قادیانیوں کو افواج پاکستان میں ہرگز بھرتی نہ کیا جائے!!

(Muhammad Kaleem Ullah, )
اسے مشورہ نہ سمجھیے، بلکہ یہ ملک کی سالمیت و استحکام کے لیینہایت ضروری امر ہے، یہ ہر محب وطن کے دل کی آواز ہے۔ مملکت خداداد پاکستان عظیم خدائی نعمت ہے جو لاکھوں شہادتوں اور قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی۔ اس لیے یہاں بسنے والی قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملک کی امن وسلامتی اورترقی و خوشحالی کے لیے اپنے جذبہ حب الوطنی کو زندہ رکھیں جبکہ افواج پاکستان میں محض جذبہ حب الوطنی ہی کافی نہیں بلکہ اسلامی ملک کے مسلمان سپاہی ہونے کے ناتے جذبہ جہاد کا خوگر ہونا بھی ضروری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افواج پاکستان وہ کرایے کے سپاہی نہیں جنہیں چند ٹکوں کے عوض سرحدات کی حفاظت سونپی جائے بلکہ یہ شیر دل سپاہی اپنا ایمانی فریضہ سمجھ کر اسلامی ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔وطن کی محبت اور جذبہ جہاد کے بغیر کوئی شخص افواج پاکستان میں بھرتی ہونے کا قطعاً اہل نہیں،اگرچہ دیکھنے میں چاق و چوبند، کڑیل اورسجیلا جوان ہی کیوں نہ ہو۔ تمہید کا خلاصہ یہ ہے کہ افواج پاکستان میں شمولیت اور اہلیت کا مدار وطن سے محبت اور جذبہ جہاد سے معمور ہونا ہے۔

آئیے !اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ قادیانی لوگ اس میرٹ پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ قادیانی ملک پاکستان کے کھلے دشمن ہیں جس پر بہت سارے شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں لیکن سردست چند عرض کیے دیتا ہوں۔

قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کا اعترافی بیان موجود ہے کہ یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہوجائیں۔( الفضل ، ربوہ ،17مئی (1947

دوسری تاریخی شہادت ملاحظہ فرمائیے: قادیانیوں کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر کا بیان جو انہوں نے 1985 ء میں لندن کے سالانہ جلسے پر کیا چنانچہ کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس ملک پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ آپ (قادیانی) بے فکر رہیں۔ چند دنوں میں (قادیانی )خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گیا ہے۔

ان تاریخی ثبوتوں سے ان کی پاکستان دشمنی اوراکھنڈ بھارت کا نظریہ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔کیا اس نظریے سے جذبہ حب الوطنی کا سینہ بے دردی سے چاک نہیں ہو رہا اور کیا اس سوچ اور فکر کے لوگ پاکستان کی افواج میں شامل ہونے کے کسی طور بھی اہل ہو سکتے ہیں ؟؟

اس کے بعد آتے ہیں دوسری بات کی طرف کہ افواج پاکستان جذبہ جہاد کی خوگر ہے جبکہ قادیانیوں کے ہاں جہادکرنا حرام ہے جس جذبے کی بنیاد پر پاکستان کا فوجی ـــ’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ کا مصداق بنتا ہے ، قادیانی اس کو حرام سمجھتے ہیں ، چند شواہد پیش خدمت ہیں:

مرزا قادیانی خود کہتا ہے کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 19)
ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد ( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ (
ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ آج سے دین کیلئے لڑنا حرام کیا گیا۔ (روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 17)
ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ ہرشخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ (روحانی خزائن جلد17صفحہ28)
ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ ’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 408)
ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنتِ انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعتِ جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھرسکتی ہیں۔ (روحانی خزائن جلد15 صفحہ155)

ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ
" اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
(مندرجہ روحانی خزائن جلد 17ص77)

ایسے بدبخت شخص کو نبی تسلیم کرنے والوں کے دلوں میں بھلا جذبہ جہاد کیسے ہو سکتا ہے ؟ اور یہ کیسے پاکستان کی حفاظت کریں گے بلکہ وطن اور اسلام دشمنی میں جیسے پہلے برطانوی سامراج سے اپنی وفا کی پینگیں بڑھائیں تھیں اب بھارتی سورماؤں سے بڑھائیں گے۔ اور خصوصاً اب جبکہ پاکستان کو مخلص ،ایمان دار، محب وطن اور جذبہ جہاد سے سرشار جوانوں کی ضرورت ہے تو اس حالات میں عقلاً، شرعاً، اخلاقا ًاور قانوناً کسی طور بھی یہ غداران وطن اور دشمنان اسلام قطعاً اسلامی ملک کی فوج اور یہاں کے کسی بھی ادارے میں اعلی، متوسط اور ادنی الغرض کسی بھی عہدے پر ہرگز ہرگز نہیں آ سکتے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad kaleem ullah

Read More Articles by muhammad kaleem ullah: 107 Articles with 72192 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Oct, 2016 Views: 413

Comments

آپ کی رائے