کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنا

(Muhammad Rafique Etesame, Ahmedpureast)
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اے ایمان والو مت داخل ہو کسی کے گھر میں سوائے اپنے گھروں کے جب تک کہ بول چال نہ کر لو اور سلام کرلو ان گھر والوں پر یہ بہتر ہے تمہارے حق میں تا کہ تم یاد رکھو پھر اگر نہ پاؤ ان میں کسی کو تو اس میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ ملے تم کو او ر اگر جواب ملے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ ،اس میں خوب ستھرائی ہے تمہارے لئے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو جانتا ہے‘‘(النّو ر:28)۔

ان آیات کریمہ میں استیذان یعنی کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کے بارہ میں بتایا گیا ہے۔ یعنی جب کوئی شخص اپنے کسی عزیز واقارب یا دوست احباب کے گھر ملنے کیلئے جائے تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے انھیں سلام کہے اپنا تعارف کرائے اورجازت طلب کرے کہ کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ پھر اگر وہ کہیں کہ آجاؤ بھئی اجازت ہے تو گھر میں داخل ہوجائے اور اگر کوئی جواب نہ ملے تو واپس لوٹ جائے۔

یہ اجازت طلب کرنا تین بار ہے یعنی ا گر پہلی مرتبہ سلام کرنے سے کوئی جواب نہیں ملا تو دوسری اور تیسری بار سلام کہے پھر اگر اجازت مل گئی تو داخل ہو جائے ورنہ واپس لوٹ جائے، اور اگر کوئی گھر سے یہ کہے کہ’’ابھی آپ لوٹ جائیں ہم مصروف ہیں پھر کسی وقت آجانا ‘‘توبلا جھجک لوٹ جائے اور دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کرے کہ مجھے دروازے سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔

در حقیقت یہ دین اسلام کی ایک ایسی حکیمانہ تعلیم ہے کہ جس پر عمل کرنے سے دونوں ملاقات کرنے والوں کی بھلائی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس وقت گھر میں کوئی خاتون اکیلی بیٹھی ہو یا کوئی مہمان آئے ہوئے ہوں او ر وہ اس بات کو پسند نہ کریں کہ کوئی اور بھی آکر بیٹھ جائے تو ایسی صورت میں ملاقات کیلئے جانے والے کو واپس لوٹ آنا ہی بہتر ہے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اسلام کے اس سنہری اصول پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین!
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Rafique Etesame

Read More Articles by Muhammad Rafique Etesame: 158 Articles with 129132 views »

بندہ دینی اور اصلاحی موضوعات پر لکھتا ہے مقصد یہ ہے کہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے فریضہ کی ادایئگی کیلئے ایسے اسلامی مضامین کو عام کیا جائے جو
.. View More
07 Oct, 2016 Views: 458

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ