صوبائی وزیر اعلیٰ کاسرکاری پروٹوکول میں وفاق کے خلاف احتجاج جائز یا ناجائز؟

(Abu Sanwal, Karachi)
آج کا دن خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں اسلام آباد لاک ڈاؤن کیلئے آنے والے قافلے اور پنجاب پولیس کے درمیان جھڑپوں سے موسوم ہے۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ صاحب نے اسے وفاق اور ایک صوبے کے درمیان لڑائی سے تعبیر کرتے ہوئے خطرناک قرار دیا ہے ۔ہمارے خیال میں انکا مطلب یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ سے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والوں کو کھلی چھوٹ دے کر وفاق کو مضبوط رکھنا چاہیے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پرویز خٹک صاحب اپنے قافلے کے ساتھ وفاق کو مضبوط کرنے اسلام آباد تشریف لارہے ہیں۔ہائی کورٹ کی اس مدعہ پر کاروائی نے لاک ڈاؤن کی قطعی مخالفت کی ہے اور تحریک انصاف کو کسی بھی گراؤنڈ میں جلسہ کرنے یا دھرنا دینے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے لیکن عمران خان صاحب نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ انکا کام لاک ڈاؤن سے کم پر نہیں چل سکتا اور وہ ایسے کسی فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے جو انہیں پُر امن اور دائرہ کار میں احتجاج میں رکھے۔

اگر سیاست میں اس عمل کو درست مان لیا جائے کہ کسی پارٹی کی صوبائی حکومت پارٹی پالیسی کے تحت پوری صوبائی حکومت سمیت وفاق یا کسی دوسری صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج میں شامل ہو تو یہ مہذب سیاست کی بجائے انارکی کو جنم دینے والی بات ہے۔اگر خیبر پختون خواہ کی پارٹی پوری طاقت سے احتجاج میں شامل ہونا چاہتی ہے تو اسے صوبائی حکومت سے دستبردار ہوجانا چاہیے اسکے بعد پارٹی کارکنوں کے ساتھ مکمل طور پر احتجاج انکا حق ہوگا۔

صوبائی حکومت کے احتجاج کے حق کو تسلیم کر لیں تو پھر مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کو صوبوں کے خلاف احتجاج کے حق سے کیو نکر محروم رکھا جاسکتا ہے۔؟یہ ممکن نہیں کہ پرویز خٹک صاحب یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ انکے قافلے میں سرکاری وسائل قطعی طور پر استعمال نہیں ہورہے۔وہ بطور وزیر اعلیٰ اور انکی کابینہ کے انصافی وزیر سرکاری وسائل کے بغیر پارٹی فنڈز سے قافلے بنا رہے ہیں ۔جو گاڑیاں اور کرینیں وہ ساتھ لے کر چل رہے ہیں ان پر سرکاری وسائل خرچ نہیں کیے جارہے۔اس احتجاجی تحریک میں پولیس کے ساتھ ہونے والی مڈبھیڑ میں زخمی ہونے والے کارکنان کا علاج آپ کے اسپیشل احکامات پر نہیں کیا جائے گا۔ کھانے،پینے، رات کے بستر اور سردی سے بچاؤ کیلئے کیاہر کارکن گھر سے انتظام کرکے نکلا ہے؟ یہ اور کئی ایسے سوالات جس کا جواب پرویز خٹک نہیں دینا چاہیں گے۔ تحریک انصاف نے خیبر پختون خواہ میں مخلوط حکومت بنائی ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ انکے پاس صرف اکثریتی مینڈٹ ہے ۔اگر انکے حکومتی اتحادی بھی انکے ساتھ احتجاج میں شامل ہوتے پھر بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی عوام کے نمائندے ہیں لیکن یہاں تو صورت حال ایسی بھی نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ خیبر پختونخواہ کے تمام حقوق بشمول وفاق پر چڑھائی پرویز خٹک صاحب کو دے دیے جائیں ۔ یہ کسی طور بھی مناسب نہیں ہوگا۔

ہم یہ بات کرسکتے ہیں کہ پولیس کو تشدد سے گریزکرنا چاہیے تھا۔رکاوٹیں کھڑی نہیں کرنی چاہیے تھیں۔خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ اور انکی کابینہ کے اراکین کے علاوہ انکی قیادت میں آنے والے تحریک انصاف کے عہدیداران و کارکنان کو پوری عزت کے ساتھ اسلام آباد آنے دینا چاہیے تھا بلکہ اور زیادہ مناسب ہوتا کہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے موٹر وے پر انکے لیے استقبالیہ کیمپ لگائے جاتے جہاں وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وزیر اعظم تشریف لاتے تاکہ وفاق مضبوط ہوتا اور دنیا کو ہماری جمہوریت کی مضبوطی کا پیغام جاتا۔ صرف بات یہیں تک نہیں رکھنی چاہیے تھی بلکہ وفاقی حکومت کو وزیر داخلہ کی ڈیوٹی لگانی چاہیے تھی کہ وہ انکے لیے تمام لوازمات(اس سے مراد قطعی غلط نہ لیں) کا اہتمام کرتے۔یہ یقین کرکے کہ عمران خان لاک ڈاؤن کی بات صرف دل لگی یا سیاسی طور پر کررہے ہیں تمام انتظامات ہونے کے بعد محب وطن پاکستانیوں کے سپرد اسلام آباد کر کے خود بھی چین کی نیند لیتے اور انہیں بھی راتوں کا کنسرٹ کرنے دیتے۔ یقیناً وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے اس خیر سگالی کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے خورشید شاہ صاحب،مصطفیٰ کمال صاحب،نبیل گبول صاحب،پرویز الہیٰ صاحب،مولانا طاہر القادری صاحب ،شیخ رشید صاحب جیسے جلیل القدر سیاسی زعما وفاقی حکومت کی واہ واہ کرتے۔جمہوریت مضبوط ہوتی اور انصاف کا بول بالا ہوتا۔

اگر وفاقی حکومت کی اس وسعت دل گیری اور جمہوریت پر غیر متزلزل یقین کے باوجود کچھ شر پسند اسلام آباد پر قبضہ کر لیتے اور وزیر اعظم کے سکریٹریٹ سمیت اہم اداروں کی عمارتوں میں گھس کر وزیر اعظم کو چلتا بھی کردیتے تو کیا برائی تھی کم از کم محترم نواز شریف اور شہباز شریف کی شرافت اور جمہوریت پسندی کا رہتی دنیا تک نام تو رہتا ۔اور عمران خان کا کیا وہ تو بھولے بھالے انسان ہیں ان حالات میں قابضین ان سے شفاف حکومت کی تشکیل کی فرمائش کرتے تو وہ منع کاہے کرتے مجبوراً قبول کر ہی لیتے ۔ تحریک انصاف کی حکومت ہوتی تو پھر کسی اور انصاف کی ضرورت ہی کیا رہے گی۔انصاف عدالت،انصاف میڈیکل،انصاف روزگار،انصاف میڈیا،انصاف صحافی،انصاف کاروبار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ملک میں انصا ف لاگو ہوتے ہی ملک کے اندر شفافیت چمکنے لگتی لاکھوں چور۔ڈاکو،وائٹ کالر کرائم والے،کرپٹ بیورو کریسی،منافع خور کاروباری،ٹیکس چور بزنس مین،لفافہ خور صحافی،ایجنٹ میڈیا گروپ،بد معاش پولیس افسران،رشوت خور سرکاری اہلکار لائن در لائن آتے اپنے جرائم کی توبہ کریں گے اور لوٹی گئی رقم قومی انصاف خزانے میں جمع کروا دیں گے۔خزانہ بھرتے ہی روزگار کے دروازے کھل جائیں گے ،پاکستان کے اندر اور باہر کشکول توڑ دیے جائیں گے ،بینکوں پر قرض دینے کی پابندی ہوگی(چونکہ ریاست قرض پر چلنا پسند نہیں کرے گی تو عوام کو کیوں قرض دار بنائے گی)۔ہر قسم کے غیر ملکی تسلط سے پاکستان آزاد ہوجائے گا۔بھارت ہاتھ جوڑ کر کشمیر حوالے کر دے گا (ایک منصف حکومت اور انصاف پرور قوم کے سامنے مردود ،تنگ نظر مودی کہاں کھڑا رہ پائے گا)،پاکستان پوری آب و تاب سے دنیا کے نقشہ پر چمکے گا۔بلوچستان کا بحران پلک جھپکتے ہی ختم،صوبوں کے درمیان کالا باغ منصوبے جیسے زیر التوا امور ایک دن کی مار، اور تو اور دہشت گرد کان پکڑتے توبہ توبہ کرتے بخشش کی صدائیں دیں گے ۔سندھ کو گیس،ٹیکسز اور آمدنی کے تمام ذرائع سے حاصل تمام آمدنی پر حق حاصل ہوجائے گا۔ بس اب ہمارے قلم میں مزید مسقبل کی منظر کشی کی تاب نہیں ۔لیکن برا ہو نواز شریف،شہباز شریف اور چوہدری نثار کا جنہوں نے خیبر پختونخواہ کے قافلے کو موٹر وے پر روکنے کی غلطی کی۔وفاق کو کمزور کردیا ۔پاکستان کے عوام کے اچھے مستقبل کا وہ خواب جو عمران خان نے شیخ رشید کے ساتھ مشترکہ طور پر عوام کی جانب سے دیکھا تھا چکنا چور کرنے کی بھونڈی کوشش کی۔تُف ہے ایسی وفاقی حکومت پر جسے جمہوریت پر ذرا بھی یقین نہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abu Sanwal

Read More Articles by Abu Sanwal: 15 Articles with 6625 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Nov, 2016 Views: 376

Comments

آپ کی رائے