کوئٹہ پھر لہولہو ،عملی اقدام کب ہوں گے؟

(Ghulam Abbas SIddiqui, Lahore)
کوئٹہ خود کش حملے نے ایک بار پھر قوم کو غم سے نڈھال کردیا ہے ،شہدا ء کی تعداد60 سے تجاوز کر گئی ہے شہداء میں ایک سپاہی روح اﷲ بھی شامل ہے جس کی شادی جنوری کو ہونا قرار پائی تھی،روح اﷲ کی منگیتر کے سب خوب بکھر گئے ،اسی طرح ہر شہید ہونے والے اہلکار کے گھر والوں کو خواب تھے جو چکناچور ہو گئے (شہادت ایک نعمت ہے جس پر سب مسلمانوں کو فخر ہے ہر مسلمان کی تمنا شہادت کی موت ہے یہاں جو بیان کیا جا رہا ہے وہ جدائی کا غم ہے نہ کہ شہادت پر افسوس ۔۔۔شہادت کے عظیم جذبے نے ہی ہزاروں مسلمانوں کو شہادت کی راہ پر چلتے ہوئے پاکستان کا دفاع کرنے والوں کی صف میں کھڑا کیا اور اب بھی ہر پاکستانی دفاع وطن کیلئے شہادت کی تمنا دل میں بسائے بیٹھا ہے )۔جبکہ زخمیوں کی تعداد 122 کے قریب ہے۔پولیس کوئٹہ ٹریننگ کالج میں اسوقت خود کش حملہ ہوا جب سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی ٹریننگ جاری تھی ۔چشم دید اہلکار کے مطابق حملہ آور وں نے ہمیں دیکھتے ہی فائر کھول دئیے تھے ،کالج میں تمام اہلکار غیر مسلح تھے حملہ کے بعد سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے میڈیا ذررائع کے مطابق کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر کاروائی عمل میں لائی جائے گی،سرکاری ذرائع کے مطابق یہ حملہ کالعدم لشکر جھنگوی نے کیا جبکہ داعش کا کہنا ہے کہ حملہ آور ہمارے لوگ تھے (یہ تضاد بھی قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے)۔اس حملے کے بعد قومی قیادت کی طرف سے مذمتی بیانات سامنے آئے ہیں جو بہت کچھ کہہ رہے ہیں ۔وزیر داخلہ چودھری نثار کا کہنا ہے کہ لوگ لاشیں اٹھا اٹھا کر تنگ آگئے ہیں ،دہشت گرد پہلے پاکستان ا ور اب سرحد پار سے آپریٹ ہوتے ہیں ،کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دشمن کی یہ کاروائیاں بزدلانہ ہیں ،مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ تحقیق کے بغیر ہی حملے کی ذمہ داری کسی بھی گروہ کے سر تھوپ دی جاتی ہے ،بد قسمتی سے نام نہاد مذہبی گروہ یا جماعت کے نام پر کوئی کاروائی کر لیتا ہے جبکہ کوئی تحقیق نہیں ہوتی کہ کس نے نامعلوم فون کیا اور کس نے دعویٰ کیا اس طرح اصلی دشمن اور مجرم چھپ جاتے ہیں مولانا کے بیان پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے مولانا کے بیان میں سچائی نظر آ رہی ہے کیونکہ اگر قبول کرنے والے غیر معروف چند ایک گروہ ہی ہیں جو اسلام اور پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں تو ان کے خلاف کتنی کاروائی ہوئی ؟اگرموثر کاروائی ہوتی تو حملے رک جاتے ایسے لگتا ہے کہ مزید تحقیق کے بعد عملی اقدام کرنے ی ضرورت ہے ۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی ؒ کی تنظیم تحریک عظمت اسلام کے قائدین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ خود کش حملہ فساد فی الارض کی کھلی نشانی ہے جو انسان ساختہ موجودہ غیر اسلامی نظام کا شاخسانہ ہے ،پاکستان میں امن قائم کرنے کیلئے قرآن وسنت کو سپریم لاء عملی طور پر تسلیم کرنے کیلئے اﷲ کا نظام خلافت قائم کرنا ہوگا ،انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کے قتل عام کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا ، اس شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ بے گناہ انسانوں کا قتل عام انسان انسانوں کو اپنا غلام بنانے کیلئے کر رہے ہیں اﷲ کے بندے صرف اﷲ کے غلام ہوتے ہیں انسانیت کو بے گناہ قتل ہونے سے بچانے کیلئے اسلام کی طرف رجوع کرنا ہوگاانہوں نے کہا کہ بے گناہ انسانوں کت قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہیں غم کے موقعہ پر قوم کے ساتھ ہیں ،نام نہا د دہشت گردی سے چھٹکارا پانے کیلئے قوم کو اسلامی نظام قائم کرنا ہوگا۔یہ منظر نامہ پاکستان کی بڑی اور چھوٹی چیدہ چیدہ تنظیموں کا پیس کیا گیا ہے ۔جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے تو ہر طرف سے مذمت اور ہنگامی کاروائی کی پرزور صداء بلند ہوتی ہے اس کے بعد پر اسرار خاموشی ۔۔۔۔ایسا آخر کب تک ہوتا رہے گا ؟معروف تجزیہ نگا ر کا کہنا ہے کہ قوم کے ساتھ یہ مذاق ہے کہ دشمن بزدل اور چھپ کر وار کرتا ہے حقیقت اس کے برعکس ہے دشمن سر عام آتا ہے اور وار کردیتا ہے اس کے حمایتیوں کو اس پر فخر ہوتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ دشمن بھاگ رہا ہے اور چھپ کر بزدلانا آخری حملے کر رہا ہے ۔ہمیں بے حیثیت قوم یہ سمجھ اور جان لینا چاہیے کہ ہمارا دشمن کون ہے ؟ اور ہمیں کس طرح نقصان پہنچا رہا ہے؟اس کے خلاف موثر کاروائی ہونی چاہیے ۔کل بھوشن کے نیٹ ورک کی موجودگی میں ایسے حملے ہوتے رہیں گے اس نیٹ ورک کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لانا ضروری ہے حکومت سٹیٹ تو سٹیٹ واضح الفاظ میں اور عملی طور پر بھی ان کے خلاف آئے جو ممالک پاکستان کا امن تباہ کرنے میں مصروف عمل ہیں آخر کب تک ہم اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اٹھاتے اور خود ہی مذمتی بیان دیتے رہیں گے اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے مزید ہمار ی رائے ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا دینی قائدین کے پرزور مطالبے پر پاک سرزمین پر قرآن وسنت کو عملاً نافذ کیا جائے بات جتنی بھی لمبی کر لی جائے نتیجہ یہی نکلے گا کہ مسلمانوں کوامن کیلئے قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔حکومت کو ان عناصر سے بھی باخبر رہنا چاہیے جو ملک کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانے اور یہاں اسلامی نظام میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جن کا مشن پاکستان کو اغیار کی کالونی بنانا ہے ٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas SIddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas SIddiqui: 264 Articles with 159938 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2016 Views: 291

Comments

آپ کی رائے