آگے بڑھو پاکستان مسائل اور ان کا حل

(Malik Muhammad Shahbaz, )
قیام پاکستان سے آج تک اس وطن عزیز کو لاتعداد مسائل کا سامنا ہے ۔یہ مسائل پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔پاکستان کو درپیش مسائل کی فہرست میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے ۔ کاروبار اور صنعتوں کو ویران کرنے میں لوڈشیڈنگ کابھر پور عمل دخل ہے۔گزشتہ دنوں ایک ویلڈر سے ملاقات ہوئی جو اپنے گھر کا واحد سہارا ہے۔السلام علیکم کے بعد بات آگے بڑھی تو اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا۔تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ویلڈنگ کا کاریگر ہوں اور اپنے گھر کا واحد سہارا ہوں ۔ کم بخت لوڈ شیڈنگ نے کاروبار تباہ کیا ہوا ہے انتہائی مشکل سے آیام گزر رہے ہیں ۔اس کے یہ الفاظ سن کر میں نم دیدہ ہوگیاکہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہونے کے باوجود فکر معاش نے اس کو جھنجھوڑاہوا ہے ۔اس تعلیم یافتہ ہنر مند کی طرح دیگر پاکستانی بھی اس لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں بہت پریشان ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کی اس مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو منظر عام پر لاکر حل کروانے میں میڈیا کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔یہ پاکستان جس کے حصول میں لاکھوں نوجوان قربان ہوگئے۔ بزرگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بیٹے ذبح ہوتے دیکھے۔یہ ملک جس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے ۔ہزاروں خواتین کی عصمت دری کے بعد حاصل ہونے والے اس ملک میں آج لوڈشیڈنگ کے عذاب نے اس قدر عوام کو بے حال کیا ہوا ہے کہ لوگ بھوکوں مر رہے ہیں۔

اس مسئلے کے حل کی فوری ضرورت ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ خود اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اس لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلائے۔سڑکوں کے جال ، میٹرو بس، اورنج ٹرین اور موٹر وے کے منصوبے مکمل کرنے سے پہلے لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات ضروری ہے۔ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ مشکل کام نہیں صرف اس کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت ہے۔ کوئلے کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے جس سے انتہائی سستی بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔ جن علاقوں میں ہوائیں زیادہ چلتی ہیں وہاں ہوا سے چلنے والے پلانٹ لگائے جائیں تو لوڈ شیڈنگ کافی حد تک کم ہوسکتی ہے۔حکومتی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے سرمایہ کو ایڈورٹائزنگ کی راہ میں برباد کرنے کی بجائے بجلی کی تیاری پر لگا کر اس لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرے۔ چونکہ آجکل سولر انرجی کا دور ہے لہذا زیادہ سے زیادہ سولر پلانٹ لگا کر بجلی کی کمی کو پورا کیا جائے۔لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں عوامی مدد کی بھی سخت ضرورت ہے ۔ بجلی کا ضیاع ہونے سے روکیں ، فالتو روشنیاں گل کر دیں اور صرف بوقت ضرورت استعمال کریں ۔ گرمیوں میں ایئر کنڈیشنڈ اور سردیوں میں ہیٹر کا کم سے کم استعمال کریں اور بجلی بچاکرپاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجانے کی صورت میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی صنعتیں بحال ہوجائیں گی۔ پاکستان کی صنعتی بحالی سے حاصل ہونے والا ذرمبادلہ قرض اتارنے کے کام آئے گا اور ملکی ترقی کے راستے کھل جائیں گے۔

لوڈ شیڈنگ کے علاوہ دیگر مسائل بھی پاکستان کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہیں۔سرحد پر بھارت کی اشتعال انگیزی ، ڈرون حملوں اور خود کش دھماکوں کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں کا اغواہ بھی لمحہ فکریہ ہے ۔جہاں ایک طرف والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے قاصر ہیں اور ڈر کے مارے پریشان ہیں وہاں دوسری طرف معصوم بچے بھی ان ظالموں کے ظلم و جبر سے انتہائی خوف زدہ ہیں۔کریں تو کیا کریں ؟ جائیں تو کہاں جائیں؟ ۔ اس مسئلے کے بارے میں انتہائی سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے تب ہی پاکستان آگے بڑھ پائے گا۔ سیکیورٹی کے انتظامات سخت سے سخت کرنا ہوں گے ، ہر اجنبی پر نظر رکھنا ہو گی ، مشکوک افراد کو حوالہ ء پولیس کرنا ہو گا، اپنے بچوں پرہمہ وقت نطر رکھنا ہوگی ۔ اور پکڑے جانے والے اغواء کار کے لیے حکومت کی جانب سے ایسی دردناک سزا مقرر کی جائے کہ اغواہ کار عبرت کا نشان بن جائیں اور آئندہ کوئی دوسرا ایسی حرکت نہ کرے۔ پاکستان کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ڈالنے والے دیگر مسائل میں ایک مسئلہ بے روزگاری بھی ہے ۔ ہزاروں نوجوان بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ ایم ۔اے پاس تندروں پر روٹیاں پکاتے ہوئے نظر آتے ہیں، کہیں کوئی چھلیاں بیچنے پر مجبوردکھائی دیتا ہے ۔بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان عوام اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی بھوک کے ڈر سے اپنے بچوں کو قتل کر رہا ہے تو کوئی بچوں کی فرمائشوں سے تنگ آ کر کسی ندی نالے میں کود کر اپنی جان دے رہا ہے۔ان حالات میں حکومتی ذمہ داری ہے کہ روزگار کے مواقع فراہم کرے اور غریبوں کے دکھوں کا مداوا کرے ۔ جیسا کہ حضرت عمر ؓ رات کو گلیوں میں چکر لگایا کرتے تھے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کسی کا کوئی مسئلہ تو نہیں۔ آپ ؓ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دریا کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر ؓ سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔ اصل حکمران تو وہ لوگ تھے آج کل کے حکمران تو ان کے قدموں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہیں۔ حضرت عمر ؓ ایک مرتبہ ایک جنگل میں تشریف لے جاتے ہیں تو وہاں ایک نابینا بڑھیا کے خیمے میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں اماں جان آپ کے پاس عمر ؓ آ یا ہے ۔ وہ بوڑھی اماں سوال کرتی ہے کہ کیا ابوبکر صدیق ؓ فوت ہوگئے ہیں؟ ۔حضرت عمر حیران ہو جاتے ہیں اور اماں جان سے پوچھتے ہیں کہ آپ تو نابینا ہیں آپ کو کس نے اطلاع دی ہے ۔ کیا کوئی قاصد آپ کو اطلاع دے کر گیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ وفات پاگئے ہیں؟۔ تو اماں جان بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس کوئی اطلاع نہیں آئی بلکہ میں نے تو اندازہ لگایا ہے کہ پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ دن میں دو مرتبہ میرے خیمے میں آتے تھے اور صفائی کرنے ، پانی بھرنے کے ساتھ ساتھ مجھے روٹی کے ٹکڑے شوربے میں بھگو بھگو کر کھلاتے تھے اور آج تین دن ہوگئے میں بھوکی پیاسی ہوں اسی سے اندازہ لگایا کہ ابوبکر صدیق ؓ وفات پاگئے ہیں۔ حضرت عمر ؓ حیران ہوجاتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شان و عظمت کے کیا کہنے ہیں میں عمر ؓ کبھی بھی نیک اعمال میں حضرت ابوبکرصدیقؓ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

حضرات یہ تھے اصل حکمران جنہوں نے اپنی حکمرانی کا حق ادا کردیا۔ آج کے حکمرانوں کو بھی ان کی سیرت سے متاثر ہوکر اس پر عمل کرنا چاہیے اور بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔پاکستان کے آگے بڑھنے کے لیے بیروزگاری کا مسئلہ جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ حکومتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھیں تاکہ نوکری نہ ملنے کی صورت میں کم از کم اپنا کاروبار شروع کر سکیں اور اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان کے آگے بڑھنے میں حصہ ڈال سکیں۔ جس طرح چین نے چھوٹی صنعتوں اور گھریلو دستکاریوں میں بہت ترقی کی ہے اسی طرح ہمیں بھی گھریلو بنیاد پر محنت کر کے ملک پاکستان کے آگے بڑھنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔کسی بھی کام کو چھوٹا یا معمولی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ محنت کرنا انبیاء کا شیوا ہے اور محنت کش اﷲ کا دوست ہے جیسا کہ فرمان ہے ( الکاسب حبیب اﷲ )۔ پاکستان کے آگے بڑھنے میں ایک بڑی رکاوٹ قانون کی غیر شفافیت ہے ۔ جب تک قانون کی نظر میں سب برابر نہیں ہوجاتے ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ ہمارے ملک میں ایسے حالات ہوچکے ہیں کہ مجرم سفارش اور رشوت کی بناء پر سزا سے بچ جاتا ہے۔ اور مدعی انصاف نہ ملنے پر خو دکشی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جب تک اسلامی قوانین کا نفاذ نہیں ہوگا پاکستان کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔اسلام نے چور کی سزا جرم ثابت ہونے پر ہاتھ کاٹنا مقرر کی ہے ۔ ہمارے عدالتی سربراہوں کو چاہیے کہ اس سزا کو لاگو کریں اور ہر چوری کرنے والے کا ہاتھ سرعام کاٹ دیا جائے ۔صرف ایک چور کا سرعام ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ ساری دنیا کے چوروں کے لیے نشان عبرت بن جائے گااور باقی کے ہزاروں چور توبہ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس سزا کو لاگو کرنے کے بعد کسی امیر ، غریب یا طاقتور اور کمزور میں فرق نہ کیا جائے بلکہ سب کو برابر سمجھا جائے تو اس چوری کا جڑ سے خاتمہ سو فی صد یقینی ہوجائے گا۔ حضور اکرم ﷺ کے پاس امیر قبیلے کی فاطمہ نامی عورت کی سفارش کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کی جگہ میری اپنی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں محمد ﷺ اس کا ہاتھ کاٹنے سے بھی دریغ نہ کرتا۔ یہی وہ اصول تھا جس کی بناء پر اسلام آگے بڑھا اور برابری کا یہی اصول پاکستان کے آگے بڑھنے کی گارنٹی دے سکتا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام مکمل اسلامی اصولوں پر ہونا چاہیے اور ہر جرم کی سزا وہی مقرر کی جائے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے تو پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ چور کا ہاتھ کاٹا جائے ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، کان کے بدلے کان ، قتل کے بدلے قتل ، زنا کرنے والے کو کوڑے لگائے جائیں اور شادی شدہ شخص کے زنا کرنے پر پتھر مار مار کر سنگسار کیا جائے تو آئندہ کوئی بھی ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرے گااور پھر کسی مدعی کو انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی نہیں کرنا پڑے گی۔

پاکستان کو بنانے کے لیے لاالہ الا اﷲ کا نعرہ لگایا گیا تھا ، یہی نعرہ پاکستان کو چلانے اور آگے بڑھانے میں کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ آگے بڑھو پاکستانیوں اور لاالہ الا اﷲ کے اس نعرے کی لاج رکھتے ہوئے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ میں معاون بنیں ۔ سفارش و رشوت کو پس پشت ڈال کر محنت و لگن سے مقام حاصل کریں۔ پاکستان کے آگے بڑھنے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے دن رات تگ و دو کریں۔ انفرادی و اجتماعی طور پر کسی بھی صورت ملک سے غداری نہ کریں اور مخلص ہوکر پاکستان کی ترقی و ترویج میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔حکومتی سطح پر ذمہ داریوں کا احساس ضروری ہے اور مسائل کی تحقیق و تفصیل کے بعد ان کے مکمل حل کی اشد ضرورت ہے۔ ملک میں برابری کا قانون لاگو کرنا ہوگا اور غریب و امیر کا فرق ختم کرنا ہوگا۔ملکی معیشت کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔ آپسی اختلافات ختم کر کے متحد ہونا ضرورت وقت ہے ۔ ملکی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے ہر لحاظ سے کوشش کرنا ہوگی۔ بچوں کے اغواء میں ملوث انسانی شکل کے بھیڑیوں کو بے نقاب کر کے تختہ دار تک پہنچانا ہوگا۔لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے جلد از جلد اقدامات کرنا ہوں گے۔ہنرمندانہ تعلیم اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ گھریلو صنعت کاری کو فروغ دینا ہوگااور عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کو مکمل یقینی بنانا ہوگا۔ ان تمام اقدامات کی صورت میں پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام ہوگا ۔اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو، آمین ۔ پاکستان زندہ باد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Muhammad Shahbaz

Read More Articles by Malik Muhammad Shahbaz: 54 Articles with 25441 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2016 Views: 245

Comments

آپ کی رائے