غزوہ ہند یہ نہیں ہے

(Muhammad Abdul Munem, )
کچھ لوگ غلطی سے اور کچھ لوگ اپنی نام نہاد جہادی تنظیموں کی تشہیر کے لیے غزوہ ہند کا سہارہ لیے ہوئے ہیں حالانکہ غزوہ ہند وہ جنگ ہے جو حضرت امام مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانے میں لڑی جائے گی اور وہ زمانہ ابھی بہت دور ہے کیونکہ ابھی اس دور سے پہلے کی کچھ علامات پوری ہونا باقی ہیں جیسا کہ کسی اسلامی ریاست کا باقی نہ رہنا اور اسلام کا صرف حرمین شریفین تک محدود ہوکر رہ جانا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے یقیناً اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا جس طرح کہ ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی حتیٰ کہ ایمان صرف مدینہ میں رہ جائے گا۔اب آئیے ذرا غزوہ ہند کو سمجھنے کی کوشش کرتےہیں ۔پہلے غزوہ ہند کی چند احادیث پڑھ لیں :-
مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے جگری دوست رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے بیان کیا کہ اس امت میں سندھ و ہند کی طرف لشکروں کی روانگی ہو گی۔ اگر مجھے کسی ایسی مہم میں شرکت کا موقع ملا اور میں شہید ہو گیا تو ٹھیک، اگر (غازی بن کر) واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابو ھریرہ ہوں گا جسے اللہ تعالٰی نے جہنم سے آزاد کر دیا ہو گا

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمان ہندوستان میں جہاد کریں گے، اگر وہ جہاد میری موجودگی میں ہوا تو میں اپنی جان اور مال اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قربان کروں گا۔ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں سب سے افضل ترین شہداء میں سے ہوں گا۔ اگر میں زندہ رہا تو میں وہ ابو ہرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہوں گا جو عذاب جہنم سے آزاد کر دیا گیا ہے‘‘۔
نسائي، السنن، 3: 28، رقم: 4382، دار الکتب العلمية بيروت
بيهقي، السنن الکبری، 9: 176، رقم: 18380، مکتبة دار الباز مکة المکرمة

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے، سے روایت ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہوں کو اﷲ تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے بچائے گا ان میں سے ایک ہندوستان میں جہاد کرے گا اور دوسرا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا‘‘۔
احمد بن حنبل، المسند، 5: 278، رقم: 22449
نسائي، السنن، 3: 28، رقم: 4384

''حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺنے ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:'یقینا' تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا اور اللہ ان مجاہدین کوفتح دے گا حتیٰ کہ وہ سندھ کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ پھر جب وہ واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم کو شام میں پائیں گے

حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ''بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین ہندکو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پرقبضہ کرلیں گے، پھر وہ بادشاہ ان خزانوں کوبیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لئے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں(حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کرے گا۔ اس کے مجاہدین، بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کرلیں گے اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔''

ان سب روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ لشکر اسلامی یہ جنگ ہندوستان سے لڑے گا جس میں سندھ کا علاقہ بھی شامل ہو گا جب کہ آج کل تو سندھ پاکستان کا حصہ ہے بلکہ دورِ نبوی میں سندھ کا علاقہ تقریباَ آج کا پورا پاکستان ہی بنتا ہے تو آج کی جنگ یہ غزوہ کیسے کہلا سکتی ہے۔ اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں پر فتح پانے کے بعد شام کی طرف پلٹے گا تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو پائے گا یعنی یہ غزوہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی آمد سے کچھ عرصہ پہلے لڑا جائے گا جبکہ ابھی ان کا زمانہ بہت دور ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ابھی کچھ نشانیاں باقی ہیں جو کہ اس زمانے سے پہلے وقوع پذیر ہو چکی ہوں گی جیسا کہ کسی اسلامی ریاست کا باقی نہ رہنا اور اسلام کا صرف حرمین شریفین تک محدود ہونا۔

یہ صحیح ہے کہ صوفیا نے ایک پاک بھارت جنگ اور پھر تیسری عالمی جنگ کی پیش کوئیاں کی ہیں۔ ہندوستان سے اس جنگ کے بعد فتح یاب ہونا اور پھر سارے ہندوستان کا پاکستان بن جانا سب صوفیا کی پیش گوئیوں میں ہے لیکن آج کی متوقع جنگ کو غزوہ ہند سے تعبیر کرنا صحیح نہیں ہے۔ اب یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ زمانہ کب آئے حضرت شیخ احمد سرہندی مجدّد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے آج سے تقریباَ چارسو سال پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ ہزار سال بعد حضرت امام مہدی ظہور فرمائیں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Munem

Read More Articles by Muhammad Abdul Munem: 20 Articles with 11712 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Oct, 2016 Views: 869

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ