شریعت اسلامیہ ہی زدپہ کیوں؟

(Mohsin Raza, India)
 یہ امر سب پرخوب واضح ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اس کے ہر اصول وقوانین نہایت ہی آسان اور سب کے لئے یکساں ہیں ،اسلام انسانی مساوات،حقوق کی بازیافت اور آپس میں پیارومحبت کی بات کرتا ہے ۔یہ دنیا کے تمام مذاہب جن میں خاص طور پر عیسائی،یہودی ،ہندو اور سکھ اور ان علاوہ بھی دیگر مذاہب ہیں،جن میں سب سے زیادہ اعتدال پسند،اور افراط وتفریط سے یکسر خالی مذہب صرف اسلام ہے ،یہ میں محض ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے نہیں کہہ رہاہوں بلکہ اس کی ہدایات وتعلیمات اور احکام وشرائع سے جگ ظاہر ہے ۔بے شمار غیر مسلم محققین اور سائنسدانوں کا اسلام کے بارے میں بہت اچھا خیال ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اسلام دنیا کا ایک عالم گیر اور ہمہ جہت مذہب ہے جو صرف امن وآشتی ،الفت ومحبت اور وسطیت واعتدال کا گہوارہ ہے ۔اس میں افراط وتفریط کا کچھ بھی عمل دخل نہیں ہے۔لہذا اسلام کے کسی بھی پہلو اور گوشے سے اعراض وانحراف کرنا یہ عقل وفہم کے صریح خلاف ورزی ہے ۔خیال رہے کہ یہاں صرف شریعت اسلامیہ اور موجودہ پیش آمدہ مسائل کو ضبط تحریر میں لانا مقصد ہے۔

اس سلسلے میں ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ پر تدریج بتدریج قرآن پاک پورا نازل فرمایا جس کو قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے راہِ ہدایت اور قانونِ اِلٰہی قراردیا،اسی طرح بانئی اسلام ﷺ کے اقوال وافعال اور تعلیمات وہدایات کوبھی قانونِ اسلام یا شریعت اسلامیہ کہا جاتا ہے ۔گویاکہ قرآن پاک اورپیغمبراسلام ﷺکی تعلیمات وہدایات ہی شریعت اسلامیہ ہے جس میں کسی بھی طرح کی ترمیم وتبدیلی کی گنجائش نہیں ہے ۔بلکہ اس میں بے جا مداخلت ناقابل برداشت اور ناقابل معافی جرم ہے ۔بہت سی مرتبہ اس میں ترمیم وتبدیلی کی ناجائز کوششیں بھی کی گئی ہیں لیکن مخالفین شریعت کو ہر مرتبہ کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔اور اب پھر شریعت میں بے جامداخلت کرکے شریعت اسلام اور مسلمانانِ ہند کو چیلینج کیا گیا ہے ۔

حالیہ چند دنوں سے ملک میں’’طلاق ثلاثہ ‘‘ کے شرعی اور اسلامی موضوع پر الیکٹرانک وپریس میڈیاسے لے کر سوشل میڈیا تک کہ گرما گرم بحث وتمحیص کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔آج اس معاملے میں ہر وہ شخص عالم ومفتی بنا ہوا ہے،جس نے کبھی شریعت کی کسی کتاب کو پڑھنا تو بہت بعید دیکھا تک بھی نہیں ہے ،دس بارہ سالوں تک اپنے گھر کو خیرباد کہ کر ملک کی بڑی بڑی دانش گاہوں اور مدارس وجامعات کی خاک چھاننے والے اور وہاں سے خوشہ چینی کرکے عالم ومفتی کی سند واعزاز حاصل کرنے والے سیکو لر افراد کی نظروں میں فقہی بصیرت اور علمی وراثت سے عاری سمجھے جارہے ہیں یہی نہیں بلکہ انہیں دقیانوسی خیال کا حامی بھی تصور کیا جارہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ایسے لوگ مرکزی حکومت کے خود ساختہ مفتی ہیں جو حکومت کی گود میں بیٹھ کراس کے اشاروں پر گمراہ کن فتوے صادرکررہے ہیں ۔ان جعلی فتویٰ دہبدوں کی مثال اس شعر سے کچھ کم نہیں ہے ۔ ؂
میں مفت کا مفتی ہوں کوئی پوچھ کے ذرا دیکھے
ہر فتویٰ بتادوں گا شریعت کے علاوہ میں

بہرکیف! جہاں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ آف انڈیامیں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں نکاح وطلاق وغیرہ کو لے کر ترمیم وتبدیلی اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بات کہی ہے۔وہیں ملک کی بدنام زمانہ بے لگام الیکٹرانک میڈیا شریعت اسلامیہ اور اس کے شرعی اصول وقوانین کے خلاف لوگوں پر اپنے زہریلے اثرات ڈالنے کی رذیل حرکتیں انجام دے ہی ہے۔یقینا شریعت اسلامیہ میں بے جا مداخلت اور میڈیا کی اس طرح غیر ذمہ دارانہ حرکت یہ دونوں ہمارے لئے کسی بھی صورت میں ناقابل برداشت ہے۔یہ درحقیقت دستور ہند میں صرف مسلم پرسنل لاء نہیں ،بلکہ مذہبی حقوق کے تحفط کی دی گئی ضمانت کے بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حکومت اور میڈیا شریعت اسلامیہ کے خلاف باہم سامنے آئے ہوں بلکہ ماضی میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ شرعی احکام ومسائل میں حکو مت کی جانب سے اس طرح کی ترمیم وتبدیلی کی بے جا مداخلت کی کوششیں کی گئی ہیں،اور انہیں ایشو بنا کر شریعت کا خوب مزاق اڑایا گیا ہے،یہی نہیں بلکہ ان کے ذریعہ غلیظ سیاست کا بوجھ اپنے کندھوں پر لادنے والے سیاست دانوں نے اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے کا گھنونہ فعل بھی انجام دیاہے۔آج بھی طلاق ثلاثہ وغیرہ جیسے شرعی واسلامی احکام ومسائل پر موجودہ سیاست دانوں کے سیاسی عزائم صاف جھلک رہے ہیں اس کی ایک واضح مثال ملک میں برسر اقتدار مودی حکومت ہے جو اسلام اور ملک دشمن تنظیم سنگھ پریوار کی ایک سیاسی شکل ہے جو بولتی ہے تو زہریلے بول بولتی ہے ،کرتی ہے تو مذہب اور ملک مخالف کام کرتی ہے۔یہ ہمیشہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب اوریہاں کی مختلف النوع رنگا رنگی کے خلاف انتہائی خطرناک ثابت ہوئی ہے ۔

جس نے اپنے ناجائز وجود سے لے کر اب تک اسلام کوپے درپے بدنام کرنے ،اس کی تعلیمات واحکامات اورشریعت کے تابناک چہرے کو داغدار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔جس طرح سنگھ پریوار مسلم اور اسلام مخالف تنظیم ہے اسی طرح من وعن برسراقتدار حکومت ِ بی جے پی بھی انتہائی طور پراسلام مخالف تنظیم ہے۔جس کے حالیہ اس سیاسی پروپیگنڈے سے صاف طور پر ظاہر ہوگیا کہ اس کی کس قدر شریعت اسلامیہ اور اس کے عائلی اصول وقوانین کے بارے میں ناپاک عزائم اور گھنونی سازشیں ہیں۔
زعفرانی تنظیم کے اقتدار میں آنے کے روزِ اول ہی سے یہ ارادے صاف تھے کہ ملک میں ایک ایسی مکدر فضا قائم کی جائے جس کی زد میں اسلام اور اس کے شرعی اصول واحکام کلی طور پر آجائے ۔اس کے لئے زعفرانی تنظیم کو ایک لمبے عرصے تک کا انتظار کرنا پڑا اور بالآخر اسے قوانین شریعت سے ناواقف کارچند سیکولر خواتین کے احمقانہ وبیوقوفانہ عمل وفعل سے اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل کا موقع مل گیاجس میں وہ انتہائی طور پر مستعدوسرگرم عمل ہوگئی ۔چند مسلم خواتین نے ’’طلاق ثلاثہ ‘‘کے مسئلے پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ،جس کے بعد حکومتِ ہند نے شریعت اسلامیہ میں مداخلت کرتے ہوئے ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کو عورتوں کے لئے ظلم وتشدد اور عدم مساوات کا مسئلہ قرار دیا ،یہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں مرکزی حکومت نے۲۸ صفحات پر مشتمل ایک حلف نامہ دائر کیا جس میں تین نکات پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔وہ تینوں نکات بالترتیب یہاں پیش کئے جارہے ہیں جنہیں پڑھ کرمعلوم ہوسکے گا کہ حکومت ہند کی شریعت کے خلاف یہ کتنی بڑی سازش ہے۔
(۱)طلاق ثلاثہ ضروری اسلامی اصولوں میں سے نہیں ہے ۔یعنی اگر ’’طلاق ثلاثہ ‘‘ پر پابندی عائد بھی کردی گئی تواس پابندی سے اسلامی شریعتاور اسلامی اصولوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔
(۲)ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو -کیا مرداور کیا خواتین-یکساں حقوق فراہم کرتاہے۔یعنی طلاق ثلاثہ کے ذریعہ آئین کے فراہم کردہ یکساں حقوق کے خلاف ورزی ہوتی ہے،کیوں کہ مرد یک طرفہ طور پر تین بار طلاق بول کر عورت کو چھوڑ دیتا ہے ،لہذا آئین کے فراہم کردہ حقوق کو یقینی بنانے کے لئے طلاق ثلاثہ پر پابندی لگنی ہی چاہیئے۔
(۳) خواتین کی عزت نفس سے کھلواڑ کرنے والوں سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔یعنی یہ کہ طلاق ثلاثہ کا عمل اس ملک کی مسلم خواتین کی عزت نفس سے کھیلنے کا عمل ہے لہذا اس پر پابندی ضروری ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے نکات ہیں جن میں شریعت کے اور بھی دیگر احکام ومسائل کو حرف تنقید اور نشانہ طعن بنایا گیا ۔

قارئین کرام! اب ذرا ان متذکرہ بالا نکات کو بغور پڑھیں اور از خود فیصلہ کریں کہ حکومت طلاق ثلاثہ کو موضوع بناکر یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے آخر موڑ میں کیوں ہے ؟آج مسلم خواتین سے اتنی ہمدردی اور دردمندی کیوں ؟ملک کو آزاد ہوئے ستر سال کا ایک طویل عرصہ ہوگیا کیا مسلم خواتین کی عزت وعظمت اور طلاق ثلاثہ جیسے شرعی مسئلے کو سمجھنے میں اتنے سال لگ گئے ؟آج طلاق ثلاثہ کو غیر آئینی اورعورتوں کے خلاف ظلم وتشدد بتاکر شریعت میں ترمیم وتنسیخ اوربے جا مداخلت کی مذموم کوشش کرنے والی حکومت مسلم خواتین پر آخراتنی کیوں مہربان ہے ؟کیا کبھی بیوہ ، مفلوک الحال اور ضعیف مسلم خواتین پرجو اپنے یتیم بچوں کے ساتھ غربت وافلاس کا شکار ہوکر پھٹ پاتھ پر زندگی گزار نے پر مجبور ہیں ان کے ان حالات زار پرکبھی دو بند آنسو بہائی ہے؟اس طرح کے اور بھی مسلم خواتین کے مسائل ومعاملات ہیں جن پر حکومت کو واقعی آنسوبہانے کی ازحدضرورت ہے ۔’’طلاق ثلاثہ‘‘یہ کوئی ایسا موضوع ہی نہیں ہے جوحکومت کے لئے تشویش کا باعث بنے ,بلکہ محض یہ ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی ایک طرح سے گھنونی اور مذموم سازش ہے جس کے عملی جامے کے لئے طلاقِ ثلاثہ اور دیگرشرعی مسائل واحکام کو منصوبہ بند طریقے سے ایشوبنایا گیا ۔لہذا ہر حال میں حکومت مسلم پرسنل لاء میں بے جا مداخلت سے باز آئے اور ’’طلاق ثلاثہ پر مزید مگر مچھ کے آنسو نہ بہائے ۔
اخیرمیں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر شریعت اسلامیہ ہی کو کیوں نشانہ بنایا جارہاہے ؟ ہندوستان تو کثیر المذاہب والاملک ہے ۔اس کی زد میں اور بھی دیگر مذاہب آسکتے تھے لیکن شریعت اسلامیہ ہی کیوں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو ذہن میں بار بار گردش کررہاہے اور ذہن وعقل کو ورطہ حیرت میں ڈالے جارہا ہے۔اس کے بہت سے علل واسباب ہوسکتے ہیں لیکن یہ صاف طورپر کہا جاسکتا ہے کہ آج جو شریعت اسلامیہ اور اس کے اصول واحکام کو حرفِ تنقید اور نشانہ طعن بنایا جارہاہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے جس کو ہر ذی علم شخص جانتا ہے کہ اسلام کے چہار دانگ عالم میں بڑھتے ہوئے قدموں نے اسلام مخالف طاقتوں کی راتوں کی نیند اڑادی ہیں اورانہیں انتہائی فکرمند بنادیا ہے۔اسی لیے انہوں نے اسلام کو پے درپے بدنام کرنے کے لیے کئی ایک منصوبے بنارکھے ہیں،جن میں سے ایک منصوبہ’’ مسئلہ طلاق ثلاثہ ‘‘ہے ۔

لہذا اب وقت آگیا ہے کہ تمام مسلمان تحفظ شریعت کی خاطر باہم شیر وشکر ہوکرآگے آئیں اورپر امن طریقے سے اپنے فلک شگاف نعروں اور صدائیں احتجاج سے حکومتی سطح پرمسلم پرسنل لاء میں بے جا مداخلت کی پرزور مذمت کریں۔

(مضمون نگار اردو،عربی اور انگریزی کے مترجم ہیں)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohsin Raza

Read More Articles by Mohsin Raza: 16 Articles with 12836 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2016 Views: 673

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ