مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کی ناکام کوشش

(Habib Ullah Salfi, )
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کی ناکام کوشش

حوثی باغیوں کی طرف سے مسلمانوں کے سب سے مقدس شہر مکہ مکرمہ پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کی کوششوں پر پوری مسلم امہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔یمن میں بغاوت کرنے والے حوثیوں کی جانب سے یہ میزائل حملہ صعدہ صوبے سے کیا گیا تاہم سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی فوج کے دفاعی نظام نے اسے مکہ مکرمہ سے 65کلومیٹر دور ہی فضا میں تباہ کر دیا۔ بعد ازاں عرب اتحاد نے فوجی کاروائی کرتے ہوئے لڑاکا طیاروں کے ذریعے اس مقام کو بھی حملہ کا نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جہاں سے یہ راکٹ داغا گیا تھا۔عرب فوجی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ کی مقدس اراضی کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوششوں سے ان کے مذموم عزائم واضح ہو گئے ہیں۔ جس میزائل سے حملہ کی کوشش کی گئی یہ سکڈ نوعیت کا تھا اور حوثی باغیوں نے ایسے میزائل استعمال کرنے کی تربیت حزب اﷲ سے حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا فضائی دفاعی نظام چوکنا اور اس قسم کے حملوں کو ناکام بنانے کیلئے مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

یمن میں بغاوت کرنے والے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر میزائل حملے دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ چند دن قبل ہی حوثی باغیوں نے یمن کے مآرب اور صعدہ نامی دو مختلف شہروں سے میزائل داغے جن کا ہدف طائف شہر تھا جو مکہ مکرمہ سے صرف 70کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے لیکن سعودی اتحاد کی جانب سے ان دونوں میزائلوں کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر کے دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ماضی میں حوثی باغیوں کے لیڈروں کی جانب سے واضح طور پر مکہ اور مدینہ پر قبضہ کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں تاہم عملی طور پر یہ پہلا موقع ہے کہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ پر حملہ کی کوشش کی ہے۔ یمن میں بغاوت کا آغاز ہوا تو سعودی عرب نے فوری طور پر وہاں فوجی کاروائی شروع نہیں کی بلکہ چار سال تک اس مسئلہ کو پرامن طور پر حل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں سعودی قیادت کو کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں لیکن بعض قوتیں چونکہ یمن کی سرزمین پر فوجی اڈہ بنا کر سعودی عرب کیخلاف گھیراؤ کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا تھیں اس لئے بین الاقوامی سیاست آڑی آئی اور سعودی عرب مخالف قوتوں کی شہ پر حوثی باغی جن کی تعداد یمن کی کل آبادی کا شاید پندرہ فیصد سے بھی کم ہو ‘ نے یمن میں امن کیلئے کئے گئے سمجھوتہ کی خلاف ورزی کی اور یہاں امن و امان کے قیام کی سب کاوشیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ عر اق پر قبضہ اور شام کی صورتحال کے پیش نظر صاف طور پر دکھائی دے رہا تھا کہ سعودی عرب کا چاروں اطراف سے گھیراؤ کیا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں صلیبیوں و یہودیوں کی باغیوں کو مکمل پشت پناہی حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ جب حوثی باغیوں نے بیرونی قوتوں کی مددسے صنعا شہر پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کے دینی مرکز سعودی عرب کیخلاف اعلانیہ طور پر مذموم عزائم کا اظہار کیا جانے لگا تو پھر سعودی عرب نے باقاعدہ فوجی اتحاد بنا کر اس بغاوت کو کچلنے کیلئے عسکری کاروائی کا فیصلہ کیا۔ یمن میں بغاوت کچلنے کیلئے جب سعودی اتحاد نے کاروائی شروع کی تو اسے فرقہ وارانہ اورایران و سعودی عرب کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ یہ بات سرے سے ہی غلط تھی ۔غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے اس وقت بھی کہا تھاکہ یمن میں اٹھنے والی بغاوت قطعی طور پر دو ملکوں کی جنگ نہیں ہے وہاں باغی ایک منتخب حکومت کیخلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں اور سرزمین حرمین شریفین پر حملوں کی کھلی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس لئے انہیں طاقت و قوت کے ذریعہ کچلنا بہت ضروری ہے۔ اس طرح کے باغی جو بار بار سعودی سرحدوں سے دراندازی کی کوشش کرتے اور سرحد کے قریب آکر جنگی مشقیں کی جاتی ہیں کسی ڈھانچے میں فٹ ہونیو الے نہیں ہیں۔آج سعودی عرب کا حوثی باغیوں کو کچلنے کا موقف بالکل درست ثابت ہو رہا ہے اور اس امر کی بھی واضح تصدیق ہوتی ہے کہ یمن میں بغاوت کھڑی کرنے کا اصل مقصد سرزمین حرمین شریفین کو نشانہ بنانا اور اسے کمزور کرنا ہی ہے۔ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جہاں ملکی سطح پر اہم سیاسی فیصلے کئے وہیں یمن میں قیام امن اورحوثی باغیوں کی مکہ ، مدینہ پر حملوں کی دھمکیوں کے پیش نظر ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن شروع کرنا بھی انتہائی اہم فیصلہ تھاجس میں برادر اسلامی ملک کو زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔باغیوں کی کمر ٹوٹتی دیکھ کر وہ اسلام دشمن قوتیں جو یمن کو سعودی عرب کاافغانستان بنانے کے درپے ہیں‘ کے پیٹ میں بہت مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ افغانستان میں شکست پر یمن کو سازشوں کی آماجگاہ بنانے والے اتحادی ممالک کو بھی سعودی عرب کی یہ کامیابیاں ایک آنکھ نہیں بھا رہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح اس کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کیا جائے۔ یہ ملک سعودی عرب کو تو یمن میں جنگ بندی کیلئے کہتے ہیں لیکن حوثی باغیوں کے سرزمین حرمین شریفین کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ روکنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اسلام دشمن یہ قوتیں سعودی عرب کی جانب سے تو جنگ بندی دیکھنا چاہتی ہیں‘ مگرحوثیوں کی بغاوت کچلنے کیلئے ابھی تک انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں اور نہ ہی ایسی ان کی کوئی خواہش دکھائی دیتی ہے جس پر ساری صورتحال بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کون ہے اور حوثیوں کا ہمدرد کون ہے؟بہرحال حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کی کوشش سرزمین حرمین شریفین کیخلاف جاری جنگ کی ایک نئی اور خطرناک پیش رفت ہے جسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حوثی باغی روسی ساختہ جن سکڈ میزائلوں کا استعمال کر رہے ہیں یہ آٹھ سو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگرچہ سعودی فضائیہ نے جنگ کے آغاز پر ہی حوثیوں کے اس اڈے کو نشانہ بنایا تھا جہاں یہ میزائل موجود تھے تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ حوثیوں کے پاس اس وقت بھی یہ میزائل موجود ہیں جن سے سعودی شہروں پر حملوں کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بیت اﷲ شریف کی وجہ سے مکہ مکرمہ مسلمانوں کیلئے سب سے مقدس مقام ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا تھاکہ اﷲ کی قسم! اے مکہ تو اﷲ کی ساری زمین سے بہتر اور اﷲ تعالیٰ کو ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے‘ اگر مجھے تجھ سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں ہرگز نہ جاتا۔اپنے گھر بیت اﷲ کی حفاظت اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے ۔ وہ ابرہہ کے ہاتھیوں کے لشکر کو چھوٹے پرندوں کے ذریعہ نیست و نابود کرسکتا ہے تو آج بھی صلیبیوں ویہودیوں کی پشت پناہی پر اس مقدس سرزمین کیخلاف سازشیں کرنے والوں کو ایک لمحے میں تباہ وبرباد کر سکتا ہے۔تاہم اصل امتحان تو دور حاضر میں موجود مسلمانوں کا ہے کہ وہ اس موقع پر کیا کردار ادا کرتے ہیں؟۔حقیقت یہ ہے کہ مکہ مکرمہ پر حملہ کی کوشش مسلمانوں کے دل پر ہاتھ ڈالنے والی بات ہے۔ یہ مسئلہ سیاسی یا علاقائی نہیں بلکہ ہر مسلمان کے عقیدے و ایمان کا مسئلہ ہے۔اس لئے دل میں ذرہ بھر ایمان رکھنے والا کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی ایسی ناپاک جسارت پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ مسلم حکمرانوں کو اس معاملہ پر ہر قسم کے ذاتی و سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے اور سرزمین حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوششیں کرنے والے باغیوں کو بزور قوت کچلنے کیلئے سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیے۔ حوثیوں کے حالیہ حملہ سے اس پروپیگنڈا کی بھی قلعی کھل گئی ہے کہ یمن میں عرب اتحاد کی کاروائی سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ اگر سعودی عرب کی زیر قیادت عرب ممالک کی فضائیہ حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کا آغاز نہ کرتی تو اس وقت حالات بہت مختلف اور امت مسلمہ کے روحانی مرکز کیلئے اور زیادہ سخت خطرات کھڑے ہوجاتے۔اس لئے یہ بات طے شدہ ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے یمن کی سرزمین پر موجود بغاوت کا کچلنا بہت ضروری ہے۔ حق اور باطل کی اس لڑائی میں سب مسلم ملکوں کو متحد ہو کر دشمنان اسلام کے مذمو م منصوبے ناکام بنانے کیلئے بھرپو رکرداراد ا کرنا چاہیے۔ پاکستان پر جب کبھی بھی کوئی مشکل وقت آیا ہے سعودی عرب ہمیشہ ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوا ہے۔ اس وقت جب وہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے توپاکستانی حکومت کابھی فرض بنتا ہے کہ وہ دیگر مسلمان ملکوں کو بھی ساتھ ملا کربرادر اسلامی ملک کے ساتھ کھڑاہواور ان کی ہر ممکن مددوحمایت کی جائے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Habib Ullah Salfi

Read More Articles by Habib Ullah Salfi: 193 Articles with 83783 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2016 Views: 439

Comments

آپ کی رائے