کیا ہندوستان میں دہشت گردی کی فیکٹریوں کی کمی!

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)
ہندوستان سے بڑا کیا دنیامیں کوئی اور دہشت گرد ملک ہے؟جس کی فوج کا قریباََ چوتھائی حصہ نہتے مظلوم کشمیریوں کی گذشتہ 70سالوں زندگیاں اُجیرن کئے ہوئے ہے اس دہشت گردیکو دینا کا کوئی ملک اور اقوامِ متحدہ بھیروکنے میں ناکام رہی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں گذشتہ 30سالوں سے ایسے لوگ آتے رہے ہیں جن کو اپنی نوکریوں کے علاوہ کسی اور بات کی فکر ہی نہیں رہی ہے۔بجائے اس کے کہ ہم ہندوستانی دہشت گردی کا ساری دنیا میں پردہ چاک کرتے الٹا ہندوستان ہم پر دہشت گردیوں کے الزامات لگانے میں تسلسل قائم رکھے ہواہے اور دنیا بھی اسی کی آواز میں آواز ملاتی رہی ہے۔ہماری بے رحمانہ خارجہ پا لیسی نے ہندوستانی جارحیت سے توجہ ہٹالی تو ہمیں بار بار بین الاقوامی جارحیت کا نشانہ بننا پڑتا رہا ہے۔ اس کے باوجود آج کے ہندوحکمران پاکستان سے نہ جانے کیوں خائف ہیں شائد اس کی بڑی وجہ ہندوستان میں چلنے والی بے شمار آزادی کی تحریکیں ہیں جو آج بھی چل رہی ہیں،جن کو ہم نے کبھی دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے۔ہمارا ماننا ہے کہ کشمیر ایک ایسا نقطہ ہے جس سے دنیا کی توجہ ہندوستان ہٹانا چاہتا ہے اور ہم بھی اس معاملے کو سیریس لینے سے اکثر گریزاں رہے ہیں۔پاکستان میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو ان کی قربانیوں کو فراموش کرناچاہتا ہو جہاں ہندوستانی فورسز کی کھلی دہشت گردی ساری دنیا کے سامنے جاری ہے۔ ہندوستان کے وزیرِ خارجہ راج ناتھ سنگھ جی اپنی اور اپنی حکومت کی جھینپ مٹانے کے لئے ہرزہ سرائی کے ہتھیار استعمال کرنے سے بھی نہیں چوک رہے ہیں موصوف کہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کی فیکٹریاں بند کرے، پاکستانی حکومت نے دہشت گردی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنا یا ہوا ہے۔راج ناتھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہندوستان پاکستانی عوام کے خلاف نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اگرہندوستان پاکستان کے لوگو کے خلاف نہیں ہے تو ہندوستان میں پاکستانی فنکاروں سے کس بات کا بدلہ لے رہا ہے؟ہندوستانیوکے کے قول و فعل کے تضاد نے ہی تو اسے دنیامیں ذلیل کیا ہوا ہے۔مگر اس ذلالت و خواری کے باوجود ہندوستان کی ڈھٹائی دیدنی ہے۔’’جو چاہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیا‘‘

مودی نے تو پاکستان کودنیا میں تنہا کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا ہوا ہے۔ مگر ہر مقام پر بے چارا اپنا سا منہ لے کررہ گیا اور دنیا میں کہیں بھی اس کی بڑ کو نا مانا گیا۔اسٹرٹیجک اسٹرائیک کا ڈرمہ کسی بھی ملک میں ہندوستان کو پذیرائی نہیں دلا سکا۔ایک جانب دہشت گردی کے الزام پر روس اور چین کے خلاف امریکہ کے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے برکس کانفرنس میں لشکرِطیبہ کو دہشت گرد قرارنہ دینے کے سوال پرکہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے ممالک ہیں جن کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنا چاہئے ۔لیکن بعض معاملات میں روس ایسا نہیں کرتا جیسا ہم چاہتے ہیں۔ہندوستان کی بد قسمتیہء ہے کہ اب تو مودی کی چاہت پر بھی روس نے ایسا نہ کیا جبکہ اس کا نیانیا حمئتی امریکہ ااس معاملے پر مودی کی آواز میں آواز تو ملا رہا ہے۔امریکہ کا چین کے حوالے سے کہاناہے کہ امریکہ دہشت گردی کے معاملے میں چین کے ساتھ مل کر کا م کر رہا ہے۔لیکن بعض معاملات میں ہمارے مفادات مشترکہ نہیں ہوتے ہیں۔ اس طرح برکس کانفرنس میں ہندوستان کو چینی صدر کی بے پناہ خوشامدوں کے باوجود لشکرِ طیبہ کو دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کرانے میں بری طرح سے نا کامی کا منہ دیکھنا پڑ گیا اور روس سے بھی ہندوستان کو مایوسی کے سوئے کچھ نہ ملا۔اس حوالے سے ہندوستانی میڈیا کا بھی کہنا ہے کہ چین سے زیادہ روس کی خاموشی نے زیادہ مایوس کیاجبکہ امریکہ نے نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کا محور قرار دینے کے بیان پرتبصرے سے گریز کیا۔وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان تو خودہشت گردی کا شکار ہے‘‘ہندوستانی میڈیا کے مطابق برکس اجلاس میں روس نے خاموش رہ کر ہندوستان کے بجائے پاکستان کا ساتھ دیا۔ جبکہ ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ برکس اجلاس میں روس نے پاکستان کے خلاف ہندوستانی موقف کو مسترد کردیاہے۔جس کی وجہ سے مودی حکومت خاصی پریشانی کا شکار ہے۔ دوسری جانب کانگریس ہی کیا حزبِاختلاف کیتمامہی جماعتیں مودی کی ناکامیوں پر ان کی حکومت کو دن رات ذلیل کر رہی ہے۔ دوسری جانب ہندوستان میں جو دہشت گردی کے کاخانے لگے ہیں اُن پر بھی ہندو حکومت ایک مرتبہ نظر کر لے ۔پاکستان پر امن ملک ہے یہاں کوئی دہشت گردی کی فیکٹری نہیں ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 121966 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Oct, 2016 Views: 441

Comments

آپ کی رائے