سیاست ختم، جنگ شروع……حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

(عابد محمود عزام, Lahore)
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کررہا ہے اور سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد پر مسلسل گولہ باری کر رہا ہے اور بھارت کی جانب سے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، بھارت کے جنگی جنون کو دیکھتے ہوئے عالمی ماہرین جنگ کے امکانات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگرد کھل کر قوم کو کوئٹہ جیسے سانحات سے دوچار کر رہے ہیں، ایسے وقت میں حکمران جماعت کا ملکی مفادات پس پشت ڈال کر اپنی کرپشن چھپانا اور پانامالیکس کے معاملے میں خود کو بچانا، جبکہ پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے دھرنے کے نام پر 2نومبر کو اسلام آبادکو بندکرنے کا اعلان کرنا افسوسناک ہے۔ 2 نومبر ہونے میں کچھ دن باقی رہ گئے ہیں اور سیاسی تلخی میں ہر گزرتے لمحے اضافہ ہو رہا ہے۔دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں محض نواز شریف کا احتساب چاہتی ہیں، جبکہ حکومت خود کو بچا کر سب کے احتساب کی متمنی ہے، تاکہ ندامت کا سامنا وہ اکیلے ہی نہ کریں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب آف شور کمپنیوں کے ضمن میں انکوائری ہو گی تو فرم جرم عائد ہونے پر زیادہ نقصان شریف خاندان کا ہو گا، کیونکہ وہ اقتدار میں ہے۔ بہرحال دو بدو لڑائی جاری ہے۔ نواز شریف اور عمران خان قومی اداروں کو مضبوط کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ۔نواز شریف کو خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ عمران خان کی آخری کوشش یہی ہے کہ وہ نواز شریف کوکسی طرح ان کے عہدے سے ہٹا نے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن اس لڑائی میں نقصان صرف عوام اور ملک کا ہی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے تاجر برادری اور طلبہ و طالبات نے پی ٹی آئی کے دھرنے کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند نہ کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ ان کومعلوم ہے کہ اسلام آباد بند ہونے کی صورت میں اسلام آباد کے باسیوں کے لیے مسائل پیدا ہوں گے اور اسلام آباد میں دھرنے کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست بھی غیرسیاسی حلقے کی جانب سے دی گئی تھی۔ اگر عمران خان کا دھرنا اسلام آباد میں طویل ہوتا ہے تو نہ صرف اسلام آبادکا نقصان ہوگا بلکہ پورے ملک کی معیشت کا نقصان ہوگا، کیونکہ دھرنے کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑیں گے اور دنیا بھر میں بھی اچھا تاثر نہیں جائے گا۔

عمران خان ہرصورت 2نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے پرتلے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت آمرانہ رویہ اپناتے ہوئے ان کے جمہوری حق احتجاج کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جب دونوں فریق ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، عین اس وقت میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو کنٹینرز لگا کر اور تحریک انصاف کو دھرنے سے وفاقی دارالحکومت کوبند کرنے سے روک دیاہے، جو قابل ستائش امر ہے۔ مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 2نومبرکے دھرنا کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف کمشنرکویقین دہانی کروانے کی ہدایت کی کہ کوئی سٹرک، سکول، ہسپتال بند نہیں ہوگا اورنہ ہی امتحانات کا شیڈول تبدیل کیا جائے گا اور یہ کہ حکومت کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند نہیں کر ے گی۔ عدالت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کو ہدایت کی کہ عمران خان کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے کہ وہ دھرنے کے لیے مخصوص جگہ پر اپنا حتجاج کریں۔ مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اس عبوری فیصلے میں سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے حق سے انکار نہیں کیا گیا، بلکہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ ایسے احتجاج کے دوران دیگر شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ آجانے کے بعد بھی دونوں فریق اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے راضی نہیں ہیں۔ ایک جانب تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ دھرنا ہر قیمت پر ہوگا، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں دھرنے سے نہیں روک سکتی۔ ہمارے لوگ رکنے والے نہیں ہیں اور انہیں کوئی روک نہیں سکے گا اور مختلف شہروں سے پی ٹی آئی کے کارکن پیدل ہی اسلام آباد دھرنے میں شرکت کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے دو نومبر کو اسلام آباد کے مرکزی دھرنے کے لیے زیرو پوائنٹ سے لے کر فیض آباد تک پانچ کلو میٹر کو فائنل کر لیا ہے۔ عمران خان نے پارٹی لیڈر شپ کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے ممکنہ گرفتاریوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ابھی سے اپنی سرگرمیاں محدود کرلیں اور ابھی سے اسلام آباد کے قرب و جوار میں آجائیں، جبکہ پی ٹی آئی کی متعدد قیادت اور کارکنان گرفتاریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ابھی سے صوبہ کے پی کے میں شفٹ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں ایسی چیزیں ہیں جن سے ہم متفق نہیں، ان احکامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور انہیں عدالت میں چیلنج کرنے پر غور کر رہے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ احکامات دائرہ اختیار سے باہر نکل کر جاری کئے گئے۔ ہمیں سنے بغیر حکم جاری کیا گیا۔جبکہ دوسری جانب ذرایع کے مطابق وفاقی وزارت خزانہ نے اسلام آباد میں رینجرز پنجاب پولیس کی بھاری نفری اور کنٹینرز کے لیے 46 کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔ حکومت نے ابھی سے اسلام آباد کو کنٹینر لگاکر بند کردیا ہے۔جو کام پی ٹی آئی نے دو نومبر کو کرنا تھا،حکومت نے ابھی سے تمام سڑکوں پر کنٹینر لگا کر کردیا ہے۔ تمام روڈ بلاک کردیے گئے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں انتظامیہ نے تحریکِ انصاف اور عوامی مسلم لیگ کی ریلی کے پیشِ نظر لال حویلی کے اردگرد کا علاقہ سیل کر دیا ہے۔بنی گالہ میں عمران خان کے گھر کو ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری نے محاصرے میں لے لیا۔اس دوران عمران خان کے گھر آج کے ملک گیر احتجاج کے حوالے سے اہم اجلاس جاری تھاجس کی صدارت عمران خان کر رہے تھے جبکہ جہانگیر ترین ،شاہ محمود قریشی،عبدالعلیم خان، اسد عمر اور د وسرے اہم رہنما بھی اجلاس میں موجود تھے۔ انتظامیہ نے جلوس اور امن و امان کے مدنظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس کو بھی تاحکمِ ثانی بند کر دیا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے پہلے ہی شہر میں دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع کے علاوہ لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عاید ہے۔ اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اگلے ماہ 2 نومبر کو پاناما لیکس اور کرپشن کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے جارہی ہے اور عمران خان کا مطالبہ کہ وزیراعظم نواز شریف یا تو استعفیٰ دیں یا پھر خود کو احتساب کے لیے پیش کردیں۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت دونوں ہی تیاریوں میں مصروف ہیں، ایک طرف پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کو دھرنے کی تیاریوں کا کہہ رکھا ہے وہیں پولیس کی اسپیشل برانچ نے حکومت کو ان افراد کی فہرستیں فراہم کردی ہیں، جنہیں اسلام آباد کے محاصرے سے قبل گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد کے ایف الیون میں تحریک انصاف کے جاری یوتھ کنونشن پر پولیس نے دھاوا بول کر درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا گیاہے، اس موقع پر پولیس کی جانب سے خواتین کارکنوں سے بدسلوکی اور ہاتھا پائی بھی دیکھنے میں آئی۔اسلام آباد میں ہونے والے تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن کے دوران اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب پولیس اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان آمنے سامنے آگئے۔ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن کے باہر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے 120نوجوان گرفتار کرلیے۔ گرفتار افراد میں آئی ایس ایف کے صدر بھی شامل ہیں، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ پولیس کی یوتھ کنونشن میں پکڑ دھکڑ جاری تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی وہاں پہنچ گئے، اس موقع پر ان کا کہنا ہے کہ آج مسلم لیگ ن کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ، تحریک انصاف کی نہتی خواتین پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی سڑک بند نہیں کی، کسی نے ہمارے ہاتھ میں اسلحہ نہیں دیکھا، ہمارا پروگرام چار دیواری کے اندر تھا، دفعہ 144کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، ہم کھڑے تھے، ہمیں گرفتار نہیں کیا گیا، بلکہ بچوں کو گرفتار کیا گیا، ہمیں پرامن یوتھ کنونشن سے کیوں روکا جارہا ہے؟پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو تماشہ ہوجائے گا، حکومت نہیں چل سکے گی۔ گرفتاری کی گئی تو شدید عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری پر کارکن سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت کسی بھی ایسے عمل سے باز رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دس لاکھ سے زائد لوگ اسلام آباد آئیں گے۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گائی ہے۔ ذرایع کے مطابق ملک بھر میں پی ٹی آئی کے متحرک رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کے لیے لسٹیں تیار کی جارہی ہیں، حکومت کیجانب سے کارکنوں کی گرفتاری کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریا ور تشدد کی مذمت کی گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اسے جمہوریت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے حکومت بوکھلا گئی ہے۔احتجاج کرنا ہرشہری کا حق ہے، جس سے روکنا کا حکومت کوکوئی حق نہیں ہے۔ سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کا دھاوا قابل مذمت ہے، حکومت کا ایکشن پی ٹی آئی کی تحریک کو کامیاب کرنے میں مدد دے گا۔ حکومت خود اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے میں لگی ہوئی ہے، حکومت پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے جگہ مختص او ر آمد کے لیے راستے بنا کر دے، حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی پابندی کرنی چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنوں کی پکڑدھکڑ نہیں ہونی چاہیے تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے نے سیاسی فضا میں ارتعاش پیدا کردیا ہے۔ عدالت عمران خان اور حکومت کو درمیان کا راستہ دینا چاہتی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کوا حتجاج کرنے سے نہیں روکا ہے، عدالت نے انتظامیہ کو بھی کنٹینر لگا کر شہر بند کرنے سے روکا ہے، عدالت کہہ رہی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی مل کر فیصلہ کریں کہ احتجاج بھی ہو اور لوگوں کے حقوق بھی پامال نہ ہوں۔ حکومت نے پی ٹی آئی کارکنوں پر دھاوا بول کر 27اکتوبر کو ہی وہ کام کردیا جو عمران خان دو نومبر کو کرنا چاہ رہے تھے۔ حکومت سمجھداری سے کام لیتی تو عدالت کا حکم اپنے فائدے کیلئے استعمال کرسکتی تھی، پاکستان میں سیاست ختم اور جنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ جو یقینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417470 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2016 Views: 314

Comments

آپ کی رائے