بیس کیمپ کا یوم تاسیس

(Ghulam Ullah Kiyani, )
24اکتوبرآزادکشمیر اور اقوام متحدہ کایوم تاسیس ہے۔ 1947ء کواسی د ن کشمیریوں نے ڈوگرہ شاہی سے بغاوت کے بعدآزاد کرائے گئے13ہزار297مربع کلو میٹر علاقے پرپہلی انقلابی حکومت قائم کی۔ عبوری حکومت نے اپنے پہلے اعلانیہ میں کہا کہ یہ حکومت اس امر کا انتظام کرے گی کہ یہاں غیر جانبدار مبصرین آئیں، جن کی نگرانی میں پورے جموں و کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے۔آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان نے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے ایسے بیس کیمپ کا کردار ادا کرنا تھا۔جو ہر وقت تحریک کے لئے پیش قدمی جاری رکھتا۔

آزاد کشمیر آبادی کے لحاظ سے ضلع راوالپنڈی سے بھی چھوٹا ہے۔راولپنڈی کی آبادی 44لاکھ جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی 34لاکھ ہے۔اس میں سے بھی 10لاکھ سے زیادہ لوگ بیرون ملک ہیں۔ضلع راولپنڈی سے آزاد کشمیر کا بجٹ پانچ سو گنا زیادہ ہے۔راولپنڈی کو ایک ڈی سی او(ڈی سی) چلاتا ہے ۔آزاد کشمیر میں صدر ،وزیر اعظم،ایک محکمے پر کئی وزیر، مشیربیٹھتے ہیں۔سیکریٹریوں،کمشنروں اور افسران کی فوج موجود ہے۔جو کشادہ دفتر وں اور بڑی گاڑیوں کے چکر میں رہتی ہے۔ان مراعات میں اضافے کے لئے سمریاں تیار کی جاتی ہیں۔2005ء کے زلزلہ میں بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہوئیں تو حکمران اور افسران ملبہ صاف کرنے کے بہانے کروڑوں روپے ہڑپ کر گئے۔ بعد ازاں تعمیر نو کے 55ارب روپے منتقل کر لئے گئے۔

زلزلہ میں مظفر آباد، نیلم، ہٹیاں بالا، باغ، راولاکوٹ اضلاع میں بہت نقصان ہوا۔ اس وجہ سے ریاستی کواپریٹو بینک کے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کر دیئے گئے ۔ یہ بینک دیوالیہ ہو گیا۔ بدقسمتی سے زلزلہ کے 11سال بعد رواں سال 6جون کو جب الیکشن شیڈول کا اعلان ہوا تواس کے دو ہفتہ بعد ہی20جون کو آزاد کشمیر کے سکریٹری مالیات نے ایک دلچسپ سمری منظور کرا لی۔انہوں نے کسی مماثلت کے بغیر ہی متاثرہ اضلاع کی طرز پر میر پور ، کوٹلی اور بھمبر کے قرضے بھی معاف کرا دیئے۔ خزانے کو مزید کروڑوں روپے کا نقصان سکریٹری صاحب نے اپنے نام سے کوٹلی میں اپنی تین سوسائٹیوں کے لاکھوں روپے کے قرضے بھی معاف کرا کر کیا۔ جب کہ اس وقت چیف سیکریٹری صاحب نے سکریٹری مالیات کی سمری کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ فیصلہ عوام کے مفاد میں نہیں ہو گا۔لیکن ریویوکے بجائے سمری منظور ہو گئی۔ مقامی بیوروکریٹس کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے لینٹ افسران کا جواز درست قرار دیا جاتا ہے۔

عام انسان کی حالت نہیں بدل سکی ہے۔زرخیز زمین دستیاب ہونے کے باوجود اناج،سبزیاں اور پھل باہر سے درآمد ہوتے ہیں۔یہ خطہ آبی وسائل سے مالا مال ہے لیکن آبپاشی کے زرائع موجود نہیں۔ آزاد کشمیر کا زیر کاشت رقبہ صرف 13فی صد ہے جو ایک لاکھ 71ہزار ہیکٹر بنتا ہے۔حکوت تسلیم کر رہی ہے کہ زرعی زمین کا ایک بڑا رقبہ زیر کاشت نہیں لایا گیاہے ۔راولاکوٹ اور اس کے ملحقہ دیگر علاقوں میں سفیدے کے درخت زمین کو بنجر بنا رہے ہیں۔ لیکن متعلقہ محکمہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ ایک زرخیز ترین علاقہ بنجر بن چکا ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے حکمرانوں کی ترجیحات بدل گئیں۔وہ پورے مکان کے بجائے ایک کمرے کی ملکیت پر ہی خوش ہونے لگے، اور حکمرانی مدہوش ہو گئے۔آج200سے زیادہ یونین کونسلو ں اور تقریباً 1700دیہات پر مشتمل آزاد ریاست میں اقتدار اور مراعات کی جنگ جاری ہے۔ بجٹ کا خسارہ بڑھ گیا ہے ۔کشمیر کونسل ادائیگی کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں۔آزاد کشمیر کو کشمیر کونسل کی جانب سے ٹیکسوں کی وصول کردہ رقم کا80فی صد ملتا ہے۔ماہانہ تقریباً 40کروڑ روپے اسی مد میں آمدن ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان کے ذمہ اربوں روپے واجب الادا ہیں۔یہ وہ رقم ہے جو فیڈرل ٹیکسوں کی مد میں آبادی کی بنیاد پر آزاد کشمیر کو 3.5فی صد کے حساب سے دی جاتی ہے۔رائلٹی کے بجائے واٹریوز چارجزکی مد میں واپڈا کے ذمہ بھی رق واجب الادا رہتی ہے۔آزاد کشمیر میں موبائل ٹاورز لگانے کے سلسلے میں کشمیر کونسل نے موبائل کمپنیوں سے 40ملین ڈالر سیکورٹی فیس وصول کی ہے ۔یہ رقم کونسل کے اکاؤنٹ میں جمع ہے۔اس میں سے بھی آزاد کشمیر کو ادائیگی نہیں کی گئی ۔اس کے علاوہ ایک سال کا مارک اپ6فی صد کے حساب سے 6.1ملین ڈالر ہے۔کشمیر کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو آزاد کشمیر کے عبوری آئین کی دفعہ 21کے تحت قائم کیا گیا ہے۔چونکہ وزیر اعظم پاکستان کشمیر کونسل کے چیئر مین اور صدر آزاد کشمیر وائس چیئر مین ہوتے ہیں اس لئے کونسل کو آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان روابط اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لئے ایک پل کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کے وزراء خارجہ،داخلہ ،امور کشمیر،تعلیم اور اطلاعات و نشریات کو 14رکنی کشمیرکونسل میں رکنیت دی گئی ہے۔ کشمیر کے معاملات اور مسلہ کشمیر کے سلسلے میں بھی یہ ادارہ غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔21ارب روپے کشمیر کونسل کی آمدن،منگلا ڈیم واٹر یز چارجز اور فیڈرل ٹیکسوں سے حاصل ہوتے ہیں۔پاکستان حکومت تقریباًً 10ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے دیتی ہے۔1947ء سے1950ء تک آزاد کشمیر کا بجٹ جنگلات کی آمدن کا مرہون منت تھا ۔1947ء میں وادی نیلم کے جنگلات کی آمدن 49لاکھ روپے جبکہ کل بجٹ 48لاکھ روپے تھا ۔ایک لاکھ روپے سر پلس تھے۔آج جنگلات کی آمدن 25کروڑ روپے سالانہ کے قریب ہے۔آزاد کشمیرکی زراعت ،جنگلات،سیاحت ،فلوری کلچر کے حوالے سے اہمیت ہے ۔بل کھاتی ندیاں،جہلم ،نیلم اور پونچھ جیسے دریا نہ صرف خطے کی حسن کو مالا مال کرتے ہیں، بلکہ یہ انمول آبی وسیلہ ہیں ۔ان پرہزار وں میگا واٹ تک پن بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ لائم سٹون کے بڑے سلسلے بھی موجود ہیں۔وادی نیلم میں روبی کے پہاڑ ہیں۔ان قدرتی وسائل کا استعمال کیا جائے تو یہ سرزمین سونا اگل سکتی ہے۔ریاست میں سونے ، تانبے ، دیگر قیمتی معدنیات کے ذخائر ہیں۔ ان کا پتہ بھی لگایا گیا ہے ۔ عوام سست اور کام چورنہ ہوں تو وہ اپنی دھرتی کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کھیت لہلہا سکتے ہیں۔پالتو جانوروں کی افزائش ،ڈیری فارمنگ،فش فارمنگ سے معیشت میں انقلاب آسکتا ہے۔لیکن قیمتی روبی اور دیگر خزانہ کی چوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔الزامات عائد ہو رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کے لاکھوں لوگ سمندر پر رہائش پذیر ہیں۔لیکن یہاں کی برادری ازم،علاقہ اور فرقہ پرستی کی سیاست بیرون ممالک بھی متعارف کرائی گئی ہے۔سمند رپار کشمیری اپنے مادر وطن کے لئے کوئی مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہو جاتے ہیں ۔دنیا میں تعارف ایک منتشر قوم کے طور پر ہو رہا ہے۔جس سے سفارتی خدمت کے بجائے بدنامی اورکشمیر کاز کو نقصان پہنچتا ہے۔آزاد کشمیرحکومت کی حثییت مسلہکشمیر کے حل تک عبوری ہے۔اس کا آئین بھی عبوری ہے۔ اس کا اصلی کام پورے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ حکمران عوام کے خلوص کا جواب خلوص سے دیں اور اقتدار واختیار کی جنگ کے ببجائے آزادی کی جنگ کی جانب توجہ دیں تو آزاد کشمیر میں ترقی ہو سکتی ہے اور تحریک آزادی میں اس خطے کے کردار کی اہمیت بھی بڑھ سکتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 231451 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
25 Oct, 2016 Views: 272

Comments

آپ کی رائے