فرقہ پرستی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
اللہ پاک کا حکم ہے کہ ترجمہ ،،اور اللہ کی رسی کو مضبوطی تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو تفرقہ بازی بھی اسی طرح کبیرہ گناہ ہے جس طرح شرک قتل عمد زنا کاری جادوٹونہ جھوٹی گواہی والدین کے ساتھ ظلم اور نافرمانی سود خوری اسلام اور ملک وملّت سے غدّاری فحاشی و عریانی کبیرہ گناہ ہییں

فرقہ پرستی سمیت تمام کبیرہ گناہوں کو ختم کرنا حکمرانوں کا فرض ہے

سندھی ہو پننجابی ہوبلوچی ہو پٹھان بھی ہو
ذرا یہ تو بتاو کیا تم مسلمان بھی ہو

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

اللہ پاک کا حکم ہے کہ ترجمہ ،،اور اللہ کی رسی کو مضبوطی تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو
تفرقہ بازی بھی اسی طرح کبیرہ گناہ ہے جس طرح شرک قتل عمد زنا کاری جادوٹونہ جھوٹی گواہی والدین کے ساتھ ظلم اور نافرمانی سود خوری اسلام اور ملک وملّت سے غدّاری فحاشی و عریانی کبیرہ گناہ ہییں اور جتنے بھی کبیرہ گناہ ہیں سب کے سب اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں اور اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی بات ہے تفرقہ بازی فرقہ پرستی وہ کبیرہ گناہ ہے جس سے مسلمانوں کی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور اسلام اور ایمان دلوں سے نکل جاتا ہے بے ایمانی اور بے غیرتی اور مفاد پرسی دلوں میں گھر کر جاتی ہے اللہ پاک کا فرمان ہے کہ مسلمانوں اگر تم فرقہ پرستی میں پڑجاو گے تو تمھاری عذّت خاک میں مل جائے گی دشمن پرسے تمھارا رعب و دبدبہ جاتا رہے گا اورپھر شکست اورغلامی اور ہلاکت تمھارا مقدر بن جائے گی اور یہ تو دنیا کی ذلّت ورسوائی ہے اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ جھنّم کا ایندھن بن جاو گے
یہ سب باتیں سن کر ہر آدمی کے دل پر بوجھ سا پڑ جاتا ہے مگر ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ مومنو صبر اور نمازکے ذریعہ اللہ سے مدد مانگو یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ مایوسی کفر ہے یہ بھی ایسے ہی ہے کہ کوئی آدمی شراب پینے کا عادی ہو اور کہے کہ میں بہت بے بس ہوں کہ شراب چھوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے کوئی آدمی سود خوری میں ملوّث ہو اور کہے کہ سود کے بغیر ہمارا گزارہ ہی نہیں ہے کوئی زنا کی لت میں گرفتار ہو اور کہے کہ کیا کروں وہ خوبصورت ہی بہت ہے اورلوگ تو اس کے جائز ہونے کا دعوہ اس طرح کرتے ہیں کہ ہم نے اگر پیسے دے کر عورت سے ہمبستری کی ہے تو کیا برا کیا ہے عورتیں بنی کس لیے ہیں اور اس کو اس کا حق دے کر اس کو استعمال کرلیا ہے کیا حرج ہےکوئی کہتا ہے میں اس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا کوئی کہتا ہے کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی اسی طرح سے فرقہ پرستی بھی ہے کہ لوگ اس میں جکڑے ہوئے ہیں اور طرح طرح سے حیلے بہانے بناتے ہیں ان کو شیطان اس بات کی سمجھ ہی نہیں آنے دیتا کہ یہ اللہ کا حکم ہے وہ جاہلوں کی طرح کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا جس مسلک سے وابستہ ہیں ہمارا بھی وہی مسلک ہے حالانکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرواور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو اگر آپس میں کسی بات پر تنازعہ ہوجائے تو اس کا حل اللہ اور اسکے رسول کے پاس ڈھونڈو [یعنی قرآن و حدیث سے ] کیوں انسانوں کو جتنے بھی مسائل پیش آسکتے ہیں ان کا حل قرآن وحدیث میں موجود ہے قرآن اور صحیح احادیث میں موجود ہے اسی لیے کہ قرآن اور صحیح احدیث ہی شریعت ہے
اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلّم لوگو سے کہہ دیجیے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو اللہ کی نازل کردہ شریعت کی پیروی کرو

اور اللہ نے ایک اور مقام پرقرآن میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت سے منہ پھیرتے ہیں ہم ان کی معیشت کو تنگ کردں گے اور اسکا حشر قیامت کے دن یہ کریں گے کہ اس کو اندھا کرکے اٹھائیں گے وہ کہے گا کہ میرا حشر اندھا کرکے کیوں ہوا ہم کہیں گے کہ تجھے ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں تو نے ان کو بھلادیا

ایک اور مقام پر قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر بہتان باندھتا ہے اور اللہ کی نازل کردہ شریعت کو نہیں مانتا

یعنی جو بندہ اللہ کی شریعت کو نہیں مانتا وہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوکرہی رہے گا اور تما م مسائل کا حل قرآن اور صحیح احادیث میں موجود ہے چاہے وہ فرقہ پرستی ہو یا اور کوئی کبیرہ گناہ ہو جو اس میں ملوّث ہو گا وہ اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہے مسلمان کا مطلب ہے اللہ کا فرماں بردار اور کافر کا مطلب ہے اللہ کا نافرمان اور دنیا کا کوئی بھی انسان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ مسلمان بننا میرے لیےناممکن ہے بلکہ دین پر چلنا آسان ہے مسلمان بننا آسان ہے کیوں کہ اللہ تعالی' نے دین اسلام کو بنایا ہی آسان ہے لیکن لوگ شیطان کے بہکاوے میں آ کر مشکلات میں پڑ جاتے ہیں شیطان کے بہکاوے میں آکر ان کو کبیرہ گناہوں کو چھوڑنا ناممکن محسوس ہونے لگتا ہے اللہ کا فرمان ہے کہ شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کروبے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے

شیطان کے قدموں کی پیروی

اللہ کا فرمان ہے کہ شیطان کے قددموں کی پیروی نہ کرو مثال کےطور کوئی لڑکی کسی لڑکے سے کہے کہ فون کرنا جب لڑکا فون کرتا ہے تو لڑکی کہتی ہے کہ کسی چائے خانہ میں چائے پیئیں تو لڑکا سوچتا ہے کہ لڑکا لڑکی اکٹھے چائے پی لیں گے تو کیا ہو جائے گا چائے ہی تو پینی ہے ہیں نا لڑکی کہتی ہے کہ کسی دن کسی اچھے سے ہوٹل میں کھانا کھائیں تو لڑکا سوچتا ہے لڑکا لڑکی اکٹھے کھانا کھا لیں گے تو کیا ہو جائے گا صرف کھانا ہی تو کھانا ہے لڑکی کہتی ہے کہ کسی ہوٹل میں کمرہ لے کر اس میں رات گزاریں تو لڑکا کہے کہ لڑکا لڑکی ہوٹل میں کمرہ بک کرا کر رات گزار لیں گے تو کیا ہوجائے گا اکٹھے رات ہی تو گرارنی ہے تو دوسرے لفظوں میں یہ شیطان کے قدموں کی پیروی کرنا ہے شیطان کے قدموں کی پیروی سےبچنے کے لیے چائے پینے کی دعوت ہی قبول نہیں کرنی چاہیے ورنہ اللہ کے نا فرمان بن جاو گے

دین نہایت آسان ہے

مسلمان کا مطلب ہے اللہ کا فرماں بردار اور کافر کا مطلب ہے اللہ کا نافرمان اور دنیا کا کوئی بھی انسان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ مسلمان بننا میرے لیےناممکن ہے بلکہ دین پر چلنا آسان ہے مسلمان بننا آسان ہے کیوں کہ اللہ تعالی' نے دین اسلام کو بنایا ہی آسان ہے اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے کہ میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اور صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور اللہ کی عبادت کیسے کریں یہ سب معلومات قرآن وحدیث سے پتا چلتی ہیں جب صبح اٹھّیں تو اللہ کی عبادت کے لیے کمربستہ ہوجائیں اور نماز ادا کریں اور قرآن پاک کی تلاوت کریں اپنے کمرے کی صفائی اس نیّت سے کریں کہ مہمان آئیں گے تو اچھا محسوس کریں گے یہ سب کام عبادت میں شامل ہیں والدین کی فرماں برداری اور خدمت کریں اور یہ بھی اللہ کی عبادت میں شامل ہے اپنے بہن بھائیوں کو ناشتہ تیار کر کے دیں والدین کو دکان سے سودا سلف لاکر دیں اپنے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کریں اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کے حقوق ادا کریں ہمسایوں کے حقوق ادا کریں اور کام پر جانا ہوتو جاکر کام پر لگ جائیں کام کے وقت کام کریں اور نماز کے وقت نماز پڑھیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کریں کثرت سے استغفار کریں کثرت سے درود پڑھیں نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہیں اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیں اور جب آرام کریں تو دعائیں پڑھ کر سو جائیں آپ کا دن رات اس طرح سے گزارنا عبادت میں لکھا جائے گا انشاءاللہ

ثابت ہوا کہ فرقہ پرستی سے بچنا کیسے ممکن ہے بلکل ویسے ہی جیسے باقی دوسرے کبیرہ گناہوں سے بچنا ممکن ہے جیسے کفر پر چلنے کی بجائے اسلام پر چلنا زیادہ آسان اور ممکن ہے کیوں کہ فرقہ پرستی سمیت جتنے بھی کبیرہ گناہ ہیں سب گناہ ظلم سے متعلّق ہیں اور ظلم جب انسان کسی پر کرتا ہے تو اس کو اس کا احساس کم ہی ہوتا ہےکیوں کہ تکلیف تو مظلوم کو ہو رہی ہوتی ہے اس بات کا اس وقت پتا چلتا ہے جب اس پر کوئی ظلم کرتا ہے پھر انسان بِلبِلا اٹھتا ہے اور کہتا ہے جتنا ظلم مجھ پر ہو رہا ہے آج تک کسی پر نہیں ہوا ہوگا اس وقت وہ ظلم اس کو بھول جاتا ہے جو دوسروں پر کیا کرتا تھا جو آدمی دوسروں پر ظلم کرتا ہے وہ دوسروں کے ظلم سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے کیوں کہ ظلم کی موجودگی میں عدل وانصاف کا قیام ناممکن ہے جو بھی حکمران عادل اور انصاف کو قائم کرنے والا بننا چاہتا ہے تو اس کو معاشرے سے کمزوروں اور ناتوانوں پر ہونے والے ظلم کا خاتمہ کرنا لازمی ہے اور ظلم کے خاتمے کے لیےلازم ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں کو ختم کرے اور کبیرہ گناہوں کے خاتمے کے لیے بہترین لائحہ عمل ہے اسلام کا نفاذ اور جب بھی اسلام کے نفاذ کی بات ہوتی ہے تو ہمارے نام نہاد دانشور شور ڈالنا شروع ہو جاتے ہیں کہ اسلام میں زور و زبردستی نہیں ہے حالانکہ اسلام کے علاوہ دنیا میں جتنے بھی قوانین ہیں ہر قانون کے نفاذ کے لیے زبردستی لازمی ہے کیوں کہ کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ انسپکٹر صاحب لوگوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر کہتا پھرے کہ براہ کرم قوانین کا احترام کریں نہیں نا تو اسلام کے نفاذ کا مقصد جرائم کا اور ظلم کا خاتمہ ہے تو ظالم کو زبردستی کے بغیر کیسے روکا جا سکتا ہے جو نام نہاد دانشور یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں زور و زبردستی نہیں ہے دوسرے لفظوں میں وہ ظالموں کی حمایت کرتے ہیں
اللہ کا فرمان ہے کہ
: دین کو قائم کرو اور آپس میں فرقے مت بناو [شوری]
ایک اور مقام پر اللہ کا فرمان ہے
کہہ دو کہ وہ [اس پربھی] قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمھارے پاوں کے نیچے سے عذاب بھیچے یا تمھیں فرقہ فرقہ کردےاور ایک دوسرے [سے لڑا کر آپس ]کی لڑائی کا مزا چکھادے دیکھو ہم اپنی آیتوں کوکس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں [ الانعام]
اللہ کا فرمان ہے
[اور نہ] ان لوگوں میں[ ہونا ]جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور[ خود] فرقے فرقے ہوگئے سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے {روم}
اور فرمایا کہ
جن اپنے دین میں رستے نکالے اور کئی کئی فرقے بنائے اے پیغمبر تمھارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ان کا کام اللہ کے حوالے ہے قیامت میں وہ ان کو دکھا دے گا جو وہ کرتے رہے[ الانعام]
اللہ ہم سب مسلمانوں کو اسلام اور شریعت کاعلم حاصل کرنے اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
اسلام کو نافذکرنا اور فرقہ پرستی سمیت تمام کبیرہ گناہوں کا خاتمہ کرنا حکمرانوں کا فرض ہے میڈیا پر لمبی لمبی بحثیں ہوتی ہیں کہ جی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہی نظر آتا ہمارے معاشرے میں نائنٹی پرسینٹ کرپشن ہے جی ان سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ سعودیہ میں کرپشن نہیں ہے کیوں کہ وہاں اسلام کا نفاذ ہے ان کی طرح آپ لوگ بھی اسلام نافذ کر سکتے ہیں تو کرپشن ختم ہو جائے گی کیوں کہ جرائم کا ارتقاب اور کبیرہ گناہوں کا ارتقاب ہی تو کرپشن ہوتی ہے مگر ان کے اصول ہی آج کل کے نام نہاد دانشوروں کو اچھے نہیں لگتے کہ وہ نیشنیلٹی نہیں دیتے وہ جی ان کے قوانین ظالمانہ ہیں وہ جی وہ بیک ورلڈ ہیں جی مگر ان کو یہ حیا نہیں آتی کہ 90 پرسینٹ کرپشن کا اقرار بھی کرتی ہیں اور اپنے آپ کو فاروڈ بھی سمجھتے ہیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 40 Articles with 32186 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Oct, 2016 Views: 785

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ