ضدی عمران خان اور نیا پاکستان

(Syed Haseeb Shah, Karachi)
لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا:جناح کی ضد نے پاکستان بنایا اور اب ضدی عمران خان نیا پاکستان بنائے گا قائد محترم جناب عمران خان صاحب کی64سالہ زندگی پر ایک مختصر تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔
 عمران خان 25نومبر 1952کولاھور میں اکرام اللّہ خان نیازی کےگھرپیداہوئے ابتدائی تعلیم لاھور کیتھڈرل اسکول اور ایچیسن کالج سے حاصل کی اسکےبعد اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ چلےگئے وہاں رائل گرائمر اسکول میں تعلیم حاصل کی اورپھر اکسفورڈ یونیورسٹی سے اونرز کیساتھ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ، عمران خان 1971سے 1992 تک کرکٹ کی میدانوں میں پاکستانی پرچم سربلندکرتےرہے انہوں نےپہلےپانچ عالمی کپ کھلنے کااعزاز حاصل کیا جبکہ بطور کپتان انہوں نےتین ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی جوایک ریکارڈ ھ ، 1992 میں کھیلے گئے پانچویں ورلڈ کپ میں عمران خان کی قیادت میں گرین شرٹس نےپہلی بار عالمی چمپیئن ہونےکااعزاز حاصل کیا ، کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کیبعد عمران خان کی توجہ فلاحی کاموں کیطرف ہوگئی اور انہوں نے عوام کی تعاون سے 1994کو لاہور میں ایشیا کاسب سےبڑا کینسر ہسپتال بھی بنادیا فلاحی کاموں کیوجہ سےعمران خان کو صدارتی ایوارڈ حقوق کااِشادایوارڈ اور ہلال امتیاز سےبھی نوازاگیا ، 16 مئی 1995کو عمران خان نے برطانوی ارب پتی خاتون جمائمہ گولڈاسمتھ کومسلمان کرکے انسےشادی کی اور 1996 میں انہوں نے سیاست میں آنےکا اعلان کیا اوراپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف بنائی اور 2002 کےعام انتخابات میں وہ پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ 2004 میں انکی جمائمہ خان سے نوسالہ رفاقت ختم ہوگئی جن سےانکےدوبیٹے سلمان اور قاسم بھی ہیں ، 2013 کےعام انتخابات میں تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کرسامنےآئی-

آپ اپنی سیاسی مخالفت کی وجہ سے عمران خان کو یہودی لابی کہیں، ڈانس کرنے والا کہیں، نشئی کہیں، ہٹ دھرم کہیں، باغی کہیں یا وزارت عظمیٰ کا لالچی کہیں۔۔۔۔

مگر یہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ عمران خان پاکستان کا وفادار نہیں، یا عمران خان کرپٹ ہے۔
میں مروجہ جمہوریت کو ناپسندیدہ ترین نظام سمجھنے اور پاکستانی سیاست سے سخت نفرت کے باوجود عمران خان کو پاکستان کا مقدمہ لڑنے والا ایک نڈر، بہادر اور مخلص شخص سمجھتا ہوں۔۔۔۔ یقیناً عمران خان کی جدوجہد خالص پاکستان کے حق میں ہے، یہ الگ بات ہے کہ کئی حضرات اپنی مخالفت کی وجہ سے بہت سوں کی اچھائیوں کو بھی برائی سمجھتے ہیں۔

عمران خان اگر تحریکِ انصاف سے سابقہ جماعتوں کے مستعمل ٹشو رہنماء نکال دے تو پاکستان کی تاریخ میں عظیم جدوجہد کرنے والے رہمناؤں میں ایک نام عمران خان ہوگا۔

تاریخ لکھی جائے گی اور تاریخ ضرور لکھے گی کہ اشرافیہ کے گھر پیدا ہونے والا ایک کرکٹ سٹار عیش و عشرت کی زندگی جینے اور پیسہ بنانے کے بجائے گلی کوچوں، چوکوں چوراہوں اور ایوانوں میں چیختا سنائی دیتا تھا ۔۔۔۔۔ عمران خان کی تڑپ اور جرأت کم از کم مجھے داد دینے پر مجبور کرتی ہے۔
باقی تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد کوئی عمران خان پیدا ہونا محال ہے، پی ٹی آئی والے شاہ محمود قریشی، علیم خان، جہانگیر ترین، فوزیہ قصوری جیسوں کی جگہ علی محمد خان جیسے نفیس اور پڑھے لکھے لوگوں اور شاہ فیصل خان جیسے غریبوں کو ایوانوں میں لائے تو یقیناﹰ تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہوگی جس نے وطن عزیز میں اکیسویں صدی کی ڈوبتی سیاست کو ایک نیا رخ اور نیا ولولہ دیا ہے۔

تحریکِ انصاف کے کارکنان اور دیگر جماعتوں سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے رہنماؤں یا تحریک کی پالیسی اور طریقۂ کار سے مجھے 90 فیصد اختلاف ہوسکتا ہے، ہاں مگر عمران خان کی حب الوطنی اور ملک کیلئے جدوجہد کو نظرانداز کروں تو یقیناﹰ میں نا انصافی کروں گا۔ عمران خان"
پاکستان کی تاریح میں پہلی بار پاکستانی عوام کو ایک سچا نڈر بے باک اور عوام دوست لیڈر ملا ہے- جس نے پاکستانی عوام کو ایک بے وقوف قوم سے باشعور قوم بنایا- اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا سلیقہ سیکھا کر ان نام نہاد حکمرانوں کی اصلیت دیکھا کر ہر موڑ پر انکا راستہ روک کر انکے ناک میں دم کررکھا ہے-یہی وجہ ہیکہ آج سارے چور ملکر بے بنیاد جھوٹے الزامات لگا کر عمران خان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں-

غدار انصاف کا نہیں بے انصافی کا نعرہ لگاتے ہیں - ایجنٹ ملک کی ترقی کی نہیں بلکہ بربادی کا نعرہ لگاتےہیں-

ایجنٹ عوام کے حقوق کا محافظ نہیں بلکہ عوام کے حقوق پہ ڈاکہ ڈال کر انکوں لوٹنے کا کام کرتے ہیں
ن لیگ اور پرویز رشید کے اسطرح کے الزامات صرف و صرف عوام کے آنکھوں میں دھول جھونک کر گمراہ کرنے کے سوا کچھ نہیں- مگر عمران خان کی جدوجہد سے عوام میں اتنا شعور تو آگیا ہے- جو سچ جھوٹ یا صحیح اور غلط میں فرق کرسکے- اس طرح کی کوششیں اب عمران خان کا راستہ نہیں روک سکتی-
میرے قائد اور یہودی ایجنٹ عمران خان
یہ تو میرے قائد حضرت امیرالمومنین عزت مآب نوازشریف کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے نجم سیٹھی کے ذریعے یہ گیم کھیلی کہ یہودی ایجنٹ عمران کو وہاں بھیجا جائے، پھر ہم نے پاک بھارت تعلقات کے وسیع تر مفاد کی خاطر یہ میچ انڈیا کو دے دیا اور کمال مہارت سے ہار کا ذمہ دار بھی یہودی ایجنٹ عمران کو ٹھہرا دیا. اس میں کوئی شک نہیں انڈیا میں سب بے وقوف رہتے ہیں.

ہم نجم سیٹھی کے زریعے یہ پیغام نہ بھیجتے تو وہ جیت ہی کہاں سکتے تھے. پیغام یہ تھا کہ پچ ایسی بنانا جہاں بال بہت زیادہ سوئنگ ہو. چونکہ ہم جانتے تھے کہ ہمارے ہاں سپنرز کا فقدان تھا اس لئے ہم نے چال کھیلی.

ساتھ ہمارے امیرالمومنین حضرت میاں نوازشریف نے جاتی عمرہ کے قدیم باغات سے ایسی نایاب سلاجیت بھجوائی جو ویرات کوہلی کو کھلائی گئی تاکہ آؤٹ ہی نہ ہو. دوسری طرف ہم نے انصاپی چوچوں میں یہ بات بھی پھیلا دی کہ بغض عمران میں پٹواری دعائیں مانگتے رہے تھے کہ پاکستان انڈیا سے ہار جائے اس لئے انڈیا جیت گیا. کیا کریں صاحب تھوڑا بہت کرنا پڑتا ہے. یہ ہمارے قائد امیرالمومنین حضرت میاں محمد نوازشریف(رح) کی سیاسی بصیرت آپ لوگوں کو کہاں سمجھ آئے گی.

اور اس یہودی ایجنٹ عمران خان کی مجھے آج تک سمجھ نہ آئی. احساس کمتری کی ماری اس قوم کو ورلڈ کپ دے کر کیا سمجھ رہا ہے کہ اس قوم کے دل جیت لے گا؟ کبھی لاہور میں کینسر ہسپتال بنادیتاہے کبھی پشاور میں. آخر ثابت کیا کرنا چاہتا ہے کہ اس کے اس طرح کے ہتھکنڈوں میں آکر ہم امیر المومنین جناب محترم میاں محمد نوازشریف پاوے والی سرکار کی ذہنی غلامی چھوڑ دیں گے؟

ہم نے پانچ بار امیرالمومنین دوئم حضرت مآب شہباز شریف کو وزیراعلیٰ بنایا، تین بار نوازشریف کو وزیراعظم بنایا. لیکن میرے ان مرشدوں کی زہنی بلوغت دیکھیں آج تک ہم نے ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں امیر المومینین کا اپنا علاج ہوسکے. اسے کہتے ہیں سیاست .... یہودی ایجنٹ عمران کیا جانے سیاست کیا ہوتی ہے.
 
19 Oct, 2016 Views: 393

Comments

آپ کی رائے