اور تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے

(Shumaila, Lahore)
اللہ فرماتا ہے" میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے " تو پھر اس فانی انسان میں غرور کیسا اور ناشکری کیوں ؟؟؟
علی بیٹا ٹی وی بند کر دو جمعے کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔امی نرمی سے علی سے مخاطب ہوئیں علی نے ناگواری سے ٹی وی بند کیا اور بولا اللہ کون سی ہماری سنتا ہے وہی دال روٹی...ہونہ ! امی اداسی سے بولیں ایسے نہیں کہتے بیٹا اپنے زور بازو سے محنت کرو اللہ پہ بہروسہ رکھو زندگی بڑی نعمت ہے لیکن علی بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گیا امی افسردگی سے اسے جاتا دیکھتی رہی علی بادل نخواستہ مسجد کی طرف چل پڑا دل میں اللہ سے ہزار شکوے تھے کہ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی اس کے آگے سڑک پار کرتے ہوئے نوجوان کو کچل گئی علی بال بال بچا تھا وہاں لوگوں کا ایک ہجوم لگ گیا کسی نے علی کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا بیٹا اللہ کا شکر ادا کرو آپ بچ گئے علی حواس باختہ اس لڑکے کی لاش کو لے جاتے دیکھ رہا تھا۔اس کی جگہ میں ہوتا تو۔۔؟ اس احساس سے ہی اسے جھرجھری آگئی سامنے ہی مسجد سے خطبے کی آواز آ رہی تھی" اور تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے" علی کے قدم مسجد کی طرف اٹھتے گئے آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے اسے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی تھی اور اپنے رب کی نعمتوں کا سجدہء شکر بجا لانا تھا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shumaila

Read More Articles by Shumaila: 2 Articles with 4997 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Oct, 2016 Views: 4062

Comments

آپ کی رائے
Excellent Miss accha likha app nay mola app ki hifazat karain be Hukam e Khuda.
By: Shahid raza, Karachi on Nov, 11 2016
Reply Reply
0 Like
آپ کا لکھا پڑھا .... کیا کہوں زندگی کی سانسیں کم ہیں مالک کی عطا پر شکر کرنے کے لئے
اس کی عطا کا شمار کرنے کے لئے
اس کی نعمتیں بے شمار ہیں .... اس کی رحمتیں بے شمار ہیں
آنکھ سے پڑھا ... دل میں اترتا پایا
روح میں مسرت کا قیام محسوس کیا
لب پر دعائوں کا قافلہ پایا آپ کے واسطے

اللہ آباد و بے مثال رکھے آپ کو .. آمین صد آمین
اللہ پاک دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے آپ کو ... آمین صد آمین

لکھتی رہیں .. .شاد و آباد رہیں
By: Seen Noon Makhmoor (س ن مخمور), Karachi on Oct, 24 2016
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ