قربانی، اخلاصِ عمل اور مقصد

(Ata Ur Rehman Noori, India)
اﷲ عزوجل نے قرآنِ مقدس میں ارشاد فرمایا:’’اے محبوب!بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائی، تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو بے شک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے‘‘۔ (پ۳۰ سورۂ کوثر) اس سورت میں اﷲ جل مجدہ الکریم نے سب سے پہلے اس بات کا ذکر فرمایا کہ ہم نے نبی اکرم صاحبِ لولاک صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں اور پھر ہم انہیں یہ حکم فرما رہے ہیں کہ وہ میرے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ اس ترتیب سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اﷲ عزوجل کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے اور اس کے بعد قربانی کرنا۔

قربانی کا معنی
لفظِ قربانی جو اردو میں استعمال کیا جاتا ہے اس کو عربی زبان میں ’’قُرْبَانٌ‘‘ کہتے ہیں۔لفظِ قربان ’’قُرب‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے قریب ہونا۔ تو گویا قربانی اﷲ عزوجل سے قریب ہونے کا ایک ذریعہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے خلوص کے ساتھ قربانی کرتے ہیں وہ لوگ اﷲ عزوجل سے قریب ہو جاتے ہیں۔

قربانی کیا ہے؟
حضرتِ زید بن ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کیا یا رسول اﷲ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام کی سنت ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ! ہمارے لیے اس میں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :ہر بال کے برابر نیکی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا بھیڑ کے بال؟ آپ نے فرمایا :بھیڑ کے بال کے ہر سوت کے برابر نیکی ہے۔(مشکوٰۃ شریف)

حقیقتِ قربانی
شمس الائمہ امام سرخسی حنفی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں:مالی عبادت دو قسم کی ہیں، ایک بہ طریقِ تملیک ہے (یعنی اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی کو کوئی چیزدے دینا) جیسے صدقات و زکوٰۃ وغیرہ اور ایک بطریقِ اِتلاف ہے (یعنی اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی چیز کو ہلاک کر دینا) جیسے غلام آزاد کرنا۔ قربانی میں یہ دونوں قسمیں جمع ہو جاتی ہیں، اس میں جانور کا خون بہا کر اﷲ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے، یہ اِتلاف ہے اور اس کے گوشت کو صدقہ کیا جاتا ہے، یہ تملیک ہے۔

قربانی کب سے شروع ہوئی؟
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ:’’ اور ہر اُمت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اﷲ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر‘‘۔(پ۱۷ رکوع۱۱، آیت۳۴)پتہ چلا کہ اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا رواج بہت پہلے سے چلا آرہا ہے، مگر قبل از اسلام اس کی صورت دوسری تھی، وہ اس طور پر کہ جو قربانی اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں مقبول ہو جاتی تھی تو ایک سفیدرنگ کی بغیر دھوئیں والی آگ شراٹے مارتی ہوئی آسمان سے اترتی تھی اور مقبول قربانی کو جلا کر خاک کر جاتی تھی، جسے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ حتی کہ لوگ جھگڑے کی صورت میں اپنی حقانیت بھی اسی طرح ثابت کرتے تھے کہ جو سچا ہوتا تھا اس کی قربانی کو آگ جلا جاتی تھی، جھوٹے کی قربانی یوں ہی پڑی رہتی تھی، چنانچہ جب ہابیل و قابیل عقلیمہ نامی ایک عورت کے بارے میں جھگڑے کہ وہ کس کے لیے حلال ہے تو ان دونوں نے قربانیاں پیش کیں جسے انہوں نے پہاڑ پر رکھ دیا، ہابیل کی قربانی قبول ہوئی کہ اسے غیبی آگ جلا گئی، قابیل کی قربانی رد کر دی گئی کہ اسی طرح رہی۔مگر اُمتِ محمدیہ کو یہ بھی ایک خصوصیت حاصل ہے کہ وہ اپنی قربانی کے گوشت کو خود کھا سکتے ہیں۔

قربانی کا مقصد
اﷲ عزوجل نے قرآنِ مقدس میں ارشاد فرمایا:’’بے شک یہ روشن جانچ تھی‘‘۔ یعنی اس کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص کی جانچ ہوتی ہے کہ ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ کا دعویٰ محض دعویٰ ہے یا اس کے ساتھ اس کی کوئی دلیل بھی ہے۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں یہ صلہ دیا کہ ہر سال صاحبِ استطاعت مسلمان پر قربانی کو واجب قرار دے کر ان دونوں حضرات کی یاد منانے کا ذریعہ بنادیا اور ان شاء اﷲ صبحِ قیامت تک آنے والے مسلمان ہر سال ان حضرات کو یاد کرتے رہیں گے۔
04 Oct, 2016 Views: 796

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ