سردار مسعود خان ،راجہ فاروق حیدر اور جلتی قوم

(Junaid Ansari, )
حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی ؒ اپنی تصنیف حیات الصحابہ ؓ میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ کے پاس لوگوں نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور کہا کوئی دوسرا اس کے کھانے کا انتظام کرے تو یہ کھا تا ہے اور کوئی دوسرا اس کو سواری پر کجاوہ کس کر دے تو پھر یہ اُس پر سوار ہوتا ہے(یہ بہت سست ہے اپنے کام خود نہیں کر سکتا)حضورﷺ نے فرمایا تم اس کی غیبت کر رہے ہو اُن لوگوں نے کہا یا رسول اﷲ ﷺ ہم نے وہی بات کہی ہے جو اس میں موجود ہے حضورﷺ نے فرمایا غیبت ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ تم اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرو جو اُس میں موجود ہے ۔

قارئین ہم حیران ہیں کہ دل کو روئیں یا جگر کو پیٹیں ۔جموں کشمیر اور پاکستان میں سچ کے نام پر جھوٹ ،تجارت کے نام پر ملاوٹ ،رہبری کے نام پر رہزنی ،دیانت کے نام پر دھوکہ اور خدمت کے نام پر عوام کی مرمت اس انداز میں کی جا رہی ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ قرار داد مقاصد کس چڑیا کا نام ہے ،نظریہ پاکستان کیا تھااور فریب اور دھوکے کا کام کس کے ساتھ کر رہے ہیں وطن آزاد کرواتے ہوئے ہم نے رب کائنات سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ایک ایسی دھرتی پراﷲ کا نظام ،پیارے رسولﷺ کا فرمان عملی صورت میں نافذ کریں گے جو اﷲ ہمیں عطا کر ے گا ۔اﷲ نے ہمیں لا کھوں شہیدوں کے مقدس خون کی برکت سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت عطا کر دی اب یہ سلطنت سات عشروں سے اُس فلاحی نظام کو ترس رہی ہے جسے حضرت عمر فاروق ؓ نے عملی صورت میں نافذ کر کے ایسی مثال قائم کی تھی کہ آج بھی برطانیہ اور کنیڈا سمیت دیگر ترقی یافتہ معاشرے عمر کا قانون کہہ کر اُس پر عمل کر رہے ہیں
گذشتہ دو کالمز میں ہم نے دو سلگتے ہوئے مسائل کی طرف آپ احباب کی وساطت سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی توجہ مبذول کروائی تھی آزاد کشمیر کے میڈیکل کالجز اور صاحب ثروت و صاحب دل حاجی محمد سلیم کے قائم کردہ امراض قلب کے ادارے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میرپور کے مسائل کے حوالہ سے لکھے گئے ان کالموں کو پوری دنیا میں اہل وطن نے پڑھا اور لاکھوں لوگوں نے اس پر اپنی رائے دی گذشتہ شب ممبر قانون ساز اسمبلی میرپور چوہدری محمد سعید نے ہم سے گلہ کیا کہ آخر کیوں ہم قلم کو تیر کمان اور تلوار بنا کر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان اور آزاد کشمیر کی نئی مسلم لیگی حکومت کے پیچھے پڑ گئے ہیں اس پر ہم نے انتہائی ادب کیساتھ اُن سے گذارش کی کہ بڑے صاحب ہم آپ کے آپ کی حکومت کے اور آپ کے بڑے صاحب کے نہ تو مخالف ہیں اور نہ ہی ہم نے آپ کے مخالفین سے کسی قسم کی ’’ سپاری ‘‘ پکڑ رکھی ہے کہ آپ کے خلاف کوئی بات کی جائے قلم اور مائیک کا استعمال ہم ایک امانت سمجھ کر کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ لکھی اور بولی گئی باتیں اس دنیا میں قابل مواخذہ ہوں یا نہ ہوں اﷲ پاک کے حضور ان تمام باتوں کا حساب دینا پڑیگا رہی بات کالم لکھنے کی تو ہم راجہ فاروق حیدر خان کے مداح بھی ہیں اور یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ راجہ حیدر خان مرحوم کا یہ فرزند کشمیری قوم کی عزت پر کوئی کمپرو مائز بھی نہیں کر سکتا اور موجودہ دستیاب سیاستدانوں میں بہادر اور جری ترین انسان کا نام راجہ فاروق حیدر خان ہے ہم نے ایک مخلص اور نیاز مند دوست کی حیثیت سے اُ ن کی توجہ ان معاملات کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی ہے جن پر اگر سنجیدہ انداز میں توجہ نہ دی گئی تو نئی حکومت بدنام بھی ہو گی اور کشمیری قوم کا بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس پر چوہدری سعید نے ہمیں بتایا کہ سابقہ حکومت نے دستیاب وسائل اور دستیاب چادر کو پھاڑتے ہوئے میڈیکل کالجز اور دیگر ترقیاتی پراجیکٹس شروع کیے جن کی کوئی بھی مالیاتی منصوبہ بندی نہ تھی اور اب ان تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جلد ہی یہ مسئلے حل کر دیے جائیں گے ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر نیت نیک ہو ،ارادے مضبوط ہوں ،عقل و دل سلامت ہوں اور انسان منزل کی جانب چلنا شروع کر دے تو چیونٹی کی رفتار سے بھی چلتے ہوئے بڑے بڑے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کی جا سکتی ہیں راجہ فاروق حید رخان سے ہماری دوستی اور نیاز مندی بغیر کسی غرض کے ہے اور بغیر کسی توقع کے ہے ہاں ایک خواہش ضرور ہے کہ دور اپوزیشن شپ میں جس دلیر انسان کو ہم نے دریافت کیا اس کی دلیری زندہ و سلامت رہے آمین
بقول چچا غالب ہم یہ کہتے چلیں
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا ؟
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا؟
کہاں تک اے سراپا ناز ،کیا ،کیا
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگی کا گلا کیا؟
نگاہِ بے محابہ چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا؟
نفس ،موج ِ محیطِ بے خودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا؟
دل ہر قطرہ ،ہے ساز اناالبحر
ہم اُس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا؟
بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا ؟

قارئین اس مختصر کالم میں دوسری بات ہم صدر آزاد کشمیر سردار محمد مسعود خان المعروف محمد مسعود عبداﷲ کے متعلق کرتے چلیں ہم نے آزاد کشمیر کے پہلے اور سب سے بڑے ٹیلی ویثرن نیٹ ورک جے کے نیوز ٹی وی کیلئے ان کا ایک خصوصی پروفائل انٹرویو کچھ عرصہ قبل کیا تھا شرارتی اور نوکیلے سوالوں کا جس سنجیدگی اور بردباری کیساتھ سامنا کرتے ہوئے انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حل ،بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی حیثیت ،برادر ملک چین کیساتھ دوستی اور امریکہ جیسے ہرجائی دوست کے متعلق ایسے مدلل جوابات دیے کہ ہم عش عش کر اُٹھے ٹیلی فون پر ہمارا اُن سے لگاتار رابطہ رہتا ہے اور انھوں نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے کہ بہت جلد میرپور آ کر وہ ہمیں جے کے نیوز ٹی وی اور ریڈیو پاکستان ریڈیو آزاد کشمیر ایف ایم 101میرپور کیلئے بھرپور انٹرویوز دینگے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے جس انداز میں انتہائی قلیل وقت میں اپنے تجربے اور سفارتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو متحرک کیا ہے اس پر ہم سمیت پوری کشمیری قوم انکی معترف ہو چکی ہے سردار مسعود خان اس وقت تحریکی ذمہ داریوں کے علاوہ آزاد کشمیر یونیورسٹی،میرپوریونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ،خواتین یونیورسٹی باغ،کوٹلی یونیورسٹی اور تنازعے میں پڑی ہوئی ایم بی بی ایس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میرپور کے چانسلر بھی ہیں ہمیں اُمید ہے کہ وفاقی حکومت سے اچھے تعلقات اور اپنی کریڈبیلٹی کی بدولت وہ 20ارب روپے کے مالیاتی خسارے پر قابو پاتے ہوئے ہیلتھ یونیورسٹی کا مسئلہ بھی حل کر دینگے۔

آخر میں حسب روایت لطیفہ پیش خدمت ہے
دو عقاب فضا میں بلند پرواز کر رہے تھے قریب سے اچانک ایک جٹ طیارہ شعلے اور دھواں چھوڑتا تیزی سے گزرا
ایک عقاب کہنے لگا
’’ کیسا عجیب پرندہ تھا یہ اتنی تیزی سے کیسے اُڑ رہا تھا‘‘
دوسرے عقاب نے سنجیدگی سے جواب دیا
’’ اگر تمہاری دُم میں آگ لگی ہو تو تم بھی اتنی ہی تیزی سے اُڑو گے‘‘

قارئین اس وقت پوری قوم جل رہی ہے اور ایسے رہبروں کی ضرورت ہے جو خلوص کیساتھ دست مسیحائی کیساتھ کام کریں ہمیں نئی حکومت سے اچھی امیدیں ہیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Junaid Ansari

Read More Articles by Junaid Ansari: 425 Articles with 211726 views »
Belong to Mirpur AJ&K
Anchor @ JK News TV & FM 93 Radio AJ&K
.. View More
21 Oct, 2016 Views: 478

Comments

آپ کی رائے