نئے پاکستان میں

(Tughral Farghan, Hyderabad)
دو نومبر کے بعد کیا ہو گا اس سوال کا جواب تلاش کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی اینکرز دو دھڑوں میں بٹے ہوئے صاف نظر آ رہے ہیں۔ کچھ چینلز لگائیں تو لگتا ہے بس آدھے گھنٹے بعد نئے الیکشن کا اعلان ہو گا۔ جبکہ کچھ چینلز زور و شور سے لونگ مارچ اور دھرنوں کی مکمل ناکامی کا اعلان کرتے نظر آئیں گے۔ دونوں طرف سے لفافے بانٹے جا رہے ہیں۔ ہاں کچھ صحافی حضرات اس سے مستثنی ہیں جو واقعی غیر جانبدار ہیں اور وہی کہنے کی کوشش کرتے ہیں جو سچ ہو مگر ان کی بات کبھی کسی کو تو کبھی کسی کو ناراض کر دیتی ہے۔

ہم نے سوچا ذرا تخیل کو آزاد چھوڑ کر مستقبل میں جھانک کر دیکھیں کہ الیکشن جیتنے کے بعد کرپشن کا خاتمہ کیسے کیا جائے گا، آئیں آپ بھی ہمارے ساتھ ٹائم مشین میں بیٹھ جائیں۔

سال ۲۰۱۸ الیکشن ہو چکا نتائج آ رہے ہیں۔ غریبوں کا سچا ہمدرد کرپشن کا جانی دشمن وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا دعوی دار بڑے اور لمبے چہرے والا طویل اپنے فارم ہاؤس میں بنے محل کے شاندار ڈرائنگ روم میں قیمتی صوفے پر پاؤں پسارے بیٹھا ہے اس کے قریب اس کا پالتو السیشن بھی براجمان ہے اور زبان نکالے ہانپ رہا ہے، طویل کا ہاتھ السیشئن کے سر پر رکھا ہے۔

دوسرے صوفوں پر اس کے کچھ قریبی ساتھی بیٹھے ہیں درمیان میں میز پر کچھ اشیاء خور و نوش رکھی ہیں جن میں ڈرائی فروٹس وغیرہ نمایاں ہیں کچھ ڈبے اور بوتلیں ہیں جن میں مشروبات نرم و سخت بھرے ہیں اور کچھ ڈبے بھری اور خالی اشیائے کشیدنی کے رکھے ہیں، خالی سے مراد جن میں صرف تمباکو ہے۔ ۔ سب کی نظریں دیوار گیر ٹی وی کی اسکرین پر لگی ہیں جہاں ایک چینل کے لوگ نتائج دکھا رہے ہیں اور خوشی سے ان کے دانت اندر نہیں جا رہے تھے کیونکہ حکومتی پارٹی کی سیٹس کم ہو گئی تھیں اور طویل خان کی پارٹی زیادہ سیٹس لے اڑی تھی۔

آخری نتیجہ آتے ہی کمرے میں زوردار نعرے بلند ہوئے اور جیت کا جشن منانے کے لیے سب نے اپنے ہاتھ میز کی طرف بڑھا دئیے۔

دوسرے دن سب وہیں جمع تھے طویل نے ایک مختصر سی تقریر کی کہ اب ہماری باری آ گئی ہے اور ہمیں سب سے پہلے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے ہمیں کتنی سیٹس ملی ہیں؟

قریب ترین ساتھی جس کی شکل لومڑ سے ملتی ہے اور لومڑین کہلاتا ہے، نے جواب دیا ایک سو پندرہ ہمیں ملی ہیں جبکہ دشمن کو نناوے ملی ہیں۔ طویل نے ایک طویل سانس لیتے ہوئے کہا :اوہ پھر ہمیں جلدی کرنی چاہیے کہیں وہ دوسروں کو ساتھ نہ ملا لیں۔
لومڑین : جی سر جیسا آپ کہیں مگر ذرا یہ رجسٹر ملاحظہ فرما لیں۔
طویل: یہ کیا ہے؟
لومڑین : جی اب تک ہم نے آپ کی ذات اور الیکشن پر جو خرچ کیا ہے اس کا حساب ہے اسمیں آپ کے کچن کا حساب نہیں ڈالا مگر دوروں کا ہیلی کوپٹر اور جہاز میں جو پٹرول جلا وہ ڈال دیا ہے نیز اس میں قابض اور واڈکا نے جو خرچ کیا ہے وہ بھی شامل ہے۔
طویل: اوہ ہو بھئی اب اس وقت یہ دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ خیر فائنل فگرکیا ہے، اکائی، دھائی، سینکڑہ، ہزار، دس ہزار، لاکھ ،دس لاکھ، کروڑ، دس کروڑ، ارب، دس ،اوئے یہ کیا ہے یہ حساب تو اربوں میں چلا گیا ہے۔۔
لومڑین :جی جناب اسی لیے دکھا رہا ہوں کہ اب ہم بھی آپ کی طرح غریب ہو گئے ہیں۔ اب ہمارے اکاؤنٹس میں صرف چند ہی ارب باقی بچے ہیں۔اس لیے لگے ہاتھوں یہ معاملہ بھی صاف ہو جائے تو بہتر ہے۔
طویل: تو اب کیا چاہتے ہو؟
لومڑین : بس جی مجھے وزیر خزانہ بنا دیجیے اور دیکھیے گا میں کیسے اپنا نقصان پورا کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی غربت سے نکال لوں گا۔ بس اتنی درخواست ہے کہ ذرا میری طرف سے آنکھیں بند کرلیجیے گا۔
قابض: اور جناب مجھے اراضی کا بڑا تجربہ ہے تو یہ وزارت مجھے دے دیں اسے مجھ سے اچھا کوئی نہیں چلا سکتا۔
طویل: ہم م م ٹھیک ہے اب تم لوگوں کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں تو کیا میں تمہارا اتنا سا کام بھی نہ کروں تم دونوں کو مطلوبہ وزارتیں دیں۔
واڈکا بولا: میرے لیے کیا ہے؟
طویل: فکر مت کرو تم ریلوے اور پی آئی اے میں سے جو چاہے لے لو تمہارا نقصان بھی پورا ہو جائے گا۔
ایک طرف بیٹھے چھوٹے بالوں والے کلین شیو نے آواز لگائی : طویل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔
طویل قہقہہ لگاتے ہوئے: ہاہاہاہا تو تو شیر ہے شیرا تو ایسا کر داخلہ لے لے ای سی ایل تیرے کنٹرول میں ہوگی۔
اچانک دروازہ کھلا اور ایک عجیب سی بڑی سی گیند لڑحکتی ہوئی داخل ہوئی اور آتے ہی ناچنا گانا شروع کر دیا: او لیڈر میرا پی ایم بنا آج میرا ناچنے کو جی کردا۔
طویل اوئے آرام سے بیٹھ میٹھی کہاں رہ گٗی تھی؟ بول تجھے کون سی وزارت دوں؟
میٹھی اپنے سہ رنگے بال جحٹکتے ہوئے: ارے سر آپ کے قدموں میں جگہ مل جائے تو اور کیا چاہیے۔
طویل خوش ہو کر: اچھا ایسا کر تو اطلاوات و نشریات لے لے۔
میٹھی جحک کر آداب بجا لاتے ہوئے: نوازش شکریہ۔ اللہ آپ کا اقبال بلند کرے ظل سبحانی۔
اب سامنے بیٹھے کلین شیو پیر صاحب اپنا چکناچہرہ چمکاتے ہوئے بولے: طویل کہیں میرے اھسانات مت بھول جانا میں نے بھی تمہارے لیے رات دن کام کیا ہے اور تم جانتے ہی ہو کہ مجھے خارجہ کا تجربہ ہے تو۔۔۔
طویل شاہانہ انداز میں: دی آپ کو خارجہ دی۔
اس پر دوسرے گیسو و مونچھیں دراز پیر صاحب بول پڑے: اب میرا کیا ہو گا یوں کریں وزارت مذہبی امور مجھے دے دیں۔
طویل جھومتے ہوئے: دی دی تم کو دی۔مگر یہ بتاؤ باقی سیٹس کیسے حاصل کی جائیں؟
چکنے پیر صاحب: ہم ہیں نہ تم کیوں فکر کرتے ہو۔ دیکھو لندن والے پیر کی پارٹی کے پاس کافی سیٹیں ہیں ان کو ملایا جا سکتا ہے۔
طویل: وہ ہمارا ساتھ نہیں دینگے ہم نے ان کے خلاف بہت شور مچایا ہے یہاں تک کہ پیر صاحب آف لندن کو پھانسی چڑھوانے کی بھی کوشش کی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ ساتھ آئیں۔
لومڑین: ارے ان کو منانا ہمارا کام ہے ہم ان سے بات کر لیتے ہیں ان کی مقدمات ختم کروا دیں کارکنوں کو بشمول کراچی کے ذمہ دار رہا کروا دیں کچھ وزارتیں دے دیں۔ اور ایک چکر پیر صاحب کے آستانے کا کراچی میں لگا لیں اور ضرورت پڑے تو لندن بھی ہو آئیں۔
طویل سوچ میں ڈوبتے ہوئے: ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ویسے بھی یہ پارٹی ہماری فطری حلیف ہے۔
لومڑین: کچھ سیٹیں مولوی صاحب کے پاس بھی ہیں مگر۔۔۔۔۔
طویل بات سمجھتے ہوئے: بات کر لو ڈیزل اور کشمیر ان سے کوئی نہیں چھین رہا۔
چکنے پیرصاحب: لال ٹوپی والوں کو بھی غیر متوقع طور پر اچھی خاصی سیٹیں مل گئی ہیں ان سے بھی بات ہو سکتی ہے۔
لومڑین: مگر ہم نے انہیں اتنا ستایا تھا اتنی مخالفت کی تھی اب وہ شاید ہمارا ساتھ نہ دیں۔
چکنے پیر صاحب:ببھئی وزارتوں کی رشوات سامنے رکھ دو کیسے نہیں مانیں گے۔
طویل جز بز ہوتے ہوئے: پیر صاحب ہم کرپشن کا خاتمہ کرنے آئے ہیں رشوت کا نام نہ لیں ہاں بات بن جائے تو خیر سگالی کے طور پر ان کو وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔ آخر وہ ہمارے فطری اتحادی ہیں ہم ایک ہی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔
لومڑین: اس با رآزاد امیدوار بھی کافی جیتے ہیں اگر ان سے مک مکا کر لیا جائے ان کی طرف سے آنکھیں بند کر لی جائیں تو وہ بھی ہماری طرف آ جائیں گے۔
طویل: میں نے کہا نہ میرے سامنے مک مکا کا نام نہ لو۔ دوستی کی بات اور ہے ، بات کر لو ان سے بھی۔ جو بھی ملتا ہے جس شرط پر بھی ملتا ہے اسے ساتھ ملا لو مجھ سے اب شیروانی سے دوری برداشت نہیں ہو رہی۔
اچانک دروازہ کھلا اور ایک گول مٹول ریچھ نما شخص سگار چوستا ہوا اندر داخل ہوا اور بولا: بہت بہت مبارک ہو طویل صاحب آخر ہم نے آپ کو جتا ہی دیا، آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مجھے اطلاعات کا بڑا تجربہ ہے تو مجھے یہ وزارت دے دیں اور اس سے پہلے مجھے سینیٹ میں بھی پہنچا دیں۔
طویل: اچھا تم نے کتنی سیٹیں جیتی ہیں؟
ریچھ نما: جی بس اتفاق سے میں نہیں جیت سکا میرے پاس کوئی سیٹ نہیں اسی لیے سینیٹ کا سوال کیا ہے۔
طویل: اوئے نکل ادھر سے منگتا کہیں کا ،سیٹ کوئی پاس نہیں اور وزارت چاہیے اور یہ تو نے کیا کہا اتفاق سے ہار گئے اوئے جو ’اتفاق’ سے ہارجائے اس کے لیے میرے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔ اوئے تیری حیثیت کیا ہے میں تجھے تو میں اپنا چپراسی بھی نہ رکھوں ، اوئے دھکے دے کر نکال اس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو۔

سب نے مل کر اس کو دھکے دے کر باہر پھینک دیا۔ طویل کی آنکھوں میں شیروانی لہرا رہی تھی جبکہ اس کے ساتھیوں کی آنکھوں میں ڈولرناچ رہے تھے۔ اور عوام خوشی سے پاگلوں کی طرح ناچ رہے تھے افق پر پھیلتی اس تاریکی سے بے خبر جو ان کی قسمت پر اپنے پر پھیلا رہی تھی۔

حلف کے بعد پہلی تقریر
میرے عزیز ہموطنو ۔ آخر آپ نے مجھے پی ایم بنا ہی دیا ۔ اگر یہ کام آج سے پانچ سال پہلے کر دیا ہوتا تو میں کتنا کام کر چکا ہوتا ارے میں نے آپ سے ووٹ ہی تو مانگے تھے کوئی رشتہ تو نہیں مانگا تھا۔ خیر اب صورت حال یہ ہے کہ خزانہ ہمیشہ کی طرح خالی ہے یہ لومڑین نے جائزہ لے کر بتایا ہے۔ اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جائیں ۔ ہمیں نئے ٹیکس بھی لگانے پڑ رہے ہیں مگر بے فکر رہیں ان ٹیکسز سے عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا صرف خاص آدمی ان کا نشانہ ہونگے لومڑین نے بتایا ہے۔اب آپ لوگوں نے پچھلی حکومتوں کی اتنی زیادتیاں سہی ہیں تو کچھ ہمیں بھی کمانے مطلب کرنے دو۔ وغیرہ وغیرہ۔

عوام خوشی سے جھوم اٹھی کہ اسے خواص کا درجہ مل گیا وہ عال آدمی نہ رہے خاص بن گئے کیونکہ ٹیکسز کا اثر عوام پر نہیں پڑتا نا،خواص پر ہی پڑتا۔

چھ مہینے بعد
ایک شام ایک طیارہ دوسرے بڑے شہر کے ہوائی اڈے پر اترا جس میں سے سرد ملک سے آئے ہوئے پیر فرتوت اترے ان کے استقبال کو سیکڑوں لوگ ائر پورٹ پہنچے، پیر صاحب نے باہر نکل کر ان کو دییکھا اور ٹی وی کیمروں سے مخاطب ہوئے حسب معمول ان کی سرخ آنکحیں ابل رہی تھیں منہ سے کف اڑ رہا تھا ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارتے ہوئے دحاڑ کر بولے دیکھو عوام کی طاقت پاکستان کے بیس کروڑ لوگ میرے ساتھ ہیں دیکھو یہ لاکھوں کا مجمع میرے استقبال کو آیا ہے۔ اب ہم دارالحکومت جاکر اس کو بند کر دیں گے اس کرپٹ ٹولے کو حکومت نہیں چلانے دیں گے۔ یہ شیطان ہیں یہ فرعون ہیں۔صرف میں ہی ہوں جو آپ کو نجات دلوا سکتا ہوں۔

اور اسکے بعد کوئی آیا پھر کوئی اورآیا، نتیجہ جو انوسٹرز آ رہے تھے وہ تو بھاگے سو بھاگے ساتھ ہی وہ جو یہاں رہتے تھے پیسہ سمیٹ کر بھاگ گئے کہ جس ملک میں کوئی حکومت نہ ہو ہر کچھ عرصہ بعد ایک گروہ دارالحکومت کو گھیر کر حکومت پر قبضہ کر لے وہاں کون رہیگا۔
ذرا سوچیے:۔:
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tughral Farghan

Read More Articles by Tughral Farghan: 13 Articles with 7847 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Oct, 2016 Views: 624

Comments

آپ کی رائے