برہان وانی شہید کے جاں نشین

(Ghulam Ullah Kiyani, )
برہان وانی کی شہادت کو 103دن گزر چکے ہیں۔ اگر چہ برہان وانی کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا۔ تا ہم وہ اس وقت وادی کے نوجوانوں میں شہرت پانے لگے جب انہوں نے اپنی چند دوستوں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ چند نوجوان کمانڈوز وردی پہن کر ہاتھوں میں کلانشنکوف تھامے ہر جگہ موضوع بحث بن رہے تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کا چہرے سے نقاب اتار کر اپنی شناخت دنیا پر ظاہر کر دینا تھا۔ ان سب کا تعلق وادی سے تھا۔ یہ سب تعلیم یافتہ نو عمر مجاہدین تھے۔ اپنے علاقوں میں سب ان کے شناسا تھے۔ سوشل میڈیا نے انہیں سب سے متاعرف کر دیا۔ کبھی یہ وادی کے ایک علاقے میں اور کبھی دوسرے میں بھارتی فوج پر حملے کرتے اور اگلی منزل کی طرف نکل جاتے۔ انھوں نے شروع ایا م سے ہی گوریلا جنگ جے پہلے اور بنیادی اصول کو مسترد کر دیا۔ ان سے پہلے یہی ہوتا رہا تھا کہ چند نوجوان نقاب پہنے ، کلانشکوف تھامے کسی جگہ اچانک نمودار ہو کر بھارتی فورسز پر حملے کرنے کے بعد غائب ہو جاتے۔ کوئی ان کی شناخت نہ جان سکتا۔ یہ نقاب پوش رہتے۔ اس لئے بھارتی ایجنٹوں کی نظروں سے یہ سب اوجھل رہتے۔ مگر برہان وانی نے یہ روایت یکسر بدل ڈالی۔ انہوں نے کشمیر کے نوجوانوں کو نیا راستہ دکھا دیا۔ نوجوان ان کے قریب آنے لگے۔ ان کی ویڈیوز اور صوتی پیغامات بھی عام ہونے لگے۔ یہ سلسلہ برہان وانی کی شہادت تک جاری رہا۔

برہان وانی کے بعد ذاکر رشید ان کے جاں نشین بنے ہیں۔ ان کا طریقہ کار بھی یہی ہے۔ یہ نو عمر تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ ان کے ایک تازہ پیغام نے بھارتی فورسز کو شدید خوفزدہ کر دیا ہے۔ اس میں کشمیر کے نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارتی فورسز سے اسلحہ چھین کر مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو جائیں۔ یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کشمیریوں نوجوانوں نے بھارتی فورسز سے کلانشنکوفیں چھننے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بھارتی فورسز سے سیکڑوں کی تعداد میں کلانشکوفیں اور دیگر ہتھیار چھین لئے گئے ہیں۔ کئی پولیس تھانوں پر عوام نے حملے کئے۔ اس دوران بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اڑا لیا گیا۔ فورسز نے اس کی تلاش کے لئے وادی بھر میں پے در پے چھاپے مارے لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہ آسکا۔ اب فورسز سے ہتھیار چھین لینے کے بیان سے بھارتی فورسز خوفزدہ ہوں گے۔ یہ ان پر نفسیاتی دباؤ ہے۔

بھارتی فورسز نے گزشتہ تین ماہ کے دوران کرفیو اور سخت پابندیوں کی وجہ سے عوام کا جینا حرام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن انہں ناکامی ہوئی۔ عوام نے کرفیو توڑ کر بھارت کے خلاف مظاہرے جاری رکھے۔ وادی کی اقتصادی ناکہ بندی بھی کی گئی۔ عوام کی معاشی حالت تباہ کرنے کی بھی کوشش ہوئی۔ مگر اس بار تازہ مزاحمت کے آگے بھارت کی ساری مشینری ڈھیر ہو گئی۔ ریاستی دہشت گردی، پیلٹ فائرنگ، سیکروں بچوں، خواتین، بزرگوں کو آنکھوں سے محروم کیا گیا۔ ہزاروں افراد جیلوں میں ڈال دیئے گئے۔ حریت قائدین کو نظر بند اور جیلوں میں بھر دیا گیا۔ پھر بھی مزاحمت جاری ہے۔ اس کے بعدبھارتی فورسز نے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کی۔ املاک کو تباہ ہی نہیں کیا جانے لگا بلکہ اسے لوٹا بھی گیا۔ اشیائے خوراک کو تباہ کیا گیا۔ گھروں میں غلہ کے ذخائر میں مٹہ، ریت ڈال کر اسے تلف کیا گیا۔ کھیتوں اور کھلیانوں کو آگ لگا دی گئی۔ کھڑی فصلو اور چاول کے کٹے ہوئے ذخائر کو بھی آگ لگائی گئی۔ مگر پھر بھی بھارتی فورسز تحریک مزاحمت پر قابو پانے یا اسے طاقت اور مختلف حربوں سے کچلنے میں بری طرح ناکام ہو گئے۔ پھر نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کی باری آئی۔ آج بھارتی حکومت اپنی پارلیمنٹ کے سامنے سرجیکل سٹرایئکس کوثابت نہیں کر سکی ہے۔ بی جے پی حکومت اپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہیں دے پا رہی ہے۔

برہان وانی شہید کو بھارت نے دہشت گرد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ مگر جب وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں برہان وانی کو کشمیریوں کی جدو جہد کی علامت قرار دیا۔ بھارت کا پروپگنڈہ ناکام ہو گیا۔ دنیا کو پتہ چل گیا کہ برہان وانی کوئی در انداز یا پاکستان کا بھیجا ہوا کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ کشمیری کم عمر نوجوان ہے جس نے بھارتی فورسز کی دہشت گردی سے تنگ آ کر قلم کی جگہ ہاتھوں میں بندوق اٹھا لی۔ ان کے ایک بھائی کو بھارتی فوج نے صرف اس وجہ سے شہید کر دیا کہ وہ برہا ن وانی کا بھائی تھا۔ پاکستان کو دنیا سے سفارتی طور پر الگ کرنے کی بھارتی کوشش کی ناکامی کا اعتراف خود بھارتی کر رہے ہیں۔ دنیا جان رہی ہے کہ کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ اسی کے لئے وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارت اس جدوجہد کو بندوق اور طاقت سے کچلنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ ریاستی دہشت گردی کے تمام حربے آزما رہا ہے۔ مگر برہان وانی کا پیغام کشمیر کا ہر فرد اہم سمجھتا ہے۔ اب ذاکر رشید میدان میں ہیں۔ کشمیر کا ہر فرد برہان وانی اور ذاکر رشید بن رہا ہے۔ جن کا اعلان ہے کہ وہ سکھ بھی بھارت کے خلاف بندوق اٹھا رہے ہیں۔ وہ بھی مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اسلحہ کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ بھارتی فورسز سے اسلحہ چھین کر ان کی ریاستی دہشت گردی کا جواب دیا جائے۔ بھارت کشمیر میں خون خرابے اور تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔ بھارتخطے کا امن ہی تباہ نہیں کر رہا بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بھی بھارت مذاق اڑا رہا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 578 Articles with 222248 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
21 Oct, 2016 Views: 347

Comments

آپ کی رائے