بھانڈ اور مراثی

(Tanvir Sadiq, Lahore)
بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ اگر میرے جیسا عام آدمی کہہ دے تو تمام سیاستدانوں کی طبع نازک پر گراں گزریں گی۔ مگر اُن کا کوئی بھائی بند کہے تو گھر کا بھیدی ہونے کے سبب پبلک بھی اسے مان لیتی ہے اور سیاستدانوں کو بھی گراں نہیں گزرتی۔ ٹی وی کے ایک پروگرام میں اینکر کے سوال پر مسلم لیگ (ن) کے ایک لیڈر نہال ہاشمی نے بڑی خوب صورت بات کہہ دی۔ وہ بات جو سب اہل فکر محسوس تو کرتے ہیں، مگر کہتے نہیں ہیں۔ ہاشمی صاحب فرماتے ہیں ’’افسوس کہ بہت سارے بھانڈ اور مراثی سیاسی پارٹیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں‘‘۔ بہت شکریہ ہاشمی صاحب! سچ بات کہنے کا۔آپ کو تو صرف ان کی شمولیت پر افسوس ہے، مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ ان مراثیوں اور بھانڈوں نے پورا سیاسی کلچر ہی تبدیل کر دیا ہے۔ وہ شخص جسے یہ فن نہیں آتاسیاسی طور پر اَن فٹ مانا جاتا ہے اور سیاسی برادری میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

ایک پیر صاحب جو ایک بڑے سیاستدان بھی تھے ،گالف کھیلنے آئے، ایک شاٹ لگائی۔ سامنے ایک کرنل صاحب کھڑے تھے، پیر صاحب نے نعرہ لگایا، کرنل صاحب کیسی شاٹ ہے؟کرنل صاحب نے مروّت میں جواب دیا بہت زبردست۔ پیر صاحب نے دوسری شاٹ لگائی۔ پھر کرنل صاحب کو آواز دی، کرنل صاحب یہ شاٹ کیسی رہی؟ دوبارہ کرنل صاحب نے بغیر غور کئے کہا بہت شاندار۔ پیر صاحب نے تیسری شاٹ لگائی اور پھرنعرہ لگایا، کرنل صاحب یہ شاٹ کیسی ہے؟ کرنل صاحب نے جواب دیا پیر صاحب آئندہ جب بھی آپ کھیلنے آئیں، برائے مہربانی اپنا مراثی ساتھ لے کر آئیں۔ میں وہ کام نہیں کر سکتا جس کی آپ ہر دفعہ توقع کرتے ہیں۔ سیاستدانوں اور فوجیوں میں سب ٹھیک نہ ہونے کی وجہ بھی شاید ایسے ہی کلچر کا اختلاف ہے۔

نہال ہاشمی صاحب خود بھی سیاست دان ہیں اس لئے اپنے ساتھیوں کو کچھ رعایت دے گئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت میں قیادت تو ایک چوہدری خاندان کے پاس ہوتی ہے اس خاندان کے سربراہ اور خاندان کے دیگر افراد کے علاوہ پارٹی میں کسی کی حیثیت چوہدری کی نہیں ہوتی۔ پارٹی میں رہنے کے لئے بھانڈ اور مراثی ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور جو شخص یہ رول نہیں کر سکتا اسے نکال باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ بات ہر با شعور آدمی محسوس کرتا ہے۔ اعتزاز احسن اپنے شعبے کا ایک بہت بڑا نام، عام گفتگو میں ان کا ایک ویژن ہے، اپنی ایک سوچ ہے، اپنا ایک فکر ہے۔ بڑے دبنگ انداز میں بڑے کام کی سچی اور کھری باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر جب بلاول اور زرداری کے سامنے جاتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ بھیگی بلی بھی شاید بہتر حالت میں ہوتی ہے۔ رضا ربانی بہت نظریاتی بنتے ہیں، بڑی اُصولی باتیں کرتے ہیں۔ مگر بلاول اور زرداری کے سامنے ان کی بھی زبان سچ کہنے سے انکاری ہوتی ہے۔ چوہدری دانیال عزیز اور طلال چوہدری بس نام کے چوہدری ہیں۔ اصلی چوہدریوں کی خوشنودی میں مخالفوں کے بارے بات کرتے ہوئے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ وہ حد جو ایک مہذب اور معقول آدمی کو زیب نہیں دیتی۔ مگر کیا کریں پارٹی میں زندہ رہنے کے لئے یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے اور وزارت کے طلبگاروں کو ایسے ہی جان لڑانی پڑتی ہے۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی ہیں۔ مگر مزے کی بات یہ ملک نہ تو اسلامی ہے اور نہ ہی جمہوری۔ اسلام فطری مذہب ہے۔ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ اﷲ کے سوا کسی کی غلامی کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر ہم نے بُت پال رکھے ہیں۔ بھانڈ اور مراثی کلچر انہی بُتوں کی پوجا کا دوسرا نام ہے۔ یہاں نواز شریف کا بُت ہے، زرداری کا بُت ہے، الطاف کا بُت ہے، عمران کا بُت ہے اور مولانا فضل الرحمن جیسے علما تو سراپا بُت ہیں۔ ہر بت کرپٹ ہے، ریا کار ہے، پھر بھی اسلام کا پیروکار ہے۔ حالانکہ اسلام کا اِن چیزوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

جمہوریت لوگوں کا اپنے میں سے بہتر کو منتخب کرنے کا نام ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام بڑے بڑے لیڈروں سے علیحدگی میں اگر پوچھا جائے کہ دیانتداری سے بتاؤ کہ کیا تمہارے موجودہ لیڈر تم سے بہتر ہیں؟ تو وہ شرمندہ ہونے کے سوا کچھ نہیں کریں گے۔ ان کی جواب دینے کی ہمت نہیں ہوگی۔ نوازشریف کی جماعت تو خیر پراپرٹی ڈیلروں کی جماعت بن کر اُبھری ہے۔ وہاں عقل کا استعمال ویسے ہی ممنوع ہے۔ ورنہ تیسری دفعہ وزیر اعظم بننے والا شخص کچھ تو کارکردگی دکھاتا۔ الطاف بدمعاش اور دہشت گرد ہے اور ڈر کے مارے لوگ ساتھ چلنے پر مجبور ہیں۔ باقی بھی فقط ون مین شو کے علاوہ کچھ نہیں۔

سراج الحق نظام کو بچانے کی بات کرتے ہیں۔ اس ملک میں تو کوئی نظام سرے سے ہے ہی نہیں۔ کرپشن کو بچانا ہے، بے ایمانوں کو بچانا ہے، دہشت گردوں کو بچانا ہے، آخر کونسی بہتر چیز ہے جسے بچانے کی بات کی جاتی ہے۔جماعت اسلامی بھی اب ایک روائیتی جماعت ہے جو نہ دینی ہے نہ سیاسی بس مصلحت پسند ہے۔
اس ملک میں احتساب کا نظام سب سے پہلی ضرورت ہے۔ کوئی شخص چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو احتساب سے بالاتر نہیں ہونا چاہئے۔ مکہ میں قبیلہ مخزوم کی ایک عورت نے چوری کا ارتکاب کیا۔ چونکہ یہ ایک بااثر اور شریف قبیلہ سمجھا جاتا تھا اس لئے بڑے عار کی بات تھی کہ چوری کے جرم میں ان کی کسی بیٹی کا ہاتھ کاٹا جائے۔ قبیلے کے لوگوں نے کوشش کی کہ اس عورت کا ہاتھ نہ کاٹا جائے تا کہ قبیلے کی شان باقی رہے۔ مشہور صحابی اسامہ بن زیدؓ حضور ﷺ کو بہت محبوب تھے اور عموماً ان کی کوئی بات ردّ نہ کرتے تھے۔ قبیلے کے لوگ اسامہ بن زیدؓ کے پاس گئے۔ ان سے سفارش کی استدعا کی، اس یقین کے ساتھ کہ حضور ﷺ ان کی استدعا کبھی ردّ نہیں کرتے کہ اس عورت کا ہاتھ نہ کاٹا جائے بلکہ کوئی اور ہلکی پھلکی سزا دے دی جائے۔

حضرت اسامہؓ بہت غور و فکر کے بعد حضور رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور اس عورت سے رعایت برتنے کی سفارش کی، جسے سن کر رسول اکرم ﷺ کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ فرمایا اے اسامہؓ! یہ اﷲ کی مقرر کر دہ حد ہے اور تم اﷲ کی حد میں سفارش کرنے آئے ہو۔ میں اس خاتون کو محض اس لئے معاف کر دوں کہ وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے، نہیں، ہرگز نہیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔اس کے بعد حضور ﷺ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، لوگو! تم سے پہلے بہت سی قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ ان میں جب بھی کوئی معزز آدمی چوری کا ارتکاب کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کر دیتے۔ اﷲ کی قسم! اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد اس خاتون سے کوئی رعایت نہ کی گئی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔اگر پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے تو یہاں بھی احتسابکے معاملے میں اسی جذبہ کی منتظر ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 219960 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
16 Oct, 2016 Views: 476

Comments

آپ کی رائے