ملک سانحات کی زد میں، آخر کب تک

(Maryam Arif, Karachi)
مراسلہ: مایام اعوان، لاہور
سانحہ کراچی، پشاور، لاہور ، کوئٹہ اور پھر کوئٹہ،ملک سانحات کی ضد میں ایسا جکڑا ہے کہ ایک کا غم ابھی باقی ہوتا ہے کہ دوسرا ہوجاتا ہے۔ آخر کب تک ہم ہر سانحے کو سوشل میڈیا اچھالیں گے چند آنسو چھلکائیں گے اور یہ اطمینان کرلینے کے بعد کہ ہمارا کوئی عزیز نہیں تھا شکر الحمد ﷲ کہہ کر اپنی زندگی میں مگن ہو جائیں گے۔ ایک اور فائل انصاف کے لیے کھلنے کی بجائے کہیں دفن ہو جائے گی اور وہ ماں باپ جن کے سہارے چھوٹ گئے وہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے قبر میں چلے جائیں گے۔ عام آدمی کے لیے موت سستی اور روٹی مہنگی ہے آکر انصاف کیوں نہیں ملتا۔ ہاں شہید ہو جانے والوں کے گھر والوں کو ایک تھپکی ضرور دی جاتی ہے جو بہت سستی ہے اور ہمارے سیاستدان کراچی سے پشاور تک دھرنے دیں گے۔ مگر امن وامان کے لیے کچھ نہیں کیا جائے گا۔ ہمارا معاشرہ تباہی کے جس دہانے پر کھڑا ہے وہاں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں تباہی کی طرف لے جانے میں کون ذمہ دار ہے۔ ہمارے سیاستدان۔؟ جو بے حسی کی چادر اوڑھے ایک دوسرے سے لڑتے نظر آ رہے ہیں یا ہمارا میڈیا جو کبھی قندیل بلوچ کی ذات کو اچھالتا ہے تو کبھی چائے والے کے حسن کے قصیدے پڑھتا دیکھائی دے رہا ہے یا ہم خود جو دوہرے معیار کے مارے ہیں ہیں خود کو ماپنے کے لیے اور پیمانہ اور دوسروں کے لیے اور۔ یا اسلام سے دوری کبھی کسی مذہب اور مسلک پر جھگڑتے ہیں تو کبھی مذہب کے نام پہ جانیں لیتے ہیں۔ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ اﷲ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے پھر یہ درجہ بندیاں کیوں۔ یہ قتل و غارت یہ لوٹ مار کیوں؟ باخدا آخرت میں یہ سوال نہیں پوچھا جائے گا کہ کوئی بھوکا کیوں سویا تھا، ایک بے گناہ کا قتل کیوں ہوا۔ ہوش میں آیئے اس سے پہلے کہ عمر ختم ہو جائے۔ دوسروں کی آنکھوں کو ویران کرنے کی بجائے اس شمع کو روشن کریں۔ خود کو پہچانیں ہم کس طرف جا رہے ہیں ۔یہ زندگی تو برف کی طرح پگھل رہی ہے۔ ختم بھی ہو جائے گی تو کیوں نا جانے سے پہلے اپنے مقصد حیات کو پہچان لیا جائے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519592 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2016 Views: 264

Comments

آپ کی رائے