پاک، بھارت جنگ اور مرشد لاثانی سرکار

(Qadir Khan, Lahore)
 جنوبی ایشیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے ، جس سے پوری دنیا کو ایٹمی جنگ کے خطرات ؒلاحق ہیں ۔ پاک ، بھارت جنگ کے سائے دونوں ممالک کے سر پر موجود ہیں ، اور دونوں ممالک کے عوام اس ایٹمی جنگ سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔پاکستان کے سیاست دان اور عسکری قیادت ،اور اقوام عالم کو اس بات کا ادارک ہے کہ مسئلہ کشمیر ، دونوں ممالک کے درمیان ایک خطرناک جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔عوام ، سیاست دان اور عسکری قیادت جہاں پاک ، بھارت جنگ کے حوالے سے اپنا اپنا نقطہ نظر دے رہے ہیں ، وہاں ایسے صوفیا ومشائخ بھی ہیں جو انسانیت کی تباہی پر خاموش نہیں بیٹھے ، وہ حالات کے تمام باریکیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ، اسی سلسلے میں جب فیصل آباد کے جید صوفی مسعوداحمد صدیقی المعروف لاثانی سرکار نے پاک ، بھارت جنگ کے نتائج اپنے لفظوں میں یوں کھینچے کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔جس وقت کارگل کی جنگ ہو رہی تھی ، اس وقت بھی آپ نے فرمایا تھا کہ اگرچہ کارگل محاذ پر جیت پاکستان کی ہو رہی ہے اور ہندوستان کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے ، لیکن اگر اسی طرح نقصان جاری رہا تو ہندوستان پاکستان پر ایٹمی حملہ کردے گا۔ انھوں نے ایٹمی جنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کا تخمینہ لگاتے ہوئے فرمایا کہ ایٹمی جنگ سے قریبی ممالک کا بھی نقصان ہوتا ہے ، اس لئے عالمی جنگ بھی چھڑ جاسکتی ہے۔مشائخ و فقرا ء کے روحانی محفل میں انھوں نے ایٹمی جنگ کا نقشہ یوں کھینچا کہ اگر پاک، بھارت جنگ ہوگی تو صرف پاکستان میں ساڑھے سات کروڑ عوام جاں بحق ہوجائیں گے اور ڈیڑھ کروڑ عوام معذور ہوجائیں گے، جبکہ بھارت کے ساٹھے آٹھ کروڑ عوام مرجائیں گے اور ڈھائی کروڑ عوام معذور ہوجائیں گے ، ہر طرف خون ہی خون نظر آئے گا۔اتنے لوگ مر جائیں گے کہ دفنانے کی جگہ بھی نہیں ہوگی۔چناطچہ جنگ کے سنگین حالات کا سن کر اکثر درویش و مشائخ و خاکسار عالمی جنگ نہ ہونے کی دعا کی درخواست کرتے ہیں۔کچھ ایسی صورتحال جولائی1999ء میں بھی ہوئی تھی جب حالات سنگین صورتحال اختیار کرتے کرتے زبردست ایٹمی جنگ کے دہانہ پر پہنچ گئے تو فوج نے بارڈر پر کئی گاؤں خالی کروانے کے احکامات دے دیئے تھے ۔ موجودہ حالات بھی ماضی کی طرح اسی ڈگر پر پہنچ رہے ہیں ، صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار جنگ کے حق میں نہیں ہیں ، کیونکہ اس میں کروڑوں انسانوں کی ہلاکتیں ہیں۔ کارگل محاذ پر جب تناؤ دونوں ممالک میں حد سے بڑھ چکا تھا ،اور اکثر فقرا نے عالمی جنگ کو گستاخین اور اسلام دشمن عناصر کے خاتمہ کے لئے ناگزیز قرار دیا تھا ، مگر صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کا کہنا تھا کہ" اس ہولناک جنگ عظیم میں مخلوق خدا کی بھی ہلاکت و تباہی ہونی تھی اور صحیح عقائد و ایمان والے لوگوں کو مسایل کا شکار ہونا پڑتا ، لہذا اتنی جانوں کے بغیر ہی اسلام کا غلبہ لانے کیلئے اس عالمی جنگ کے بجائے اﷲ و رسول ﷺ لے گستاخ اور اسلام دشمن طاقتوں کو آپس میں لڑاکر ان کی طاقت ختم کردی جائے ۔" یہ واقعی قابل غور نقطہ نظر ہے ، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اسلام دشمنوں نے فرقوں کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر ان کی طاقت ختم کرنی شروع کردی ہے ، دنیا میں کوئی مسلم ملک کا خطہ امن کا گہوراہ نہیں ہے ، خانہ جنگیاں ، فرقہ وارنہ عداوتیں ، مسلکی بنیادوں پر مسلمانوں کو مسلمان کے ساتھ لڑایا جا رہا ہے ۔ اﷲ تعالی نے مسلم ممالک کو وافر مقدار میں خزانے عطا فرمائے لیکن یہ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے بجائے ، عیاشی و فروعی مفادات پر خرچ ہورہے ہیں۔یہود و نصاری کبھی مسلم مومن کے دوست نہیں ہوسکتے ، ان کی سازشوں کا جال مسلم ممالک میں اس طرح پھیلا دیا گیا ہے کہ ایک عام مسلمان کا اس سے بچنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے ۔ صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار ان شخصیات میں ہیں جنھوں نے تمام مسالک و مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی کے لئے بین المذاہب امن اتحاد پاکستان بنائی ، جس کے تاحیات چیئرمین ہیں۔راقم سیاسی اور پھر سیاست سے کنارہ کشی کے بعد صحافتی دور میں بہت کم شخصیات سے متاثر ہوا ہے ، اس کی اہم وجہ ان کے قول و فعل میں تضاد واضح نظر آتا رہا ہے ، اکثر احباب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کے حواؒؒلے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم کن چکروں میں پڑ گئے ہو، میرا ان کو ایک چھوٹا سا جواب یہی ہوتا ہے کہ مجھے انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کون کافر ہے ، کون مسلمان ہے ، انھوں نے کسی مسلک کو گالی نہیں دی ، ان کے جتنے کام کئے ، فلاح و انسانیت اور امن کیلئے کئے ۔ جب ہماری مملکتیں بل گیٹس ، مدر ٹریسا جیسوں کی سماجی خدمات پر ان کے قدم چومتے ہیں ، تو صوفی مسعود احمد صدیقی کا تو کوئی ثانی نہیں۔ اس کی مثال پاک ، بھارت جنگ کے نتیجے میں ہونے والی انسانیت کی تباہی پر ان کے جذبات ہی دیکھ لیں کہ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا ہو اور غیر مسلم کے ساتھ بُرا ہو ، بلکہ وہ جہاں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو انسانیت کو سامنے رکھتے ہوئے ، بے گناہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ان سب کے تحٖفظ کی بات کرتے ہیں اور یہ تو خود اﷲ تعالی کا حکم ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا ، اور جس نے ایک انسانی جان کو نقصان پہنچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو نقصان پہنچایا۔ آج یہی قرآنی آیات امریکہ نمایاں جہگوں پر لگا رہا ہے ، اسے اندازہ ہے کہ اسلام امن و آشتی کا پیغام دیتا ہے لیکن سیاست کے مکروہ دھندے میں جہاں لسانیت ، قوم پرستی ، گروہ بندی ، مذہب ، جیت کیلئے حاوی ہوجاتا ہے ، وہاں پھر اقتدار کی ہوس رہ جاتی ہے ، بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلسل در اندزیاں ، الزامات اور جنگ کا ماحول پیدا کرنے کا مقصد صرف اقتدار کی ہوس ہے ۔ لیکن خدانخواستہ جنگ چھیڑ جاتی ہے تو کروڑوں انسانوں کی ہلاکتیں و معذوریوں سے کون سا ملک بچ سکتا ہے۔ امن کیلئے جنگ ، نیو ورلڈ آرڈر کا یجنڈا تھا ، لیکن جہاں اﷲ تعالی کے برگزیدہ بندے ہوں ، وہاں صرف اﷲ تعالی کے قوانین و مکافات عمل ہی چلتے ہیں ، کسی کا آڈرر نہیں بلکہ اﷲ تعالی کا آڈرر چلتا ہے۔صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار سے چاہیے کسی مخالف کا ان سے جتنا بھی اختلاف ہو ، لیکن اس بات کا اقرار ان کا شدید تر مخالف بھی کرے گا کہ لاثانی سرکار نے عدم تشدد کا درس دیا ہے۔ محبت ،امن و آشتی کے لنگر ان کے آستانے سے نکلتے ہیں ۔یہی رویہ اگر ہماری مملکتیں بھی اختیار کرلیں تو فلاح انسانیت کے عظیم خطرے کو ٹالا جا سکتا ہےء۔ لیکن سیاسی جماعتیں اقتدار کیلئے دست و گریبان رہیں تو عوام ہی نہیں رہیں گے تو کس پر حکومت کریں گے ۔ پاک ، بھارت محض ایک روایتی جنگ نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک ایسی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ، جیسے لوئی روک بھی نہیں سکے ۔ سیاست دان ، عسکری ادارے ملک و قوم کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں ، اس پر کوئی رائے دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا عمل ہمارے سامنے ہے ، ایک عام مسلمان صرف مرشد سے دعا کی اپیل کرسکتے ہیں ، کہ اﷲ تعالی کی اس دنیا میں بہت سے بے قصور ایسے بھی ہیں جنھیں اپنے ملک کے وزیر اعطم کا نام بھی نہیں معلوم ، آپ رحمت و کرم کیلئے اﷲ تعالی سے دعا فرمایئے اور ہر ذی حس انسان انسانیت کی تباہی کو روکنے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرے ۔ کیونکہ یہی سنت ﷺ ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 727 Articles with 296634 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Oct, 2016 Views: 510

Comments

آپ کی رائے