود ملتوی ہو جاتا ہے۔ اب سازگار ماحول کے بغیر اجلاس کا انعقاد مشکل ہو گا۔ نیپال چاہتا ہے کہ اجلاس ملتوی نہ ہو۔ وہ ممبر ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ آپسی کشیدگی کو حل کرے۔

پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سارک اجلاس کے انعقاد کے لئے سفارتی کوششیں تیز کرے۔ پاکستان کو اجلاس ملتوی ہونے کا اعلان نہیں کرنا چاہیئے۔ اگر ایسا ہوا تو آئیندہ اجلاس سری لنکا میں ہو گا۔ بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر پاکستان نے درست طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ کیوں کہ وہ پاکستان کے لے سولی چڑھ رہے ہیں۔ اسلام آباد کی خاموشی بالکل مناسب نہیں ہو سکتی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ شیخ حسینہ ہمیشہ بھارت کے چرنوں پر پڑی رہتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش کو بھارت کی کٹھ پتلی بنا رکھا ہے۔ فائدہ میں بھارت ہی رہا۔ اس نے بنگلہ دیشیوں کو اپنی فوج اور دہشتگردوں سے قتل کرایا اور الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ متحدہ پاکستان کے حامی اسی وجہ سے انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔
بنگلہ دیش نے بھارت کی شے پر سارک سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ نیپال تک پہنچاتے ہوئے کہا ’’بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں ایک ملک کی بڑھتی ہوئی دخل اندازی نے ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ جو اسلام آباد میں کامیاب اجلاس کی میزبانی کے لئے ساز گار نہیں ہے۔ ‘‘ پاکستان کا نام لئے بغیر بنگلہ دیش نے اسلام آباد کو ہی انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔ سارک سربراہ اجلاس کی میزبانی کے لئے پاکستان کی تیاریاں جاری تھیں جب یہ نئی صورت حال سامنے آ گئی۔

افغانستان نے نیپال کو جو مکتوپ ارسال کیا ، اس میں لکھا ہے’’افغانستان پر مسلط دہشت گردی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے تشدد اور لڑائی نے صدر اشرف غنی کو کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے بہت مصروف کر دیا ہے، وہ اس اجلاس میں شرکت نہ کر سکیں گے‘‘۔افغانستان ہمیشہ پاکستان پر دہشت گردی مسلط کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔

بھوٹان نے اپنے خط میں لکھا ہے’’خطے میں حالیہ دہشت گردی کے فروغ نے اسلام آباد میں سارک اجلاس کے کامیاب انعقاد کی فضا کو خراب کر دیا ہے۔ بھوٹان بھی بعض رکن ممالک کی جانب سے دہشت گردی کی وجہ سے علاقائی امن کو درپیش خطرات کی تشویش محسوس کرتا ہے‘‘۔ اس کااشارہ بھی کھل ر بھارت کی حمایت کرنا ہے۔ بھارت نے آج ایک بار پھر تین ممالک کو اپنا ہم نوا بنا کر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارت ’’سارک مائینس پاکستان‘‘ کا شوشہ بھی چھوڑ رہا ہے۔ وہ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اسلام آباد میں ہیڈ کوارٹرز بھی کہیں اور منتقل کرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ نیپال، سری لنکا ، یا مالدیپ کو اس کی پیکش کرے۔ یہ تما م چھوٹے ممالک ہیں جو بھارت سے مرعوب ہوتے ہیں۔ سارک میں ایک پاکستان ہی ہے جو ذمہ دار ایٹمی ملک ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ برابری سے پیش آتا ہے۔ پاکستان ہی سارک ممالک کو بھارت کی جارحیت اور بلیک میلننگ سے محفوظ رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگر چہ سری لنکا اور مالدیپ نے پاکستا کے خلاف بھارتی سازش کی حمایت نہیں کی ہے تا ہم سری لنکن وزیراعظم رنیل وکرما سنگھیاور نیپالی وزیراعظم پشپا کمال دھل پراچندہ اکتوبر میں ایک علاقائی سربراہ کانفرنس BIMSTECمیں شرکت کے لئیگوا پہنچنے والے ہیں۔ اس کے ممبر ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، تھائی لینڈ، میانمار ، بھارت اور سری لنکا ہیں۔ بھارت اس فورم کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ اس لئے اسلام آباد کو ان ممالک کے سفارتکاروں اور اپن سفارتکاروں کو صورتحال کی بہتری کے لئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کے سفارتکار ان ممالک میں ہیں۔ ان کے اسلام آباد میں ہیں۔ دیگر چینلز بھی بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ میں متعلقہ ڈیسک اور سیاسی و تجارتی تعلقات کو بھی لابنگ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بھارت نے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے سارک سربراہ اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد کو سبوتاژ کیا ہے۔ اس کا مقصد نریندر مودی کی پاکستان آمد کے امکانات کو ختم کرتے ہوئے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔ بی جے پی پاکستان کے خلاف جنگی ماحول پیدا کر کے یہ الیکشن جیتنے کی سعی کر رہی ہے۔ نریندر مودی بی جے پی کو اقتدار میں لانے کے لئے خارجہ پالیسی کو اپنی سیاست کے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ بھارت کو زوال کی طرف لے جانے والی بی جے پی کے بارے میں کانگریس، جنتا دل، کمیونسٹ پارٹیوں اور دیگر سیکولر بھارتیوں کی خاموشی سوالیہ نشان بن رہی ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 578 Articles with 222415 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
01 Oct, 2016 Views: 355

Comments

آپ کی رائے